میری قوم کو جا کر بتا دو مجھے محمد مرسی کی طرح مار دیا جائے گا۔ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ عمران خان کا بہن ڈاکٹر عظمی خان کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو پیغام
ڈاکٹر عظمی کی اگر آپ نے پریس کانفرنس سنی ہو تو آپ سمجھ جائیں گے وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھیں کہ عمران خان اپنی حالت کا اور اپنے اوپر ظلم کا ذمہ دار کس کس کو سمجھتے ہیں وہ یقینا بتانا چاہتی تھیں لیکن سپریم کورٹ کو دی ہوئی قسم نے ان کے لفظ روکے رکھے ،عمران خان نے بہن کو بہت کچھ بتایا ہو گا جو پبلک نہیں کیا گیا لیکن نورین نیازی جانتی ہیں اس لیے وہ زارو ق��ار روئے جا رہی ہیں۔ یہ بے بسی کی آخری حد ہے
قائد کو سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے دی تھی لیکن سزا یافتہ قیدی اتنا لاڈلہ تھا کہ وہ جج سے فرمائش کر کے اپنی پسند کی لاہوری جیل کوٹ لکھپت میں شفٹ ہو گیا اور ملاقات کیلئےانہیں پورے پورے ٹبر کی اجازت تھی، ملاقاتیں طویل ہونے پر حکومت نے ملاقاتیوں کی تعداد گھٹائی تو بھی پانچ خونی رشتوں کی ملاقات کو لازمی قرار دیا، مریم کی اپنی زبانی سن لیں 👇
اور آج ہفتے میں پانچ خونی رشتوں کی ملاقات لازمی قرار دینے والے کی ایک خونی رشتے سے ملاقات ناممکن بنا دی گئی ہے۔ دس ماہ بعد اسکی ایک خونی رشتے سے ملاقات کرائی گئی وہ بھی مکمل اندھیرے اور دھوکہ دہی سے۔
حکمران بن گئے کمینے لوگ
فوج کا امید دلاؤ پروگرام کیا ہے؟
فوج کے امید دلاؤ پروگرام کو مندرجہ ذیل باتوں سے چلایا جاتا ہے ۔
عمران خان سے مذاکرات ہورہے ہیں۔
فوج جلد حالات ٹھیک کرنے والی ہے۔
آئی ایس آئی اور ایم آئی کی لڑائی چل رہی ہے۔
فلاں جرنیل جا کر عمران خان سے ملا ہے۔
اگلے تین ماہ میں الیکشن ہونے والے ہیں۔
چوہدری شجاعت سرگرم ہوگئے ہیں۔
محمد علی درانی سرگرم ہوگئے ہیں۔
تیل کے ذخائر نکل آئے ہیں ۔
آئی ایم ایف سے مذاکرات طے پانے والے ہیں
سعودی عرب سے معاملات طے پانے والے ہیں
چین سے بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے
امید دلاؤ پروگرام میں کون کون لوگ استعمال ہوسکتے ہیں
اس پروگرام میں بہت سارے لوگ تو دانستہ کام آتے ہیں کچھ چھپے ہوئے اثاثے بھی ایسی خبروں کی ترویج میں کام آتے ہیں اور کئی دفعہ لوگ غیر دانستہ طور پر بھی کام آتے ہیں۔
امید دلاؤ پروگرام کے مقاصد
عوام کو پر امید رکھنا اور مکمل مایوس نہ ہونے دینا
عوام کو احتجاج کی طرف نہ جانے دینا
عوام کو ادارے سے امید لگوائے رکھنا
وقت حاصل کیے جانا
امید دلاؤ پروگرام کے کسی بھی ایجنٹے پر یقین لا کر یا اس سے امید لا کر آپ کمپنی کا کام آسان کررہے ہیں۔ محتاط رہیں۔
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم ��ب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے ��وسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
پچھلے دو دنوں میں عمران خان کی طرف سے کی گئی گفتگو جو ریکارڈڈ ہے عمران خان کا کوئی اندرونی چاہنے والا اگر وہ لیک کر دے تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی دھماکہ ہو گا، کوئی فخر کرے گا تو کوئی رشک کوئی سن کے جھومے گا تو کوئی ناچے گا۔۔۔
عمران خان کو آئسولیٹ کر کے بھی وہ عمران کو توڑ نہ پائے۔ عمران خان کی مزاحمت نے بڑے بڑوں کو جھکا دیا ۔ میرا لیڈر پہلے سے بھی بڑا لیڈر بن گیا، ڈیلر نہیں بنا
الحمدللہ! تمام پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کر جو خوشی دل میں ہے اس وقت، پتہ نہیں کیسے اس کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
آپ سب کو دل سے سلام! سب اتنے بڑے ہیروز ہو آپ، شاید اس کا اندازہ آن�� والے کچھ سالوں میں ہو۔
اللہ الحق ہے!
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
یہ اتنی ہائی الرٹ سیکیورٹی نہ عمران خان نے مانگی ہے، نہ عمران خان کو اس کی ضرورت ہے۔
حکومت کو اصل خوف یہ ہے کہ عوام عمران خان کی جھلک دیکھ کر دوبارہ زندہ نہ ہو جاۓ۔
یہ تو ایک دن ہونا ہی ہے انشاءﷲ۔ آج پوری قوم دعا کر رہی ہے کہ اللّه عمران خان کو مکمل صحتیابی عطاء فرمائیں۔
باقی رہی گئی ان سب کی insecurity ۔۔ وہ لاعلاج مرض ہے۔
پیپلز پارٹی کے دور کا عدالتی سرکس یاد ہے؟
عدالت نے ایک عرصے تک سرکس لگائے رکھا تھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط لکھے۔ اس کیس پر سب سے زیادہ شور نوازشریف نے مچا رکھا تھا۔ یوسف رضا گیلانی گھر چلا گیا لیکن خط نہیں لکھا۔
وہ دن اور آج کا دن نہ ن لیگ نے اور نہ عدالت نے کبھی سوئس بینکوں میں پاکستان کی لوٹی دولت کے بارے میں بات کی نہ وہ عدالتی سرکس دوبارہ لگا۔
اس ملک میں عدالتی سرکس زیادہ تر مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ Distraction اور ٹائم پاس کے لیے استعمال ہوا ہے۔ پانامہ کا سرکس د��کھ لیں، جن کو سزائیں ہوئیں وہ آج ملک کے حکمران ہیں۔ نہ سزاؤں پر عمل ہو نہ ملک کی لوٹی دولت واپس آئی۔
یہی وجہ ہے کہ اب اس ملک کی عدالتوں اور نظام سے کسی بہتری کی امید نہیں رہی۔ عوام نے بھی ایسے سرکس پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے کیونکہ عدالتی فیصلوں کی اوقات ردی کی ٹوکری ہی ٹھہرتی ہے۔
اگر اج عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو پھر عدالتوں کو رات کے 12 بجے بھی کھولنا چاہیے اگر اپ متفق ہیں تو اس پیغام کو وائرل کریں زیادہ سے زیادہ