My parents’ letters to each other (from 1985-86).❤️
They both had carefully kept every letter & even the envelope of each letter even after so many years. And after Ammi’s death, Abbu had kept each & every thing that belonged to her very safely;even a small piece of her writing.
It’s a humble request to everyone specially political parties including @JIPOfficial that it’s not a good time to show your political power in this worst covid situation..
covid has already taken so many lives & our health system is unable to provide appropriate treatment & care
We have lost our dear father to covid & we don’t want someone else to undergo such harsh experience. He contracted virus not because he was roaming around freely but because others were not taking this virus seriously. He followed SOPs, he avoided gatherings as much as he could.
اوکاڑہ۔ڈاکٹر لیاقت علی کوثر کے لیے جماعت اسلامی اوکاڑہ کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔تمام شعبہ ہائے زندگی کی بھرپور نمائندگی تھی بزرگ،نوجوان، خواتین،کسان،مزارعین،صحافی بڑی تعداد میں شریک اور غم زدہ تھے۔عبدالرشید ترابی،ریاض الحق ججہ ایم این اے ودیگر بھی شریک تھے۔
کٹھن رستے کا جواں مسافر، جو جیا تو سر اٹھا کے جیا۔
اس کی امیدیں قلیل، مقاصد جلیل۔
اس کی ہمت عزم کا کہسار، اس کی زندگی روشن مثال۔
اس رستہ پر گرچہ اکیلے رہ گئے ہم، مگر کہاں کوئی سورج کی روشنی میں اپنا راستہ بھولتا ہے۔۔۔
وہ پیڑ جن کے چھاؤں میں پایا تھا راز زندگی
مرجھا گئے سب برگ وبر اک شام زندگی
بھٹکے ہوئے آہوں کو دکھلایا جنہوں نے راستہ
بجھ گئے روشن چراغ، پہنچاتے پہنچاتے پیام زندگی
— قاضی صاحب کی وفات پر لکھے گئے اشعار جو کبھی سوچا نہ تھا کہ اپنے ابو کے متعلق بھی کہے جائیں گے۔۔۔
ٹُر گئے یار محبتاں والے تے لے گئے نال ای ہاسے
دل نئیں لگدا یارمحمد تے جائیے کیہڑے پاسے
بھائی،بھائیاں دے درد ونڈادے،بھائی بھائیاں دیاں بانہواں
باپ سراں دے تاج محمد، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
اُچیاں لمیاں ڈالیاں،تے گھنڑیاں جنہاں دیاں چھاواں
ہر اک چیز بازاروں لبھدی، پر نئیں لبدھیاں ماواں
اوکاڑہ۔ڈاکٹر لیاقت علی کوثر کے انتقال پر مرحوم کے گاوں 18جی ڈی میں بھائیوں،بیٹوں کے ساتھ تعزیت،دعائے مغفرت۔انشاءاللہ 19 فروری 2021ء تعزیتی ریفرنس میں بھی شرکت ہوگی۔اللہ کا فیصلہ ہے،اللہ ہی صبر دینے والے ہیں موت اٹل حقیقت ہے۔کیا خوب آدمی ہم سے جدا ہوگیا۔حق مغفرت فرمائے۔آمین
یہ چہرے جب بھی دیکھتا ہوں
میری آنکھوں کے آگے
وہ منظر گھوم سا جاتا ہے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب شاہ گدا بن جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
اس روز تمہارے یہ چہرے
اک چاند کی صورت چمکیں گے
اس روز تمہاری ہی خاطر
رستوں کو سجایا جاۓ گا
پلکوں کو بچھایا جاۓ گا
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
جماعت اسلامی کے رکن مرکزی شوری ڈاکٹر لیاقت علی کوثر ، جو کورونا وائرس کی وجہ سے سروسز ہسپتال میں زیر علاج تھے اللہ تعالی کے حضور پیش ہو گئے
آہ
وہ لوگ کے جن کے نزدیک سیاست کی تعریف کچھ اور تھی جن کے نزدیک سیاست صرف رضائے الہی کا حصول تھی ۔۔۔
اوکاڑہ کے ڈاکٹر لیاقت علی کوثر آج اُس رب کے ہاں چلے گے جس کی رضا کی خاطر سیاست کی جس کی رضا کی خاطر ڈاکٹر کی حثیت سے لوگوں کا علاج کیا اللہ مغفرت کرے آمین
جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کےرکن اور اوکاڑہ میں جماعت اسلامی کی پہچان ڈاکٹر لیاقت علی کوثر کی وفات کا سن کر دل مغموم ہے۔ وہ ہر دم متحرک رہنےوالی عوامی و تنظیمی شخصیت تھے۔ اجلاسوں میں ہمیشہ انھیں اپنے دل کی بات کہتےہوئے پایا۔ اللہ تعالی جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین