سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد @salmanAraja کی میڈیا سے گفتگو
آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان صاحب کی صحت مقدم ہے۔
آج سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ موجود ہونگے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ عمران خان صاحب کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جارہی ہے یہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟وجہ کیا ہے؟ ان کے ساتھ جیل میں ایسا کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ اس تمام عمل کے دوران خان صاحب کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ جو ایک ایم بی بی ایس ہیں منسلک رہیں گی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں وہ بھی اس تمام عمل کا حصہ رہینگے
نئی واردات پکڑی گئی۔ نواز شریف کے حق میں نعرے لگانے والا بچہ کراۓ کا نکلا۔ 😂😂😂
یہی بچہ پیپلز پارٹی کے جلسے میں "جئے بھٹو" کے نعرے لگاتے ہوئے پکڑا گیا۔ 😂🤣
ہر دو نمبر واردات پکڑی جاتی ہے۔ 🤦
پنجاب کا شاہی سرکس !
یہ صرف ایک بوڑھے کا ناچ نہیں تھا، یہ ان کی سوچ تھی کہ یہاں صرف غلام ہوتے ہیں۔
یہاں عوام کو صرف دو کردار دیے گئے ہیں: غلام یا تماشائی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر قبرستان پر نیا رنگ کر دیں گے تو ہمیں نیچے دفن لاشیں نظر نہیں آئیں گی۔
اگر ایک بوڑھے کا ناچنا بھی ہماری غیرت کو نہیں جگا سکتا تو پھر شاید تمہاری غیرت کو قبرستان میں دفن کر دینا چاہیے۔
اس سرکس سے بچنا ہے تو عمران خان کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔
#StreetMovementForKhan
#LetTheWorldSeeImranKhan
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں. آبلے پڑ گئے زبان میں کیا۔
سرحد کے پار دونوں طرف ایک ہی کہانی ہے ایک ہی فارمولے پر لکھی۔ لیکن جب منہ عسکری موتیوں سے بھرے ہوں تو عوام سے بولنے کا حق تو چھینا ہی جاتا ہے لیکن جن کو بولنے کی اجازت ہے ان کی قریبی نظر کمزور کر دی جاتی ہے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
#خان_قید_نہیں_یرغمال_ہے
ان انٹی کا تعلق راجن پور سے ہے ایک ہی بیٹا ہے جو الیکٹرک ڈش ریپیئرنگ کا کام کرتا ہے وہ شدید بیمار ہے خود بیوہ ہیں بیٹی بچوں سمیت ان کے پاس رہتی ہے ۔۔ گھر اپنا نہیں ۔۔۔ حالات یہ ہیں کہ کہتی ہیں کوئی سلام نہین یتا کی دن تو فاقوں میں رہنا پڑتا ہے اگر اپ میں سے کوئی بھی ان سے رابطہ کر کے کچھ عرصے کے لیے جب تک ان کا بیٹا مکمل صحت مند نہیں ہوتا ان کا کچھ ماہانہ وظیفہ لگا دیں تو یہ مشکل کے دن وہ اسانی سے کاٹ پائیں گی
پہلے حکومت ایک ساتھ 55 روپے بڑھاتی تھی ، اب 6 دن میں روزانہ کی بنیاد پر کچھ کچھ بڑھا کر اتنے ہی بڑھا دیے تاکہ عوام کو محسوس نہ ہو 😂
ایک ہزار روپے لیٹر بھی کردیں تو ہم نے بیشرمی اور بیغرتی سے چپ کرکے پیٹرول اور ڈیزل ڈلوانا ہے ، ہمارا علاج ہی یہی ہے کہ یہ حکومت ہمیں لوٹے،نوچے اور برباد کردے
محمد عمیر، ذیشان عزیز اور یاسر شامی تینوں صحافی داد کے مستحق ہیں جیسے انہوں نے غیر ملکی خواتین کے کیس میں ایک ایک پہلو کو رپورٹ کیا۔ خصوصا یاسر شامی کی غازی روڈ سے آنیوالی ویڈیو نے تو سارا کھیل ہی بے نقاب کر دیا۔ اب پولیس اور حکمران مجرموں کی صف میں کھڑے صفائیاں دینے پر مجبور ہیں۔
@MohUmair87@iemziishan
منتہی قتل کیس میں گرفتار باقی چار لوگ کہاں ہیں ؟ منتہی کے ماموں کے بیان سے واضح ہے کہ ایک بندے کو پالیسی مقابلہ بنا کر مار دینے والے CCD اہلکاروں اور افسران کی تفتیش ضروری ہے۔
کیا یہ عین ممکن نہیں کہ جسے مار دیا گیا وہ بیگناہ ہو جسے اصل گناہگار بچانے کیلئے بھینٹ چڑھا دیا گیا
@AttaullahArain6@pasha_samina دیکھیں میرے بھائی میں بڑے پیار سے اپ کو سمجھاتا ہوں اپ کی بھی بہنیں ہوں گی بیٹیاں ہوں گی ماں ہوگی فرض کریں اپ کی کوئی بہن ہے یا فرض کریں اپ کی کوئی بیٹی ہے کیا اپ کو لگتا ہے کہ وہ اپ کی بیٹی ہے مجھے نہیں لگتا مجھے لگتا ہے کہ کسی پٹوارے کی بیٹی ہے اپ کی بالکل نہیں لگتی
چیخنے چلانے کی بجائے اسی طرح منطق دلیل اور تاریخی حقائق سے آئینہ دکھانا قومی اسمبلی میں یہی ایک پارلیمنٹیرین کا اصل کام ہے
ویلڈن بیرسٹر گوہر کمال 👌
ڈان لیکس والے یہ تھے پانامہ والے یہ تھے آپ کے لیڈر جو کو ابھی صدر بنایا میمو گیٹ والے یہ تھے خود وکیلوں کا لباس کر کیس کرنے والا نواز شریف تھا
آگے بھی سنیں
جن کے لیڈر کو قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نپچھلے اٹھ ماہ سے نہ ملاقات کرنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق فیملی کی نگرانی میں ہسپتال میں علاج کروایا جا رہا ہے ان کو کس منہ سے کہتے ہیں کہ 1200 ارب میں حصہ ڈالو
گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج ہمیں قبول نہیں۔ جب تک ہماری نشستیں واپس نہیں کی جاتیں، نہ یہ الیکشن قبول ہیں اور نہ ہی ان نتائج کے ذریعے بننے والی حکومت۔
عمران خان کے نام اور پاکستان تحریک انصاف کا اتنا خوف ہے کہ ایک حساس خطے کو بھی نہ بخشا گیا۔ گلگت بلتستان کوآگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ہم اس بوگس الیکشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔مان لو کہ تم جیل میں بیٹھے ایک شخص سے ہار گئے ہو۔
سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
🚨پاکستانی قوم کی غلامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے ؟
ٹکے ٹکے کے پولیس اہلکاروں کا غریب، باریش ڈرائیوروں کے ساتھ ظالمانہ کارروائیوں ناروا سلوک غلط ہے اس قوم کی بے بسی دیکھ کر افسوس ناک ہے
انہیں ہاتھ اٹھانے کا اختیار کس نے دیا ہے🔥🔥
پاکستان میں ہوائی سفر کا نظام ویسے ہی گھٹیا اور تباہ کن ہے فلائیٹ لیٹ ہونا، مسافروں کو خوار کرنا ائیر لائنز کی طرف سے عین اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔
ائیر سیال @airsial کو میں کچھ بہتر ائیر لائن سمجھتا تھا، ابھی ائیر پورٹ پہنچا تو پتہ چلا فلائیٹ تین گھنٹے لیٹ ہے اور کسی نے مسافروں کو بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، کاونٹر پہ پہنچا تو وہاں بیٹھی محترمہ ڈھنگ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ فرماتی ہیں ہم نے تو میسج کر دیا تھا آپ کو ملا نہیں تو کوئی نیٹ ورک ایشو ہو گا۔
دنیا بھر میں ایک ایک ائیر پورٹ سے روزانہ سیکڑوں ہزاروں جہاز روز اڑتے ہیں، کبھی پانچ منٹ کی تاخیر نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں ان ائیر لائنز والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سروس نام کی کوئی چیز نہیں۔ہرجانہ ادا کرنے کا کوئی تصور نہیں۔بس خوار ہوتے رہیے کیونکہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔
گھٹیا ائیر لائن
@airsial
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰