رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے ��ور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
صحیح بخاری: 7375
حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چناچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتادو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور پوچھا:
’’میرے دونوں بیٹے یعنی امام حسن و حسین کہاں ہیں؟‘‘
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
’’آج صبح سے ہمارے گھر میں کھانے پینے کی کوئی ایسی چیز نہیں کہ کوئی اسے چکھ بھی سکے۔‘‘
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا:
’’میں انہیں اپنے ساتھ لے جاتا ہوں، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ دونوں تمہارے پاس رہ کر روئیں گے اور تمہارے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا۔‘‘
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں ب��وں کو لے کر ایک یہودی کے پاس چلے گئے۔
رسول اللہ ﷺ بھی ان کے پیچھے تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ایک چھوٹے سے تالاب نما گڑھے میں کھیل رہے ہیں اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی ہوئی ہیں۔
آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’اے علی! کیا تم اپنے دونوں بیٹوں کو واپس گھر نہیں لے جاؤ گے، اس سے پہلے کہ گرمی بہت بڑھ جائے؟‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "ہم نے صبح کی تو گھر میں کچھ نہ تھا، سوچا یہیں بیٹھ کر فاطمہ کے لیے کچھ کھجوریں جمع کر لوں۔" یہ سن کر رسول اللہ ﷺ وہیں بیٹھ گئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس یہودی کے لیے پانی کے ڈول نکالتے رہے، ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور ملتی، یہاں تک کہ کچھ کھجوریں جمع ہو گئیں جنہیں انہوں نے اپنے کپڑے میں باندھ لیا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھا لیا، اور دونوں انہیں لے کر گھر واپس آگئے۔
( الطبقات الکبریٰ لابن سعد : 6/403 )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ آپ ﷺ ایک بار ایک مریض كی عیادت کے لئے تصریف لے گئے ( اور آپ ﷺکے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے) رسول اللہ ﷺ نے(اس سے) كہا خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میری آگ ہے جو میں دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط كرتا ہوں تاكہ آخرت میں ملنے والے عذاب کا بدل بن جائے
السلسلہ اس صحیحہ حدیث ٣٢١٣
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو
صحیح بخاری، جلد ٤، ٣٢٦٣/
(صحیح مسلم: 106)
حضرت ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز پابندی سے پڑھ اور زکوٰۃ ادا کر اور اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کر، اس کے بعد وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ میرے حکم پر کار بند رہے گا تو ��نت میں داخل ہوجائے گا۔
’’ثوبان! میں تمہارا رنگ بدلا ہوا کیوں دیکھ رہا ہوں؟‘‘
ثوبانؓ نے عرض کیا:
’’اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ﷺ، مجھے نہ کوئی بیماری ہے اور نہ کوئی تکلیف۔ بس بات اتنی ہے کہ جب میں آپ کو نہیں دیکھتا تو بے قرار اور وحشت زدہ ہو جاتا ہوں، یہاں تک کہ آپ سے آ کر مل نہ لوں۔
اللہ کی قسم! آپ مجھے میری اپنی جان اور میری اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو زیادہ دیر صبر نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھ نہ لوں۔
اور ��ب میں آخرت کو یاد کرتا ہوں تو مجھے یہ خوف گھیر لیتا ہے کہ شاید وہاں میں آپ کو دیکھ نہ سکوں؛ کیونکہ آپ انبیاء کے ساتھ بلند ترین مقامات پر اٹھائے جائیں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ شاید میں آپ کو وہاں دیکھ نہ پاؤں۔‘‘
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور یہ لوگ کتنے اچھے ساتھی ہیں!﴾
(سورۃ النساء: 69)
بنو امیہ نے دین اسلام سے بغاوت کی
اور اپ��ا الگ اسلام بنا لیا
جسے بنو عباس نے مذہب اہلسنت کا نام دے دیا
مذہب اہلسنت میں آگے چار فقہی گروہ بن گئے
حنفی، مالکی ، شافعی اور حنبلی
حنفیوں میں آگے دو بڑے فرقے بن گئے
بریلوی اور دیوبندی
جبکہ باقی فقہی گروہوں میں سے وہابی نکل آئے
دیوبندی آگے مزید فرقوں میں تقسیم ہو گئے جیسا کہ حیاتی اور مماتی ،
جمعیت علماء ہند
جمعیت علماء اسلام (ف)
جمعیت علماء اسلام (س)
تبلیغی جماعت
جماعت اسلامی
دارالعلوم دیوبند سے وابستہ مدارس و حلقے
وفاق المدارس العربیہ سے وابستہ مدارس اور مختلف انتہا پسند گروہ جیسا کہ سپا�� صحابہ، لشکر جھنگوی، ٹی ٹی پی وغیرہ
وہابیوں کے بھی آگے مزید گروہ بن گئے جیسا کہ
جمعیت اہل حدیث
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان
اہل حدیث یوتھ فورس
احسان الٰہی ظہیر گروپ
لکھوی گروپ
جماعت الدعوہ
القاعدہ، داعش اور خوراجی و ناصبی نظریات رکھنے والے کچھ گروہ وغیرہ
بریلوی فرقہ مزید چالیس کے قریب فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے ،بریلویوں کی رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد سترہ ہے جن میں بڑی جماعتیں یہ ہیں :
دعوتِ اسلامی
جمعیت علماء پاکستان (JUP)
سنی تحریک
تحریک لبیک پاکستان (TLP)
تحریک صراط مستقیم ( جلالی گروپ)
جماعت اہل سنت پاکستان
تبلیغ اسلامی وغیرہ وغیرہ
بالفرض کوئی شخص اگر دعوت اسلامی یعنی فرقہ عطاریہ کا حصہ ہے
تو وہ خود دیکھ لے کہ دین اسلام سے کتنا دور ہے ؟؟
دین اسلام :
اطیعواللہ و اطیعوالرسول،
اہل بیت رسول ﷺ اور قرآن
بس اتنا ہی ہے
جو کوئی دین اسلام میں داخل ہو جائے
اسے کسی مولوی ، کسی اعلی یا ادنی حضرت کی ضرورت نہیں رہتی ، کہ دین اسلام بھی کامل و اکمل ہے
اور دین اسلام کے ہادی و رہبر بھی کامل و اکمل ہیں
دین اسلام کو چھوڑ کر کسی فرقے کا حصہ بننا
دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے
اسی لئے قرآن نے فرقہ پرستی سے منع فرمایا ہے
#دین_اسلام
جو میں نے پڑھا:
ایک یہودی نے ایک مسلمان کی مہمان نوازی کی۔
اس نے اس کے سامنے انگور پیش کیے، تو مسلمان نے انہیں کھا لیا۔ پھر اس نے نبیذ (شراب) پیش کی۔
مسلمان نے کہا:
’’یہ ہمارے لیے حرام ہے۔‘‘
یہودی نے حیرت سے کہا:
’’اے مسلمانوں! تمہاری عجیب منطق ہے! تم اسے حلال قرار دیتے ہو اور اسے حرام کہتے ہو، حالانکہ یہ بھی اسی سے بنتی ہے۔‘‘
مسلمان نے پوچھا:
’’کیا تمہاری بیوی ہے؟‘‘
یہودی نے کہا:
’’ہاں۔‘‘
مسلمان نے کہا:
’’اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘
وہ اپنی بیوی کو لے آیا۔
پھر مسلمان نے پوچھا:
’’کیا تمہاری بیٹی ہے؟‘‘
یہودی نے کہا:
’’ہاں۔‘‘
مسلمان نے کہا:
’’اسے بھی میرے پاس لاؤ۔‘‘
وہ اپنی بیٹی کو بھی لے آیا۔
مسلمان نے کہا:
’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس کو حلال قرار دیا اور اس کو حرام قرار دیا، حالانکہ یہ بھی اسی سے ہے؟‘‘
یہودی نے کہا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
♥️۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔ ♥️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم
" مدینہ کے راستوں ( اندر آنے والے ) پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں
اس کے اندر نہ طاعون آور نہ پی دجال داخل ہو سکتا ہے "
صحیح البخاری 1880
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایک سکول ٹیچر بس میں سوار ہوئیں تو دیکھا کہ کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔
ایک غریب عورت اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اس نے فوراً عزت سے کہا:
"میڈم! آپ یہاں بیٹھ جائیں۔"
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ استادہ کو دے دی اور خود کھڑی ہوگئی۔
استادہ نے شکریہ ادا کیا اور کہا:
"سچ میں، میری تو بہت بری حالت تھی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔"
غریب عورت کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔
کچھ دیر بعد پاس والی سیٹ خالی ہوئی، مگر اس عورت نے خود بیٹھنے کے بجائے ایک ایسی عورت کو بٹھا دیا جو اپنے چھوٹے بچے کو اٹھائے بڑی مشکل سے کھڑی تھی۔
وہ عورت اگلے پڑاؤ پر اتر گئی تو سیٹ پھر خالی ہوگئی۔
اس بار بھی غریب عورت نے بیٹھنے کی کوشش نہ کی بلکہ ایک کمزور بزرگ کو سہارا دے کر سیٹ پر بٹھا دیا۔
کچھ دیر بعد بزرگ بھی اتر گئے۔
بس میں اب چند ہی مسافر رہ گئے تھے۔
استادہ نے اس نیک دل عورت کو اپنے پاس بٹھایا اور حیرت سے پوچھا:
"بہن! میں نے دیکھا کہ کئی بار سیٹ خالی ہوئی، مگر آپ ہر بار کسی اور کو بٹھاتی رہیں۔ خود کیوں نہیں بیٹھیں؟"
عورت نے مسکرا کر جواب دیا:
"میڈم، میں مزدور ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ صدقہ خیرات کر سکوں۔"
"اس لیے میں چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتی رہتی ہوں۔ کبھی سڑک پر پڑا پتھر ایک طرف کر دیتی ہوں، کبھی کسی ضرورت مند کو پانی پلا دیتی ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیتی ہوں۔"
"جب سامنے والا مجھے دعا دیتا ہے تو میری غربت بھول جاتی ہے، دن بھر کی تھکن اتر جاتی ہے۔"
وہ ذرا رکی، پھر بولی:
"اور جب میں باہر بیٹھ کر روٹی کھاتی ہوں تو پرندے میرے قریب آ جاتے ہیں۔ میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے انہیں ڈال دیتی ہوں۔ جب وہ خوشی سے چہچہاتے ہیں تو انہیں خوش دیکھ کر میرا دل بھر جاتا ہے۔"
پھر اس نے بڑی سادگی سے کہا:
"روپے پیسے نہ سہی، دعائیں تو مل ہی جاتی ہیں… وہ بھی مفت میں۔ فائدہ ہی ہے نا؟ آخر ہمیں ساتھ لے کر جانا ہی کیا ہے اس دنیا سے؟"
استادہ خاموش رہ گئیں۔
وہ ایک ایسی عورت سے زندگی کا سبق سیکھ رہی تھیں جو شاید کتابیں زیادہ نہ پڑھ سکی تھی، مگر انسانیت کا سب سے بڑا سبق جانتی تھی۔
نیکی کے لیے دولت نہیں، صرف نیت اور ایک نرم دل چاہیے۔
کبھی ایک مسکراہٹ، ایک گلاس پانی، ایک چھوٹی سی مدد یا کسی کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دینا بھی کسی کی پوری دنیا بدل سکتا ہے۔
* اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں
اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔
* پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔
* دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
* تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا
* چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
* پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے
* چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے
* ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔
* آٹھواں د��وازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے
* نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا
*دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا
* گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے
*بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا
* تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی
*چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے
*پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے
*سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
اللّه ہمیں ان سب پے اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق آتا فرمائے اور %100 سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور الله ہم سب کو اپنے مقبول اور محبوب بندوں کا خادم بنائے آمین ثم آمین ۔
دعا گو فقیر ساجد لطیف نقشبندی مجددی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیمتی نصیحت
جب قرآن کریم کی یہ آیت اتری :
من يعمل سوءا يجزيه ( سورة النساء : ١٢٣)
ترجمہ : جو کوئی برا کام کرے گا اس کی سزا پائے گا۔ “ اس موقعہ پر حضرت ابو بکر صدیق فرمانے لگے کہ
”اے اللہ کے رسول ! خوشی ختم ہو گئی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ جس نے بھی جو غلطی کی ، کوتاہی کی اسے اس کی سزا ملے گی ۔ اے اللہ کے رسول ! اس آیت کے بعد تو خوشی نہیں ہے۔ کون ہے جو غلطیوں سے پاک ہے ؟ غلطی تو ہو ہی جاتی ہے۔ “
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :
صدیق ! جب تو بیمار ہوتا ہے تب بھی تیرے گناہ معاف ہوتے ہیں، تجھے ٹھوکر لگتی ہے تب بھی تیری خطائیں معاف ہوتی ہیں، تجھے کوئی دکھ پہ دکھ پہنچتا ہے تب بھی تیری ہے
خطائیں معاف ہوتی ہیں، تیری ہر تکلیف کے بدلے تیری کوئی نہ کوئی چھوٹی خطا معاف کی جاتی ہے تاکہ جب تو اللہ کے پاس جائے تو گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر جائے
ترندی بحواله احیاء العلوم، ج ۴، ص ۱۷۵)
۔ اس کے بعد حکم ہو گا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری عرض سنی جائے گی تمہاری درخواست منظور ہو گی، تمہاری سفارش مقبول ہو گی اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں کروں گا جو وہ مجھ کو سکھا چکا ہے۔ ( یا سکھلائے گا ) پھر لوگوں کی سفارش شروع کر دوں گا۔ سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا ”محمد ��پنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دیے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش شروع کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا۔ عرض کروں گا: یا پاک پروردگار! اب تو دوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں ( یعنی کافر اور مشرک ) ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ سے وہ لوگ نکال لیے جائیں گے جنہوں نے ( دنیا میں ) لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں ایک جَو برابر ایمان ہو گا پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں گیہوں برابر ایمان ہو ��ا۔ ( گیہوں جَو سے چھوٹا ہوتا ہے ) پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں چیونٹی برابر ( یا بھنگے برابر ) ایمان ہو گا۔
صحیح بخاری جلد ۸ ۷۴۱۰ (حصہ سوم)
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا
اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے
سُورَةُ النِّسَاءِ - 57
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
قیامت آنے سے پہلے مال و دولت کی اس قدر کثرت ہو جائے گی اور لوگ اس قدر مالدار ہو جائیں گے کہ اس وقت صاحب مال کو اس کی فکر ہو گی کہ اس کی زکوٰۃ کون قبول کرے اور اگر کسی کو دینا بھی چاہے گا تو اس کو یہ جواب ملے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔
(بخاری،۱۴۱۲)
🔷 نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ مبارک کے معجزات
◆ نبیؐ کریم کے جسمِ اطہر سے نہایت پاکیزہ اور خوشگوار خوشبو آتی تھی۔
◆ آپؐ کا پسینہ انتہائی خوشبودار تھا اور اسے خوشبو کے طور پر محفوظ کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے۔
◆ آپؐ کا جسمِ مبارک نہایت نرم و لطیف تھا، حتیٰ کہ ریشم سے بھی زیادہ نرم محسوس ہوتا تھا۔
◆ آپؐ کی ہتھیلیاں کشادہ اور نرم تھیں۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ کے لمس میں شفا اور برکت تھی۔
◆ آپؐ کے لعابِ دہن میں شفا اور برکت تھی۔
◆ آپؐ کے لعابِ دہن سے حضرت علی علیہ السلام کی آنکھ خیبر کے موقع پر فوراً شفا یاب ہوئی۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ کے لمس سے بعض بیماروں کو شفا ملتی تھی۔
◆ آپؐ کے مبارک بالوں میں برکت تھی اور صحابہ انہیں تبرکاً محفوظ کرتے تھے۔
◆ آپؐ کے موئے مبارک اور پسینے کو خوشبو اور تبرک کے لیے محفوظ کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے مبارک جسم سے لگے ہوئے کپڑوں اور چادروں سے بھی تبرک حاصل کیا جاتا تھا۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ سے پانی میں برکت ظاہر ہونے کے واقعات منقول ہیں۔
◆ آپؐ کے مبارک ہاتھ سے کھانے میں برکت ظاہر ہونے کے واقعات منقول ہیں۔
◆ آپؐ کے مبارک منہ کے لقمے میں برکت تھی
◆ آپؐ کے بدنِ مبارک پر مکھی کبھی نہیں بیٹھتی تھی۔
◆ آپؐ کی مبارک آنکھیں نیند میں بھی بیداری کی طرح دیکھتی تھیں۔
◆ آپؐ کے مبارک کان نیند میں بھی بیدار رہتے اور سنتے تھے۔
◆ آپؐ اپنے پیچھے اسی طرح دیکھ سکتے تھے جس طرح سامنے دیکھتے تھے۔
◆ آپؐ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔
◆ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت کا مبارک نشان موجود تھا۔
◆ آپؐ کا رنگ سفیدی مائل سرخ تھا۔
◆ آپؐ کا چہرۂ مبارک نہایت نورانی اور تاباں تھا۔
اور آپؐ کے چہرۂ مبارک کی تابانی چودھویں رات کے چاند کی مانند تھی۔
◆ آپؐ کا چہرۂ مبارک بہت خوبصورت، متناسب اور پُررونق تھا۔
◆ آپؐ کی پیشانی کشادہ تھی۔
◆ آپؐ کی آنکھیں بڑی، کشادہ اور سیاہ تھیں۔
◆ آپؐ کی پلکیں لمبی تھیں۔
◆ آپؐ کی بھنویں گھنی، لمبی اور خوبصورت تھیں اور آپس میں ملی ہوئی تھیں۔
◆ آپؐ کی ناک ناک ستواں اور خوبصورت تھی۔
◆ آپؐ کا دہن کشادہ اور خوبصورت تھا۔
◆ آپؐ کے دانت چمکدار، خوبصورت اور قدرے جدا جدا تھے۔
◆ آپؐ کے رخسار ہموار اور نرم تھے۔
◆ آپؐ کے بال نہ بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ قدرے لہردار تھے۔
◆ آپؐ کے سر کے بال بعض اوقات کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
◆ آپؐ کی داڑھی گھنی تھی۔
◆ آپؐ کی گردن صاف، روشن اور خوبصورت تھی۔
◆ آپؐ کا سینہ کشادہ تھا۔
◆ آپؐ کے کندھے چوڑے اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا۔
◆ آپؐ کی ہڈیاں اور جوڑ مضبوط تھے۔
◆ آپؐ کا جسم مضبوط، بھرپور اور متناسب تھا۔
◆ آپؐ کا پیٹ سینے کے ساتھ متناسب تھا۔
◆ آپؐ کے سینے سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی۔
◆ آپؐ کے سینے اور پیٹ پر اس لکیر کے علاوہ بال نہیں تھے۔
◆ آپؐ کے بازوؤں، کندھوں اور سینے کے بالائی حصے پر بال موجود تھے۔
◆ آپؐ کے بازو لمبے اور متناسب تھے۔
◆ آپؐ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔
◆ آپؐ کے پاؤں مضبوط اور قدرے بھرے ہوئے تھے اور پاؤں کے تلوے گہرے اور مضبوط تھے۔
◆ آپؐ کا قد نہ بہت لمبا تھا نہ پست، بلکہ درمیانہ اور متناسب اور بلند�� مائل تھا۔
◆ آپؐ کا جسم نہ بہت دبلا تھا نہ فربہ، بلکہ معتدل اور متناسب تھا۔
◆ آپؐ چلتے تو مضبوطی اور وقار کے ساتھ سر جھکا کر قدم اٹھاتےتھے۔ اور چلنے کا انداز ایسا تھا جیسے بلندی سے نیچے اتر رہے ہوں۔
◆ آپؐ جب کسی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ متوجہ ہوتے تھے۔
◆ آپؐ کے بدنِ مبارک کی ساخت انتہائی متوازن اور کامل تناسب والی تھی۔
◆ آپؐ کی ظاہری ہیئت ایسی حسین تھی کہ دیکھنے والے آپؐ کو بے مثال قرار دیتے تھے۔
◆ آپؐ جس حیوان یا سواری پر سوار ہوئے، وہ اپنی پوری زندگی میں نہ کمزور ہوا نہ بوڑھا ہوا۔
◆ آپؐ سخت چٹان پر قدم رکھتے تو اس پر قدم کا نشان ظاہر ہو جاتا تھا، جبکہ نرم ریت پر قدموں کے نشان نہیں بنتے تھے۔
◆ آپؐ کے سامنے آنے والے پرندے اور جانور ادب و احترام سے سر جھکا دیتے تھے۔
◆ آپؐ کے لیے حشرات اور زہریلے جانور نقصان کا باعث نہیں بنتے تھے۔
◆ آپؐ ولادت ہی سے پاکیزہ اور مختون تھے۔
◆ آپؐ کو بچپن، جوانی اور بڑھاپے ہر حالت میں کامل جسمانی قوت و طہارت حاصل رہی۔ اور جسمِ اطہر پر نجاست اور ناپاکی طاری نہیں ہوتی تھی۔
نمازِ فجر
اللہ تعالیٰ نمازِ فجر کی توفیق ہر کسی کو نہیں دیتا، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے اُن لوگوں کے لیے انتخاب ہے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگ فجر کے وقت جاگ رہے ہوتے ہیں، مگر نمازِ فجر ادا نہیں کرتے۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ گہری نیند سے بیدار کر دیتا ہے تاکہ وہ فجر کی نماز ادا کریں۔ وہ تھکن سے چور ہوتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کو اُن سے ملاقات پسند ہوتی ہے۔
اے اہلِ فجر! تمہیں مبارک ہو۔ 🌸
اے اللہ! ہمیں بھی اہلِ فجر اور اپنے مقرب بندوں میں شامل فرما۔
اے اللہ! ہمیں نمازِ فجر کی لذت سے کبھی محروم نہ فرما۔ ❤️
امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں:
میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی نماز کے دوران یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
’’اے اللہ! میرا حساب آسانی کے ساتھ لینا۔‘‘
جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا:
’’یا نبی اللہ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال کو دیکھے اور اس سے درگزر فرما دے۔ کیونکہ اے عائشہ! جس شخص سے اُس دن حساب میں باریک بینی کے ساتھ بازپُرس کی گئی، وہ ہلاک ہو گیا۔‘‘
اے اللہ! ہمارا بھی حساب آسانی کے ساتھ لینا۔ آمین۔