Amitabh Bachchan : You are an alumnus of J.J. School of Arts.
Nana Patekar : Yes, I studied commercial art there. After that, I worked at an advertising agency.
I had to choose between doing theatre and having a job, so I quit my job and started doing theatre. We were struggling financially too.
Our dean used to give us work to help us earn a living…
Sony TV : KBC Clip
یہ آڈیو کلپ مجھے انڈیا سے میرے ایک دوست نے بھیجا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ کلپ وہاں انڈیا کے واٹس ایپس گروپس میں اسی کیپشن کے ساتھ (انگریزی) میں فاروڈ ہو رہا ہے۔ ویسے کہیں سے لگ رہا ہے یہ لڑکی سرائیکی سپیکنگ نہیں بلکہ کیرالہ کی ہے؟ خدا بعض انسانوں کو پیدائشی طور پر کتنا ٹیلنڈڈ پیدا کرتا ہے۔
Suchetha Satish, a phenomenally talented singer from Kerala, India
@KeralaTourism@rakeshvaid
"لا تُقْسِرُوا أَوْلادَكُمْ عَلَى آدَابِكُمْ، فَإِنَّهُمْ مَخْلُوقُونَ لِزَمَانٍ غَيْرِ زَمَانِكُمْ•
"ترجمہ:"
“اپنے بچوں کو زبردستی اپنے اخلاق و آداب (طرزِ زندگی) پر مجبور نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے علاوہ ایک دوسرے زمانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔"
@SabeeKazmi786 "لا تُقْسِرُوا أَوْلادَكُمْ عَلَى آدَابِكُمْ، فَإِنَّهُمْ مَخْلُوقُونَ لِزَمَانٍ غَيْرِ زَمَانِكُمْ•
"ترجمہ:"
“اپنے بچوں کو زبردستی اپنے اخلاق و آداب (طرزِ زندگی) پر مجبور نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے علاوہ ایک دوسرے زمانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔"
⚡️BREAKING: Unexpected arrival of Saudi Arabia's Deputy Foreign Minister at the funeral ceremony of Ayatollah Khamenei
While Oman and Qatar were on the list of foreign delegations, Saudi Arabia was Not
یوم پاکستان پر اس سے شاندار،جاندار،بہترین ویڈیو کوئی نہیں ہوسکتی
بنانے والے نے چھوٹے بڑے تمام ہیروز کو 4منٹ کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کمال مہارت سے سمودیا ہے۔
جس نے بھی اس تصور پر یہ ویڈیو بنائی ہے وہ قومی اعزاز کا مستحق ہے۔
پٹھانے خان کے باپ نے جب دوسری شادی کی تو ماں واپس میکے آ گئی۔ اب ماں تندور پر روٹیاں لگاتی اور پٹھانے خان سارا دن لکڑیاں چنتا۔ یہی گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا۔ دکھا ہوا دل بابا غلام فرید رح کی کافیاں پڑھنے لگا۔ آواز میں وہ سوز کہ پورے برصغیر میں آواز سنائی دینے لگی۔ حاکم وقت نے پٹھانے خان کو صدر ہاوس مدعو کیا۔ جب پٹھانے خان نے "جندڑی لٹی تے یار سجن کدی موڑ مہار تے ول آ وطن " کافی گائی تو حاکم وقت رو پڑا ۔۔۔ تین دفعہ سنی اور تینوں دفعہ رو پڑا۔ اٹھا اور فقیر کو گلے لگا لیا۔ تین دفعہ پوچھا ۔۔۔ پٹھانے حکم کرو آج جو حکم کرو گے حاضر ہو گا۔ پٹھانے خان نے تینوں دفعہ کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے بس غریب عوام کی پرت ہو( غریبوں کا خیال رکھیں)
اور "میڈا دین وی توں میڈی جان وی توں" کو یوں پڑھا کہ حق ادا کر دیا ۔۔۔جو کہ آج تک کانوں میں رس گھول رہا ہے ۔
پٹھانے خان نے آدھی زندگی ماں کی خدمت میں اور باقی آدھی اس کی یاد میں رو رو کر گزار دی ۔۔۔ جس جھونپڑی میں زندگی گزری اسی میں جان دے دی ۔۔۔ خدا تعالٰی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔
منقول