بقول فیصل واوُڈا کے پارٹ ون ہو گیا اب پارٹ 2 پارٹ 3 پارٹ 4 بھی ہے یعنی ایک صوبے میں گورنر راج لگ گیا اب دوسرے تیسرے پھر چوتھے کی باری ہے، لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں۔۔۔
آج اگر پاکستانی اپنے حقوق لینے کے لئے باہر نا نکلے، تو پھر ان کی زندگیاں ایک طویل تاریکی اور کسمپرسی میں دھکیل دی جائیں گی، جہاں سے فرار بھی قریب ناممکن ہوگا۔
جس ملک میں چھینک مارنے پر آڈیو/ویڈیوز سامنے آ جاتی ہیں حیرت ہے وہاں سہیل آفریدی کی اب تک نہ تو دہشت گردوں کیساتھ کوئی آڈیو لیک ہوئی ، نہ ویڈیو اور نہ ہی کوئی تصاویر : لگتا ہے فیکٹری میں تیار ہو رہی ہیں۔
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
جو سیاست عمران خان سوچ کے کر رہے ہیں، تو عمران خان کے بھنور میں یہ پھنس چکے ہیں، عمران خان چاہتے تھے کہ اسٹبلشمنٹ اپنا ہی ہتھیار بھی چلا لے گورنر راج لگا کر، ذیشان عزیز
کس نے سوچا تھا پچاس برس پہلے مولانا مودودی کا لگایا ہوا یہ ننھا منا سا پودا ،، اوہ سوری پرانی کیسٹ چل گئی ۔
کس نے چار سال پہلے سوچا تھا کہ فوج کے زندوں مردوں کی کوئی عزت نہ بچی ہوگی۔ فوج کی اہلیت اور حب الوطنی کے پردے چاک ہوجائیں گے اور شریف زرداری خاندان کی قابلیت اور جمہوریت پسندی کے۔ ہر گزرتا دن ان کے لیے نئی اذیت نئی ناکامی لائے گا۔ ایک بندوق کی طاقت کب تک بچائے گی؟
کے پی سے کبھی پنجابیوں کی لاشیں نہیں آئیں، نہ کبھی مال بردار گاڑیوں کو جلایا گیا ، نہ کوئی ایسا علاقہ ہے جہاں مسلح افراد نے قبضہ کر لیا ہو ، اوریا مقبول جان
ایک صحافی کہہ رہا سہیل آفریدی کو مولانا نے ٹریپ کیا ایک کہہ رہا نہیں بلکل نہیں کیا ایک کہہ رہا وزیر اعلی ہاوُس بلا کے دھوکے سے اپنوں نے گرفتار کروایا ایک کہہ رہا وہ اسلام آباد سے گرفتار ہوا، ان صحافیوں اور ان کے ذرائع نے آدھے سے زیادہ یوتھیوں کے دماغ میں شک کے بیج بوئے ہیں۔۔۔
جلسے بڑے ہوگئے تو کہا فوج نے کروائے ہیں
فوج کے خلاف ہوئے اور بہت بڑے ہوگئے تو کہا کلٹ ہیں
جلسے بہت زیادہ بڑے ہوئے تو کہا اصل چیز ووٹ ہے
بغیر جلسوں کے الیکشن جیت گئے تو کہا یہ ملک دشمن ہیں
نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے تو کہا یہ دہشتگرد ہیں
بندوق کے خوف سے خاموش ہیں تو کہا یہ باہر کیوں نہیں نکلتے
کہا سوشل میڈیا کے لائکس ویوز سے کچھ نہیں ہوتا
پھر کہتے ہیں اس ملک میں جو ہورہا ہے سوشل میڈیا وجہ ہے
بند محفلوں میں کہا ہم فیصلہ کریں گے کون ملک چلائے گا
عوام کے سامنے آگئے تو کہا ہمارا سیاست سے تعلق نہیں
اقتدار سے نکالا تو کہا اس نے معیشت خراب کردی
خود اقتدار میں آئے تو کہا اسکی وجہ سے ٹھیک نہیں ہورہی
شریف زرداری خاندان کو شکست دیکر اقتدار میں آگئے تو کہتے ہیں اسے فوج لائی
فوج نے شریف زرداری کو کٹھ پتلی بنایا تو کہا فوج کو سیاست میں واپس یہ لائے
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی کابینہ کا اہم اجلاس
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی کابینہ کا اہم اجلاس سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں صوبے کی منتخب حکومت کو معطل کرنے، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے غیر جمہوری اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔
خیبر پختوُخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اور پارٹی قائدین کے اغوا کو شرمناک قرار دیا گیا۔
کابینہ کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر اغوا قیادت کی فوری بازیابی اور رہائی کا مطالبہ۔
وفاقی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف صوبہ بھر میں پُرامن احتجاج کے لیے تمام تنظیموں کو ہدایات جاری کی گئیں۔
منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوشش عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے، اجلاس میں مؤقف۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوام کے مینڈیٹ کا سودا نہ کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
گورنر نے ڈکٹیٹر کے لہجے میں خیبرپختونخوا کے عوام کو مخاطب کیا، جو قابلِ مذمت ہے۔
ساڑھے چار کروڑ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، اجلاس میں مطالبہ۔
چیئرمین عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں۔
صوبائی کابینہ کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی فیملی کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ۔
بلوچستان کے بدتر حالات سے منہ چھپا کر خیبرپختونخوا پر اپنی انا کی تسکین کرنا صرف بغضِ تحریک انصاف ہے۔
لانگ مارچ سے خوفزدہ عناصر نے دہشت گردی کے مسئلے کو جواز بنا کر عوامی مینڈیٹ پر حملہ کیا، اجلاس میں مؤقف۔
پی ٹی آئی ملک کی مقبول اور ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے، غیر جمہوری اقدامات جمہوری پارٹیوں کا شیوہ نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف جمہوری حقوق، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اجلاس میں عزم۔
خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے کا احترام کیا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے، اجلاس میں مطالبہ۔
کابینہ کا صوبے میں جمہوری نظام، آئینی حقوق اور سیاسی استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ۔
صوبائی کابینہ کا عدلیہ سے اپنے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ تاکہ ملک مزید بحران کا شکار نہ ہو۔
ڈپٹی جنرل سیکریٹری نواز شانگلہ نے میٹنگ کا اعلامیہ پیش کیا۔
اکرام کھٹانہ ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری تحریک انصاف خیبرپختونخوا
سہیل آفریدی کو سمجھایا جارہا ہے کہ سیاست میں مصلحت ہوتی ہے ، لچک دکھانا پڑتی ہے،حالات دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، ان نصیحتوں میں ایک وضاحت نہیں ملتی کہ مصلحت کے وہ کون سے تقاضے تھے جو پورے نہیں کیے گئے ؟ منتخب حکومت کو اپنے وجود کے بدلے آخر کیا چھوڑنا چاہیے تھا ؟ حبیب اکرم
رجیم چینج کے وقت کہا تحریک انصاف نے معیشت تباہ کردی ہے
عمران خان نے بڑے بڑے جلسےشروع کردیے تو کہا یہ انتشار کی سیاست کرتے ہیں
پھر بھی تحریک انصاف قابو نہ آئی تو عمران خان کو عدالت سے اغواء کرکے کہا یہ شہیدوں کی توہین کرتے ہیں
پھر خود ہر جگہ سے ناکام ہوگئے تو اب تحریک انصاف کو دہشتگرد بنا دیا ہے