پاکستان میں بدقسمتی سے بیشتر پریس کلبز اور صحافتی یونینز شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کے بجائے بعض حلقے ذاتی مفادات اور گروہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کئی علاقوں میں یہ ادارے مفاداتی گروہوں کے زیر اثر نظر آتے ہیں،کئی جگہوں پر قبضہ مافیا بن کر اور الہ کار بن کر ذاتی مفادات کی حصول میں مصروف ہے۔
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
@IFJGlobal@ifjasiapacific@pfujpakistan@CPJAsia@PFUJOfficial@RealGeorgeWebb1 #Journalist #PressClubs
@FreedomofPress@europapress@MinisterInfoPb@MoIB_Official@CMShehbaz@KPChiefMinister
افسوس کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے صحافیوں کو تقریب میں تو مدعو کیاجاتا ہے،مگر جب بات نمائندگی اور حقوق کی آتی ہے تو انہیں Pakistan Federal Union of Journalists کی ممبرشپ سے محروم رکھا جاتا ہے۔
ایک طرف شمولیت کا تاثر،دوسری طرف عملی طور پر دروازے بند!
ضم شدہ اضلاع کے پریس کلبز اور یونینز کو بھی مسلسل نظرانداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ صحافتی برادری میں تقسیم کو بھی بڑھا رہا ہے۔
اگر واقعی یکجہتی مقصود ہے تو پھر ممبرشپ کے دروازے سب کے لیے یکساں طور پر کھولنے ہوں گے، ورنہ ایسی تقاریب محض نمائشی رہ جائیں گی۔
@CPJAsia@IFJGlobal@OfficialPfuj
پی ٹی آئی کو شدید اختلافات کا سامنا۔۔ سنجیدہ قیادت کی جانب سے علیمہ خان کے کردار پر اعتراضات۔۔ سہیل آفریدی کے خلاف پارلیمانی و صوبائی پارٹی میں بغاوت کی منصوبہ بندی اور جاری سیکیورٹی صورتحال
سینئر صحافی عقیل یوسفزئی کا تبصرہ
@iaqeelyousafzai
لاہور میں بسنت میلے کے انعقاد کی تیاریوں کے باعث پشاور میں تیار ہونے والی پتنگوں اور گڈّیوں کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ کاریگر بڑی تعداد میں پتنگیں تیار کرکے پنجاب بھجوا رہے ہیں۔ مقامی شہریوں نے بھی شہر میں ایس او پیز کے تحت بسنت منانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
@MaryamNSharif
#Lahore
#PunjabNews
پشاور پریس کلب میں اب نوجوان قیادت کھل کر میدان میں آچکی ہے۔
آزادی صحافت،شفاف قیادت اور باوقار صحافتی مستقبل کےلیے جدوجہد ناگزیر ہو چکا ہے۔
اسی جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے بندہ ناچیز @RasoolDawar بھی جوائنٹ سیکریٹری کے امیدوار ہے۔
خاموشی جرم ہے۔
#VoteToJournalistsUnity
پشاور میں کلاشنکوف کلچر اور راہزنوں کا راج قائم ہے۔ دن دیہاڑے ڈکیتیاں معمول،فائرنگ اور لوٹ مار سے شہری خوفزدہ ہے۔
کیا اعلی پولیس افسران کے احکامات ٹک ٹاکرز کے خلاف کاروائیوں تک محدود ہے؟
شہر کی امن و امان کی صورتحال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پشاور میں موٹر سائیکل سوار مسلح راہزنوں نے پھول جیسے 19 سالہ نوجوان مصور احمد کو موبائل نہ دینے پر گولی مار کر قتل کردیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی وائرل ہوگئی ہے۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح موٹر سائیکل سوار راہزن پستول نکال کر نوجوان مصور احمد پر فائر کرتے ہیں،نوجوان گولی لگنے کے باجود آخر تک راہزنوں سے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔حسب معمول پولیس واقعےکی تفتیش کرے گی۔
#Peshawar
#LawAndOrder #Police
@PeshawarCCPO
#IGKP
@KP_Police1
آج 7 ستمبر 2025 کو تاریخی قلعہ بالا حصار پشاور کے سامنے جناح پارک میں نصب صوبے کا سب سے بڑا قومی پرچم سرنگوں ہے۔
معلوم نہیں کونسا سوگ ہے۔
18 اپریل 2011 میں نصب اس پرچم پر 36 لاکھ روپے خرچ ہوئےتھے۔
قومی پرچم کے ساتھ منسلک مشینری کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کے لئے پشاور ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے 4 ملازمین بھی تعینات تھے۔
@DCPeshawar@AliAminKhanPTI
پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فرق
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 40 کلو گندم کی قیمت 3000 روپےمقرر کی گئی جبکہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا پشاور میں 20 کلو آٹا 2450 روپے میں ملتی ہے۔
پنجاب حکومت تاجروں کی خریدی ہوئی گندم روک رہی ہے۔
پنجاب حکومت کی پابندی سےخیبرپختونخوا میں فی کلو آٹا 122 روپے جبکہ پنجاب میں 75 روپے کلو۔
افغانستان/ زلزله / نقصانات
افغانستان کے علاقہ کنڑ میں گزشتہ شب ہونے والے زلزلے کے باعث وٹپور، نورگل ، سوکئ ، چپہ درہ اور مانڑوگی کے علاقوں میں زلزلے سے سینکڑوں گھر منہدم ہوچکے ہیں۔لاشیں،دیواروں اور چھتوں کی نیچے پڑی ہوئی ہے،مشینری کی ضرورت ہے۔ اب تک 815 افراد کی شہادت اور 3000 سے زائید کے زخمی ہوئے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پڑوسی ممالک کی امداد اور فلاحی تنظیموں کے رضاکاروں کا فوری کنڑ پہنچنے ضروری ہے۔
ANP کےسربراہ ایمل ولی خان کہتےہیں کہ بس بہت ہوگیا،سعودی عرب،ملائشیا،انڈونیشیا سمیت بیشتر مسلم ممالک میں رمضان کا اعلان ہوجاتا ہےجبکہ میری یاداشت میں روئیت ہلال کمیٹی نےکھبی چاند نظر آنےکا اعلان نہیں کیا۔کمیٹی قومی خزانےپربوجھ ہےاس سےبائیکاٹ اور آئندہ عید و روز UAE کےساتھ کرینگے
پشاور یونیورسٹی گیٹ کےسامنےطلبہ کا احتجاج، لاٹھی چارج سےمتعدد طلبہ زخمی،طلبہ نےیونیورسٹی روڈ احتجاجاً ٹریفک کےلیےبندکردیا۔یونیورسٹی پیوٹا ھال میں بک فیئر کی اجازت نہ دینے پرطلبہ احتجاج کررہےہیں تھے،پولیس نےپر امن احتجاج پر دھاوا بول کر کئی طلبہ کو زخمی کیا،اسلامی جمیعت طلبہ
یہ مٹی بڑی زرخیر ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سےمتاثرہ ضلع لکی مروت میں محمد اسرار مروت نامی نوجوان نےدوستی،نفرت،محبت،سسپینس، ایکشن اور رومینس سے بھرپور "وقت کے قیدی" کا ناول لکھا۔قارئین ان میں سے کسی نہ کسی کردار کے ساتھ خود کو ضرور کنیکٹ کر پائیں گے۔
خیبرپختونخوا کےسرکاری گوداموں میں 10 ارب روپےمالیت کی گندم خراب ہونےکےمعاملہ پر اپوزیشن ممبران نے وزیرخوراک ظاہر شاہ طورو کو آڑےہاتھوں لیا۔پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق77ہزار762میٹرک ٹن گندم انسانی استعمال کےقابل نہیں ہے۔
https://t.co/H2cOKM8hEi