پاکستان کا پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ منسٹر امریکہ کے دورے پر ہے۔ قبل اس کے کہ آپ کو اسکے دورہ امریکہ کی کچھ مضحکہ خیز تفصیلات بتائی جائیں کچھ عرصہ قبل یہی آدمی آکسفورڈ یونین کی ایک تقریب میں مدعو تھا جہاں اس کی ناجائز حکومت اور مینڈیٹ کا تذکرہ کرکے اسکا تعارف کروایا گیا تو اسکی شکل ایسے تھی جیسے چوک میں کھڑے ہوکر کوئی بدتمیز آدمی اپنے اعضائے مخصوصہ پر خارش کرتا پکڑا جائے تو بناتا ہے۔
جس ویڈیو میں یہ امریکی ائیرپورٹ پر اتر رہا ہے اس میں یہ فرط جذبات میں وہاں کھڑے سیکیورٹی گارڈ سے بھی بس بغل گیر ہوا چاہتا ہے تبصرہ پاڑ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سیکیورٹی گارڈ نہیں سینٹ کام کا چیف تھا۔ ایک اور ویڈیو میں جو بظاہر کوئی بہت شاندار بریفنگ معلوم ہوتی ہے اسی ویڈیو میں بریفنگ دینے والا آدمی جو سر کے اوپر بالوں سے فارغ ہے اندر دماغ سے فارغ وہ شخص اردو میں آکر منسٹر صاحب کو کہتا ہے آپ دیکھنے میں بہت ہینڈسم لگتے ہیں آپ تصویروں سے بھی زیادہ ہینڈسم ہیں اس سے آپ اس بریفننگ کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ایک اور ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تاثر ہے کہ یہ کوئی نہایت اعلی سطح میٹنگ ہے جس میں پاکستان و امریکہ کے ذہین ترین دماغ شاید ویژن 2090 کا بلیو پرنٹ تیار کررہے ہیں۔ تھوڑا سا آگے چل کر دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ میٹنگ ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کی ٹیبل پر چل رہی ہے اور شرکاء صرف کھانے کا انتظار کررہے ہیں۔ اسی طرح ایک پاکستانی اوریجن پروفیسر کے ساتھ ایک یونیورسٹی میں ملاقات ، ایک جگہ تیس ڈالر کا ٹکٹ لیکر انٹری ، ایک اور ریسٹورنٹ میں کچھ افراد کیساتھ کھانے کی دعوت اور ایک کانفرنس روم میں کچھ دیسی لوگ جمع ہیں اور منسٹر صاحب لمبی لمبی پھینک رہے ہیں۔ کتنی ہی “ اعلی سطح میٹنگز “ کسی شاپنگ مال ، کسی ریسٹورنٹ یا کسی پاکستانی کے گھر میں جاری ہیں۔
یہ سب تو وہ تماشے ہیں جو اس منسٹر کو پاکستان میں موجود ذہنی معذوروں کو متاثر کرنے کے لیے کرنا پڑتے ہیں کہ میں نہایت اہم دورے پر ہوں۔ اس کے بیک گراونڈ میں جو چل رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ پاکستانی سیاستدان ، بیوروکریٹ ، اراکین اسمبلی مغربی ممالک میں جب پاکستانی لوگوں سے ملتے ملاتے ہیں ان سے تعلقات بناتے ہیں تو ان سے موبائلز ، پروفیومز ، گھڑیوں ، عینکوں اور برانڈڈ کپڑوں کے تحفے لینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
احسن اقبال کی ویڈیوز میں کتنے ہی شناسا چہرے ہیں جو کئی کئی سال بتاتے رہیں گے کہ وہ کس سیاستدان اور بیوروکریٹ اور فوجی افسر کو کیا کچھ لے کر دے چکے ہیں۔ زیادہ بدتمیز تو یہ بتانے سے بھی نہیں چوکتے کہ صاحب کی بیوی کیا کیا فرمائشیں کرچکی ہے اور کس قدر اصرار کے ساتھ کرچکی ہے۔ ایک پاکستانی بھائی صاحب کے کافی سارے سٹورز اور کنٹرول شیڈز ہیں۔ فرمانے لگے فلاں فلاں بیوروکریٹ تو اپنے ابا جی کی طرح میری عزت کرتا ہے۔ پتہ چلا انکے ہر سیزن کے کپڑے جوتے بابو کے یہی “ ابا جی “ بھجواتے ہیں۔
اس ریس میں تبصرہ پاڑ نما صحافی بھی پیچھے نہیں۔ لیکن چونکہ یہ اوورسیز کے زیادہ کام نہیں نکلوا سکتے تو انہیں مفت روٹی و رہائش پر ہی رام کرلیا جاتا ہے۔ پراڈا اور لوئی وٹان کی جگہ سکیچرز پر ہی خوش ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ صحافی اپنی لمبی لمبی پوسٹوں میں انکی مہمان نوازی کے گن گاتے رہتے ہیں۔آخری قصہ سن لیجیے جس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے گی ایک دوست کے ساتھ کھانا کھانے گیا۔ واپسی پر تھوڑی دیر کے لیے ایپل سٹور پر رکے نیا آئی فون خریدا پوچھا کس کے لیے ہے فرمانے لگے ہمارے علاقے کا تھانیدار ہے۔ بڑا تابعدار ہے۔ شریکوں کو بُولی کتے کی طرح پڑ جاتا ہے ، اس کے بیٹے کا میسج آیا تھا فون چاہیے۔
یہ حال ہے اوورسیز جیالے کا۔ آپ نے بھی بس ہیڈنگ پڑھی۔
اکنامسٹ کی رپورٹ Economist Intelligence Unit’s annual Global Liveability Index 2026. کے نام سے ہے جس میں کراچی کا نمبر 171 ہے اس کو ڈان نے اس طرح چھاپا ہے کہ کراچی لیسٹ لیو ایبل ہے۔
ٹکے ٹکے کے صحافی۔
Horrific brutality and breach of international law in the UAE....
Why is the UAE treating them so badly?
Is the UAE's safety just for the Cameras and tourists?
Two men are being illegally detained and facing Brutal abuse, including electric shocks..
Salman (my husband) had his teeth pulled and a lesion removed without anesthesia, And was kicKed in the ribs.
Junaid ( -3.5 vision) was denied his Prescription glasses. During his illegal detention,his Weight dropped by 25kg..
Despite losing consciousness from a dangerously high fever,he was denied medical attention.
As a Wife, I appeal to Human Rights Organizations to look into the illegal detention of my husband and his friend in the UAE. They face extreme mistreatment and receive no medical care.
Please intervene....we demand Justice...
#JusticeForJunaidAndSalman
@hrw@amnesty@mofauae@UNHumanRights@MarioNawfal@worqas@EU_Commission@jacksonhinkle@TIME@AlJazeera@FoxNews
تم ہمارا مینڈیٹ چھینتے ہو
تم ہم پر گولیاں چلاتے ہو
تم ہمیں جیلوں میں پھینکتے ہو
تم ہماری خواتین پر ہاتھ ڈالتے ہو
تم ہمیں اذیتیں دیتے ہو
ہم تمہیں کس منہ سے زندہ باد کہیں؟
#BOMB#SHELL#NEWS
CCD Sheikhupura has placed a 32 year old woman into illegal confinement 9 months after killing of her husband in an “encounter”
The woman, identified as Tabbasum d/o Muhammad Ramzan, has been kept in illegal confinement in CCD Police Station Dana Mandi in Sheikhupura by ASI Azmat
According to victim family, CCD shot dead Shahid, the husband of woman, some 9 months ago in an encounter whereas two friends of Shahid namely Kaka and Qasim visited residence of Tabbasum in Aashia Stop Pindh Number 5 following a raid carried out by the CCD.
During raid, CCD picked up Kaka, Azmat, Hamza and Wasim and shifted them to police station. Later on in the night raid, CCD also held Tabbasum and moved her to unknwon location.
In a surprising move, ASI Azmat released Hamza and Wasim agaisnt Rs 50k bribe but kept Tabbasum in illegal detention.
ASI Azmat during an interaction denied he rounded up Ms Tabbasum. Whereas, the family of Tabbasum have voice call records of ASI Azmat in which he could be heard saying, “I would release Hamza against bribe but would not allow Tabbasum to go home,”
Victim family appealed CM Punjab and Incharge CCD to come forward to rescue Tabbasum.
برطانیہ سے سرونگ بریگیڈیئرز کو سویلین ایڈمنسٹریشن کے کورسز کروائے جا رہے ہیں ۔پاکستان کو عسکریت میں ڈھالے جانے کی پوری کاروائی ہو رہی ہے “
جس فوج کا سربراہ خود آئین، قانون اور اپنے حلف کی پاسداری محروم ہو، وہ سویلین ایڈمنسٹریشن سیکھنے کے لیے بریگیڈیئرز کو برطانیہ بھیج رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس فوج کو آئین کے تابع رہنے کی تربیت کی ضرورت ہے، وہ ہی فوج کے نصاب میں شامل نہیں۔
جب ہر شعبہ وردی کے سپرد ہی کرنا ہے تو پھر آئین، پارلیمنٹ اور سول سروس کو بھی میوزیم میں رکھ دیں۔ملک و قوم کا اتنا پیسہ “تربیت”کے نام پہ برباد کرنے کی ضرورت کیا ہے؟
جیسے آج کل لوگ اصلی و جعلی ورک پرمٹس پر برطانیہ دوڑ رہے ہیں ویسے ہی تب سٹڈی ویزے ہوتے تھے۔ دو کمروں کا کالج ، سال کا ویزہ ، آٹھ لاکھ کی بنک سٹیٹمنٹ ، نا کوئی لینگوئج ٹیسٹ اور نا کوئی رکاوٹ۔ برطانیہ پہنچ کر پتہ چلتا کہ فراڈ ہوچکا ہے۔ ڈگری نہیں یہ کوئی ڈپلومہ سا ہے اور جس پتے پر کالج رجسٹرڈ ہے وہاں پر کوئی دو درجن مزید کالج بھی رجسٹرڈ ہیں۔ اللہ تیری یاری۔ شومئی قسمت عین انہی سالوں میں عالمی مالیاتی بحران آگیا۔ جس کا ساٹھ ستر سو پاونڈ ہفتہ کا کوئی جگاڑ ہوا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اب تین رستے تھے۔ گھر واپسی ، گھر سے پیسے منگوا کر گزارا یا پھر حالات سے لڑائی۔ گھر واپس جاتا تو بڈھا ٹانگ میں گولی ماردیتا۔ گھر پیسے ہوتے تو یہاں امب لینے آتے ، حالات سے لڑنے کا آپشن بچا تھا۔
سات دن دس گھنٹے ایک کار واش پر نوکری ملی۔ کل تنخواہ دو وقت کی روٹی ، کار واش کے سٹورروم میں رہنے کی جگہ تھی۔ ٹپ کا کچھ خاص رواج نہیں تھا۔ جو ہوتی وہ بھی مالک کو دینا ہوتی تھی۔ ہاتھ کی صفائی سے کبھی دس بیس پینی پچاس پینی سائیڈ پر کرلیے جاتے اور بئیر کا ایک آدھ کین آجاتا۔ چھ سات دن بعد ایک جاننے والے آیا تو اس نے ترس کھا کر ایک واٹر پروف سوٹ لے دیا۔ اسکے باوجود ہاتھوں پیروں سے ماس اتر رہا تھا۔ ایک دو جگہوں سے گوشت نظر آنا شروع گیا تھا جس پر کپڑے لپیٹ لیتا۔ دوسرے تیسرے دن ہمت جمع کرکے گھر فون کرلیتا اور اگلی دو تین راتیں رو لیتا۔ نا سوچیں تو کچھ بھی نہیں سوچیں تو اذیتیں بہت۔
ہر وقت کے بھیگے ہوئے کپڑوں کی بدبو ، سٹور میں پڑے مختلف کیمیکلز کی بدبو ، سٹور سے جڑے کسٹمر ٹوائلٹ کی بدبو، لوگوں کی کاٹ کھاتی ہوئی نظریں ، مالک کی روک ٹوک ، ٹکا آمدن نہیں ، پیچھے جو خواب دیکھ کر اور دکھا کر آیا تھا وہ تو کرچی کرچی تھی اب تو جسم بھی ٹوٹتا تھا۔ ادھر ادھر کام ڈھونڈنے کے جتنے جتن تھے وہ کرلیے۔ کرائسسز بڑھتا رہا اور ملنے والی ہر نوکری سخت سے سخت تر۔ لہذا اسی پر گزارا کیا۔
وقت گزر جاتا ہے اور پھر اسکے نقوش بھی مدہم ہوجاتے ہیں۔ اس دور کی ایک ڈائری میرے پاس موجود ہے جو یادیں تازہ رکھتی ہے۔ اس میں وہ خط موجود ہیں جو میں نے ماں کو لکھے ، باپ کو لکھے ، اللہ میاں کو لکھے ، رانو کو لکھے ، اپنے کچھ دوستوں کو لکھے۔ لیکن کبھی پوسٹ نہ کیے۔ ایک تو پوسٹ کرنے کے پیسے نہیں تھے ، اللہ میاں کا ڈاک کا پتہ معلوم نہیں تھا اور ایک موٹی سی ڈائری میں لکھے گئے خط بھلا کیسے پوسٹ ہوسکتے ہیں۔ میں نے کچھ سال دو بس اسی کیفیت میں گزارے۔
پھر وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت کیساتھ ہوتا ہے۔ گزر جاتا ہے۔ اب اگر بتاؤں گا ایک کسٹمر گوری کو مجھ سے محبت ہوئی ، ہم نے شادی کرلی اور مجھے کارڈ مل گیا تو آپ کہیں گے بکواس کرتا ہے ، کروں گا ، میری بکواس میری مرضی۔ اب اس شہر میں میری دس بارہ ملین کی پراپرٹی ہے۔ میری پچھلی گاڑی ایک عدد رینج روور تھی۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ دو عدد مزید بیویوں کی کمی ہے۔ وہ بھی اللہ دے گا۔ ملک کے حالات سے دل اداس ہے۔ کرپشن کی بدبو ، ناانصافی کی بدبو ، عسکری ٹوائلٹ کی بدبو ، معصوموں کے خون کی بدبو ، میں برداشت بھی کرتا ہوں روتا بھی ہوں۔ لیکن مجھے پتہ ہے مشکل وقت کیساتھ ایک بڑا خوشگوار حادثہ ہوتا ہے ، یہ گزر جاتا ہے۔ یہ ساری بدبو ایک دن ختم ہوجائے گی اور ہم صاف ستھرے گھروں میں ، صاف ستھرے بستروں میں ، صاف ستھرے نظام اور صاف ستھری جمہوریت میں اٹھیں گے۔
اگر ہماری انفرادی زندگیاں بدل گئیں تو اجتماعی بھی بدل جائیں گی۔
اس ویڈیو میں پاکستان کیلئے ایک سبق ہے کہ ایک پاگل کتے نے بھینس کو کاٹا ۔ تو ایک بندے نے آکر کتے کو ڈنڈے سے مارا اور بھینس کو بچالیا لیکن ایک شخص کتے کا دفاع کرنے پہنچ گیا کہ اس کو نہیں مارو ۔ تھوڑی دیر بعد کتے نے اُسی دفاع کرنے والے کو کاٹ لیا ۔
"گجرات کے جس لڑکے کو فوت ہونے کے بعد باعزت بری کیا گیا جب جج نے اس کو سزا سنائی تھی وہ سٹریچر پر عدالت آیا تھا اور جج نے کہا تھا کہ سٹریچر پر لاؤ ، یہ جج نہ دنیا میں بچیں گے اور نہ اللہ کی عدالت سے بچیں گے جج کو چاہیے اس کے گھر والوں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگے اور اپنے عہدے سے استعفی دے۔یہ جج انصاف نہیں کررہے ان کو لکھا ہوا حکم آتا اس پر عمل کرتے ان کو اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے"۔
نورین خان نیازی
@Noreen_KhanPK
Fizeram um compilado de 4 minutos mostrando os lances em que a Argentina foi favorecida contra o Egito.
Simplesmente um escândalo mundial. Quanta sujeira envolvida. 🤢
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
@RShahzaddk یہی سوال تو حسن نواز اور حسین نواز سے ہوا تھا کہ سولہ سلا کی عمر میں مئے فئیر لندن میں فلیٹس کیسے خریدے تو کہا دادا امیر تھا۔ اس کا نانا امیر ہے اکھاڑ لو۔
بزدار وزیراعلی بنا تو خوشامدی مشیر و کابینہ ایک بل لے آئے کہ ہر سابق وزیراعلی کو یہ یہ مراعات ملیں گی جس کا لاہور میں گھر نہیں ہوگا اسکو بی او آر میں گھر ملے گا اور فلاں فلاں الاونس ملے گا۔ سوشل میڈیا نے بزدار سرکار کی چھترول کی۔ عمران خان نے نوٹس لیکر بل واپس کروا دیا۔
پختونخواہ کے اراکین اسمبلی نے بھی ویسی ہی کمینی اور گری ہوئی حرکت کی ہے۔ سوشل میڈیا انکو ذلیل بھی کرے گا۔ لیکن اب عمران خان کی آواز بند ہے ورنہ پہلی فرصت میں اس قراداد پر تنبیہہ کرتا۔ عمران خان کی قید فوج ، ملک دشمنوں اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔
محترم وزیرِ اعلیٰ صاحب، میں نے پہلے بھی درخواست کی تھی، شاید آپ مصروف ہیں یا میری بات آپ تک پہنچ نہیں سکی۔ آج ایک بار پھر آپ سے اس سنگین معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کرتی ہوں۔
میرے شوہر سلمان رضا اور ان کے دوست جنید جہانگیر کو یو اے ای میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں الیکٹرک شاکس (بجلی کے جھٹکوں) سمیت ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔ سلمان کے دانت کھینچ لیے گئے، انہیں بے ہوش کیے بغیر ان کی سرجری کی گئی، اور ان کی پسلیوں پر بے دردی سے مارا گیا۔
جنید (جن کی نظر -3.5 ہے) کو ان کی نظر کی عینک دینے سے انکار کر دیا گیا اور انہیں تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا ۔
غیر قانونی حراست کے دوران، جنید جہانگیر کی صحت شدید متاثر ہوئی ہے اور ان کا 25 کلو وزن کم ہو گیا ہے۔ شدید بخار کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئے، لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی۔
براہِ کرم انصاف کے لیے مداخلت کریں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو اٹھائیں۔ براہِ کرم ان کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمیں اس وقت آپ کے تعاون کی شدید ضرورت ہے۔
#JusticeForJunaidAndSalman
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@YarMKNiazi
لوگ مختصر عرصے کے لیے لڑنا یا جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ انکی اکثریت جلد نتائج مانگتی ہے۔ حالانکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے عوام کی یہ لڑائی دراصل اعصاب کی ایک لمبی جنگ ہے۔ اس میں وہی جیتے گا جو صبر اور استقامت سے کام لے گا۔ مجھے گزشتہ چند دنوں میں کئی ایسے لوگوں سے مایوسی کی بو آئی جو شروع میں کافی مضبوط دکھائی دیتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اسی لیے انسان کو صبر کی اہمیت بار بار کلام پاک میں بھی بتائی۔ اسٹیبلشمنٹ یہ جانتی ہے کہ وہ لڑائی جتنی لمبی کھینچیں گے عملی جدوجہد والے اتنے مایوس ہوں گے مگر لوگوں کی مایوسی کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہو گئے ہیں بس وہ کوشش روک دیں گے یا کم کر دیں گے لیکن جیسے ہی کوئی امید جاگے گی تو پھر اکٹھے ہو جائیں گے۔ لہذا مایوس ہونے یا مایوسی پھیلانے کی بجائے ایک دیا جلائیے تاکہ روشنی بڑھے۔
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
طبی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔