یہ صاحب کس طرح کی معافی مانگ رہے ہیں نہ چہرے پر کوئی شرمندگی ہے نہ افسوس ہے بلکہ ڈھٹائی کیساتھ مسکرا بھی رہے ہیں ۔ ان کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے اور حکومت خود ان پر پرچہ کرائے ۔ یہ پاد کاسٹر ایسے آزاد نہیں چھوڑے جاسکتے
الحمداللہ استقبال دیکھ کر سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ ۔
چین نے ایسا استقبال بہت عرصے بعد کیا ہے شہبازشریف کا ایک فاتح سپہ سالار کی طرح استقبال کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو ہر طرف پھیلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
تم چلی گئیں ۔ مجھے خوشی ہے تمہارا درد ختم ہوا۔ تمہاری فکریں ختم ہوئیں ۔ مجھے خوشی ہے تم چلی گئیں ۔ تمہاری تکلیف ختم ہوئی ۔ مجھے خوشی ہے تمہارے ساٹھ زندگی کا طویل عرصہ گزارا ۔ مجھے خوشی ہے تم نے اپنی حیثیت اپنی ہمت اپنی capacity کے مطابق اپنے ٹارگٹ کامیابی سے پورے کئے ۔ تم نے اپنی اولاد کی خوشیاں دیکھیں ۔ مجھے خوشی ہے تم نے 80 سال پار کئے ۔ مجھے خوشی تم میرے پاس رہیں ۔ مجھے خوشی ہے تم میرے ہاتھوں میں گئیں ۔ تمہاری زندگی کی آخری راتیں میں تمہارے ساتھ لگ کر سوئی ۔ جیسے بچپن میں سوتی تھی۔ تم میرے پاگل پن کو accept کرتی تھیں تم میری بے لگام زبان پر کبھی ہنستی اور کبھی غصہ ہوتی ۔ میرے لا مذہب ہونے میرے سگریٹ پینے میرے باغی پن کو سمجھتی تھیں ۔ میری کامیابیوں پر نہال ہوتی میرے اداس چہرے کو دور سے پڑھ لیتی ۔۔تم نہیں ہو۔ تمہاری الماری میں تمہاری چیزیں رکھی ہیں تمہاری slippers پہن کر دیکھ رہی ہوں ۔ کتنی تنگ تھیں ۔ تم۔نے بتایا نہیں کبھی ۔ تمہارا چشمہ ٹوٹ گیا تم بولی نہیں ۔ تمکو میرے کپڑوں اور جوتوں کی فکر سے فرصت نہیں تھی۔ تمہارے پرس میں میرے سوٹ کیس چابی رکھی ہے ۔ تمہارا پرس گلے لگا کر بیٹھی ہوں ۔ کچھ بھی چھیڑنے کی ہمت نہیں ہو رہی ۔ تمہارا بستر تمہاری خوشبو سے بھرا ہے ۔ میرے درد میں چار چاند لگا رہا ہے ۔ میں نے ابھی اپنے کیریئر میں آگے جانا تھا صرف تم کو دکھانے کے لئے ۔ تم چلی گئیں ۔ تمہارا درد ختم ہوا مجھے خوشی ہے ۔ تم درد سے ازاد ہو گئیں ۔ مجھے درد کے ساتھ چھوڑ گئیں ۔ ۔ میں اتنی بہادر نہیں ہوں۔ تم نے سب سکھایا بس یہ نہیں سکھایا کہ تمہارے غم کیساتھ کیسے اور کتنا جینا ہے ۔ میرے ساتھ یہاں زیادتی کی تم نے ۔ یہ تو بتا جاتی کہ کب تک بھولوں گی تم کو۔ خدا کرے جلدی بھول جاؤں تمہیں ۔ یہ تو بتا جاتی تم۔میری جگہ ہوتی تو کیا کرتی ۔
اچھا ان کا لیڈر جلسوں میں دوسروں کو میر جعفر اور میر صادق کہہ کر پکارتا ہوتا تھا اور اس کے چاہنے یہاں دن رات اپنی اصل اوقات دکھا رہے ہوتے۔۔۔۔
او کنجروں جب کوئی گھر پر حملے کی کوشش کرے تو گھر والے آپس میں رونا دھونا شروع نہیں کرتے بلکہ آپس میں مل کر حملہ کرنے والوں کو دھوتے ہیں
آپ نے منع تو کیا تھا لیکن خیر سے آپ نے چھوڑی ہی اتنی بڑی کہ ایک لاکھ بیس ہزار لوگ بیٹھے میچ دیکھ رہے تھے گراؤنڈ میں اس لیے Eden Garden کی Capacity کا سکرین شاٹ بھی لگا رہا ساتھ تاکہ سند رہے 😆
@wasimakramlive