میرا نام ہارون ملک ہے ، میں پاکستانی ہوں اور قومی پرچم میری شناخت ہے، میرا فخر ہے۔ میں عہد کرتا ہوں اس پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دوں گا،ہمیشہ بلندیوں پر لہراتا رہوں گا.🇵🇰
#قومی_پرچم_ہمارا_فخر
🚨مارخور نے کالعدم ایکشن کمیٹی اور انڈین ہینڈلرز کے درمیان ہونے والے رابطوں اور خفیہ منصوبہ بندی کو ٹریس کر لیا ہے
مارخور کی اطلاعات کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کا منصوبہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کے کم چیک پوسٹس والے پہاڑی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے، بھارتی فوج کی مدد سے جدید اسلحہ اور تربیت یافتہ ایجنٹس آزاد کشمیر میں داخل کئے جائیں ۔
کالعدم کمیٹی کے ارکان جدید اسلحہ اور ایجنٹس پاکستان لانے کے لیے بھارتی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
اس کیلئے احتجاج کی آڑ میں خواتین اور بچوں کو آگے رکھا جائے گا اور انتشار پسند عناصر ایل او سی کی جانب مارچ کریں گے ۔ فرنٹ پر خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسی لئے کالعدم ایکشن کمیٹی کا مفرور رکن امان ادریس براہ راست بھارت سے مدد مانگ رہا ہے اور اپنے جتھے کیساتھ ایل او سی کے راستے کھولنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کی کوشش کی، اور اب اپنی بقا کے لیے انہی سے اپیلیں کر رہے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے لیے جنگیں لڑیں اور قربانیاں دیں، لیکن ان مفرور ملزمان نے کبھی بھارت کے مظالم کے خلاف ایک احتجاج تک نہیں کیا۔
🚨حلف برطانیہ کا، مداخلت پاکستان اور آزاد کشمیر میں
کچھ لوگ برطانوی شہری ہیں ۔ یہ شہریت بھی ان کو منگلا ڈیم کے مرہون منت ملی۔ یہ لوگ برطانوی نظام کے وفادار ہیں ۔ اس نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہاں کے پاسپورٹ اور شناخت پر دنیا میں سفر کرتے ہیں، لیکن پھر برطانیہ میں ہی بیٹھ کر آزاد کشمیر اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔
برطانوی شہریت کوئی عام کاغذ نہیں۔ یہ ایک باقاعدہ عہد ہے۔ ایک شخص جب برطانوی شہری بنتا ہے تو وہ تاجِ برطانیہ، بادشاہ اور برطانیہ کے قوانین سے وفاداری کا عہد کرتا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص خود ایک دوسری ریاست سے وفاداری کا حلف اٹھا چکا ہے، وہ آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اخلاقی اور قانونی حق کہاں سے رکھتا ہے؟
تعمیری تنقید ہر کسی کا حق ہے، مگر تنقید اور منظم پروپیگنڈے میں فرق ہوتا ہے۔ اصلاح کی بات اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی مہم ایک چیز نہیں۔ اگر برطانیہ میں بیٹھے آزاد کشمیر کے لوگ واقعی اپنے علاقے سے محبت رکھتے ہیں تو انہیں آزاد کشمیر کی تعمیر، اداروں کی مضبوطی، تعلیم، صحت، روزگار اور گورننس کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں آزاد کشمیر کی منتخب حکومت، مقامی اداروں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو سپورٹ کرنا چاہیے، نہ کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسی مہمات چلائیں جو راء کی اسپانسرڈ ہوں اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسائیں۔
یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ دور بیٹھ کر آگ لگانا بہت آسان ہے۔ اصل قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جو یہاں اپنی زمین پر رہتے ہیں اور انکے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔
برطانیہ میں محفوظ زندگی گزارنے والا شخص جب آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو انتشار، نفرت اور ریاست مخالف بیانیے کی طرف دھکیلتا ہے تو اس کے نتائج وہ خود نہیں بھگتتا۔ اس کے اثرات مقامی عوام، کاروبار، امن، ترقی اور روزمرہ زندگی پر پڑتے ہیں۔
وفاداری دو کشتیوں پر کھڑے ہو کر ثابت نہیں ہوتی۔ ایک طرف برطانیہ کے بادشاہ اور ریاست سے وفاداری کا حلف، دوسری طرف آزاد کشمیر کے معاملات میں مداخلت اور پاکستان مخالف مہمات۔ یہ رویہ اخلاقی و قانونی طور پر قابلِ دفاع نہیں۔
آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر کے عوام، ان کے منتخب نمائندے اور وہاں کے آئینی ادارے کریں گے۔ اور اگر کسی شہری یا پرامن گروہ کو کوئی شکوہ ہو تو اسکی بات اسطرح سنی جاتی ہے جیسے پچھلے تین سال سے سنی جارہی اور انتہائی ریلیف بھی دیا گیا.
بیرونِ ملک بیٹھے لوگ تاج برطانیہ کے وفادار ضرور رہیں لیکن اب پاکستان اور آزاد کشمیر میں انتشار، نفرت اور پروپیگنڈہ کیا تو پھر ریاست اپنی رٹ ہر صورت قائم رکھے گی۔
مارخور کی اطلاعات کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی سے کسی قسم کے مزاکرات نہیں ہوں گے۔
کچھ مفرور بھگوڑے ملزمان این آر او مانگ رہے ہیں۔ لیکن انہیں این آرو نہیں ملے گا۔
ان کے پاس دھرنا ختم کرنے اور قانون کے آگے سرینڈر ہی اب واحد آپشن ہے۔
بلوچستان میں بی ایل اے کا دہشتگردی کا نیٹورک تقریباً ناکارہ بنادیا گیا ہے ۔
اب یہ گراؤنڈ پر کسی بھی قسم کی آپریشنل سرگرمی کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں ۔
البتہ بی ایل اے اور افغان طالبان اے آئی ویڈیوز کے زریعے میڈیا میں زندہ رہنے کی کوشش ضرور کررہے ہیں ۔
جب سے ایڈوانس اے آئی ٹولز آئے ہیں بلوچستان میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے حملے بھی بڑھ گئے ہیں ۔
کیونکہ حقیقت میں حملے کرنا تو اب ممکن نہیں رہا۔
اس لئے یہ اے آئی ویڈیوز بنا کر اپنے ہینڈلرز کو خوش کرتے ہیں ۔
لیکن ان کی بنائی اے آئی ویڈیوز بھی پکڑی جاتی ہیں ۔
🚨واٹس اپ کا نیا فیچر کتنا خطرناک ہے !!!
واٹس ایپ پر username feature آنے جا رہا ہے، جس کے بعد صارفین اپنے فون نمبر کے بجائے username کے ذریعے بھی رابطہ کر سکیں گے۔ اس فیچر پر پاکستان سمیت کئی ممالک میں سنجیدہ تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں، اور یہ تحفظات نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ privacy ہونی چاہیے یا نہیں۔ privacy ضرور ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا privacy کے نام پر ایسا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جو scammers، fake accounts، impersonators اور cyber criminals کے لیے ایک نیا راستہ کھول دے؟
اب username feature کے بعد اگر کوئی شخص اپنا فون نمبر ظاہر کیے بغیر کسی دوسرے صارف سے رابطہ کرتا ہے تو عام صارف کے لیے یہ جانچنا مشکل ہو سکتا ہے کہ سامنے والا واقعی وہی شخص، ادارہ، کمپنی یا نمائندہ ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔
یہی کمزوری phishing، fake customer support، جعلی بینک نمائندوں، investment scams، digital fraud، fake government accounts اور social engineering کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
سب سے بڑا خدشہ official identities کے غلط استعمال کا ہے۔ اگر کسی سرکاری ادارے، بینک، مالیاتی ادارے، معروف کاروبار، public figure، journalist، politician یا celebrity سے ملتا جلتا username بنا لیا جائے تو عام صارف آسانی سے دھوکہ کھا سکتا ہے۔ WhatsApp جیسے بڑے platform پر، جہاں کروڑوں لوگ روزانہ ذاتی، کاروباری اور مالی نوعیت کی گفتگو کرتے ہیں، fake identity کا ایک چھوٹا سا loophole بھی بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ fraud اور social engineering کا ہے۔ آج بھی WhatsApp پر fake links، جعلی customer support، loan scams، prize scams، investment fraud اور family emergency scams عام ہیں۔
اگر username کے ذریعے رابطہ ممکن ہو جائے اور فون نمبر ابتدائی طور پر visible نہ ہو تو scammers کے لیے اپنی اصل شناخت چھپانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس سے عام صارف، خاص طور پر بزرگ افراد، کم تعلیم یافتہ صارفین اور online fraud سے کم واقف لوگوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
تیسرا بڑا سوال traceability اور law enforcement کا ہے۔ اگر کوئی شخص username کے ذریعے fraud، harassment، blackmailing، phishing یا cybercrime کرتا ہے تو متاثرہ شخص کے لیے اس کی شناخت کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔
اس سے complaint handling، investigation اور lawful enforcement میں بھی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ privacy کا تحفظ ضروری ہے، لیکن cybercrime victims کے لیے انصاف تک رسائی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
امان ادریس مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اپیل کررہا ہے کہ سرینگر سمیت مقبوضہ علاقوں میں پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں۔ تاکہ نریندر مودی عالمی سطح پر یہ دعوی کرسکے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان کے خلاف ہے اور انڈیا کیساتھ خوش ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کا اصل ایجنڈا اب خود یہ لوگ سامنے لارہے ہیں روٹی کپڑا مکان کبھی مسئلے تھے ہی نہیں۔ یہ حقوق کی نہیں مودی کی تحریک ہے اور اس کے زریعے وہ تمام کام کئے جارہے ہیں جو انڈیا چاہتا ہے
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف اس خطے کی طاقت نہیں، امن اور ذمہ دار سفارت کاری کا عالمی مرکز بھی ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کی خطرناک جنگ کے دوران پاکستان نے جنگ بندی، مذاکرات اور پُرامن حل کا واضح مؤقف اپنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے تیز، مؤثر اور باوقار سفارتی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں خطہ ایک بڑی تباہی سے بچا۔
پاکستان نے مشکل وقت میں ایران کو تنہا نہیں چھوڑا، ایرانی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا رہا، اور عالمی سطح پر امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ آج دنیا پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم “Key Security Provider” اور قابلِ اعتماد سفارتی قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب بھارت اس بحران میں اسرائیلی مفادات کے قریب کھڑا دکھائی دیا۔ نہ صرف بھارتی خارجہ پالیسی خاموش اور کمزور رہی بلکہ ایرانی جہاز کی مخبری اور چابہار سے فوری فرار نے بھارت کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
آج پاکستان سرخرو ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی زبان زدِ عام ہے۔ پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے، اور دنیا مان رہی ہے کہ پاکستان گلوبل سافٹ پاور کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ انڈیا تنہا ہوچکا ہے۔
پاکستان پہلے دن سے ایران کیساتھ کھڑا رہا ۔
جب ساری دنیا میں ایران تنہا تھا صرف پاکستان اس کیساتھ تھا ۔
پاکستان نے ثالثی کے زریعے ایران پر حملے رکوائے ۔ امریکہ چین روس ایران سعودی عرب ترکیہ قطر نے بارہاں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور اس کی تعریف بھی کی ۔
اب حالات نارمل ہورہے ہیں تو بھی پاکستان ایران کیساتھ ہے ۔ پاکستان کی پوری سول اور عسکری قیادت اس وقت ایران میں موجود ہے ۔
آج انڈیا اور کے مقامی ترجمان کہاں پر ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے کہ پاکستان کا ایران جنگ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پاکستان کسی کی سائیڈ نہیں لے رہا ۔
اب کیا کہنا چاہیں گے ۔ یا کچھ کہنے قابل ہی نہیں رہے ہیں ۔
پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی ۔ بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کے مجاہدین نے خود ہتھیار اٹھائے ۔ اپنی عزت و ناموس کیلئے برہان وانی جیسے کشمیری خود ظالم بھارتی افواج سے لڑے ۔
آج کالعدم ایکشن کمیٹی کا امان ادریس تحریک آزادی کشمیر کو مشکوک بنارہا ہے ۔ ہزاروں شہداء کے خون پر سوال اٹھارہا ہے ۔ امان ادریس کا یہ کہنا کہ کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ پاکستان نے دیا ۔ زبان امان ادریس کی ہے لیکن الفاظ مودی کے ہیں ۔ یہ انڈیا کا سرکاری بیانیہ رہا ہے ۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کا یہ بیانیہ بھارت کے موقف کی بالواسطہ تائید کرتا ہے کہ پاکستان نے کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو مسلحہ کیا ۔
اب آٹے دال چینی بجلی کا اس سے کوئی تعلق ہے ؟ کیا اس بیان کی کوئی تُک بنتی ہے ۔
بھاڑ میں جائے پاکستان جیسے نعرے لگانے کا آٹے دال چینی سے کوئی تعلق ہے ؟
پاک فوج کشمیر سے نکل جائے ۔ کیا اس سے آٹا دال چینی کے مسائل حل ہوں گے یا پھر انڈیا کے قبضے کی راہ ہموار ہوگی ؟
یہ جو بیان ہے اسی پر غور کرلیں اس سے کسی کشمیری کو فائدہ نہیں ہوگا ۔ صرف انڈیا کو فائدہ ہوگا ۔ کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔
سوال سادہ سا ہے کہ اگر یہ حقوق کی تحریک ہے تو پھر ان کے اسٹیج سے حقوق کے بجائے بھارتی بیانیے کے حق میں مسلسل مہم کیوں چل رہی ہے ۔ ایک بار بھی حقوق کا زکر اس اسٹیج سے کیوں نہیں ہوا ۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے امان ادریس نے دعویٰ کیا کہ کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ پاکستان نے دیا ۔
انڈیا کا بھی یہی کلیم رہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوئی تحریک آزادی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ پاکستان ہے جو وہاں سے مسلحہ لوگ بھیجتا ہے اور وہ یہاں آکر انڈین فوجیوں سے لڑتے ہیں ۔
یہی بات امان ادریس بھی کررہا ہے ۔ یعنی بات ایک ہی ہے ۔ کہنے والوں کے چہرے مختلف ہیں ۔ انڈیا کا سرکاری بیانیہ آج کالعدم ایکشن کمیٹی کے اسٹیج سے نشر ہورہا ہے ۔
اب یقنی طور پر یہ معاملہ انڈیا اقوام متحدہ میں بھی اٹھائے گا کہ آزاد کشمیر کا ایک مقامی رہنما ایسا کہہ رہا ہے ۔ لازم ہے کہ اس سے کشمیر کاز کو نقصان تو پہنچے گا ۔
بات تو آٹے دال چینی اور بجلی کی تھی ۔ بنیادی حقوق کی تھی ۔
لیکن ان کے اسٹیج سے تو بھاڑ میں جائے پاکستان جیسے نعرے لگے ۔
پاک فوج کشمیر سے نکل جائے جیسے مطالبے ہوئے ۔
انڈیا سے براہ راست تجارت کی باتیں ہوئیں ۔
اور اب تحریک آزادی کشمیر پر براہ راست اس سے بڑا حملہ نہیں ہوسکتا کہ اس کو پاک آرمی سے منسوب کردیا جائے اور ایسا کرنے والا غیرت سے عاری شخص خود کو کشمیری کہتا ہے ۔
بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کے مجاہدین نے خود ہتھیار اٹھائے ۔ اپنی عزت و ناموس کیلئے برہان وانی جیسے کشمیری خود ظالم بھارتی افواج سے لڑے ۔
آج کالعدم ایکشن کمیٹی دنیا کے سامنے تحریک آزادی کشمیر کو مشکوک بنارہی ہے ۔ ہزاروں شہداء کے خون پر سوال اٹھارہی ہے ۔ انڈیا سے لڑنے والے کشمیری نوجوانوں کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جارہا ہے ۔ امان ادریس کا یہ کہنا کہ کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ پاکستان نے دیا ۔ زبان امان ادریس کی ہے لیکن الفاظ مودی کے ہیں ۔ یہ انڈیا کا سرکاری بیانیہ رہا ہے ۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کا یہ بیانیہ بھارت کے موقف کی بالواسطہ تائید کرتا ہے کہ پاکستان نے کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو مسلحہ کیا ۔
اب آٹے دال چینی بجلی کا اس سے کوئی تعلق ہے ؟ کیا اس بیان کی کوئی تُک بنتی ہے ۔
بھاڑ میں جائے پاکستان جیسے نعرے لگانے کا آٹے دال چینی سے کوئی تعلق ہے ؟
پاک فوج کشمیر سے نکل جائے ۔ کیا اس سے آٹا دال چینی کے مسائل حل ہوں گے یا پھر انڈیا کے قبضے کی راہ ہموار ہوگی ؟
@ali_mahsam بھائی آپ جس سائٹ سے یہ مواد اٹھا رہے ہیں وہ غلط ہے یہ بظاہر چھوٹی بات لگتی ہے مگر اس کے اثرات غلط مرتب ہو رہے ہیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ علیہ السلام پہلی مرتبہ نظر سے گزر رہا ہے میری تھوڑی سی تعلیم کے مطابق میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی پڑھا اور دیکھا ہے
🚨غیر روایتی سیکیورٹی بریفنگ
روایتی بیانیے سے ہٹ کر منعقد ہونے والی اہم ترین سکیورٹی بریفنگ میں معمول کے برعکس نہ تو دہشت گردی پر بات ہوئی، نہ بلوچستان کی صورتحال اور نہ ہی ملکی سیاست کا تذکرہ کیا گیا۔
بریفنگ کا واحد، کلیدی اور تزویراتی (strategic) محور صرف اور صرف بھارت تھا۔
سینئیر صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوانسرز کو دی جانے والی اس بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ بھارت اس وقت اندرونی طور پر شدید کھوکھلا ہو چکا ہے اور وہ ایک ناکام ریاست بننے کے دھانے پر ہے۔
بھارت کے موجودہ اندرونی تضادات اور بحران اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
@ali_mahsam بھائی آپ جس آیت کو کوٹ کر رہے ہیں اسکا مخصوص نام ہے، سورۃ البقرہ میں ہی ہے لیکن اسکو آیت الکرسی کا باقائدہ نام دیا گیا ہے اس لئے کہا ہے، آپ تومائنڈ ہی کرگئے ہیں۔۔