BSAC BMC UNit
WELCOME PARTY 2026
We are Thrilled announce a welcoming ceremoney,
On behalf of BSAC BMC UNIT, well be held in honor of the newly admitted Students at Bolan Medical college,
We are delighted to welcome you all at BMC.
Date : 24 August 2026
Vaneu: BMC Ground
بلوچستان میں لائبریریوں کی فعالیت اور سہولیات کی فراہمی کے لیے “ بلوچستان لائبریری کیمپئین “کا آغاز کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی سے ہر ذی شعور شخص واقف ہے، جو سالوں سے بلوچ عوام کی قسمت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں شرحِ خواندگی چالیس فیصد سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ بہت سے علاقوں میں بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس کی وجہ ایک طرف جہاں اسکولو�� کی تالابندی ہے، وہیں دوسری جانب ان میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اس کے باوجود محنتی بلوچ نوجوان اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان ذرائع میں سے ایک اہم سہولت لائبریریاں ہیں، جہاں جا کر طلبہ اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ لیکن اسکولوں اور کالجوں کے بعد اب لائبریریاں بھی یا تو بند ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں۔ حکومتی عدم توجہی اور ضلعی انتظامیہ کی بدانتظامی اور بے ضابطگی نے ان لائبریریوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
بلوچستان میں لائبریریاں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک طرف جہاں متعدد علاقوں میں لائبریریوں کا نام و نشان تک نہیں اور ان کی عمارتیں بھی وجود نہیں رکھتیں، وہیں دوسری طرف پچھلے کچھ سالوں سے قائم پبلک لائبریریوں میں چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد انہیں بند کر دیا گیا ہے۔ ان کی واضح مثال مستونگ اور قلات میں لائبریریوں میں چوری اور توڑ پھوڑ کے رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش ��ے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچ طلبہ تعلیمی سہولیات سے محروم رہیں۔ یہ حکومتی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ آج تک ایک بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ واضح رہے کہ ہم نے بارہا حکومت کو اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان لائبریریوں کو بحال کرنا تو دور کی بات، جو لائبریریاں پہلے سے موجود ہیں انہیں بھی ب��د کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک نصیر آباد پبلک لائبریری بھی پچھلے کئی مہینوں سے بند پڑی ہے، جہاں نہ بیٹھنے کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بجلی اور پنکھوں کی سہولت موجود ہے۔ نصیر آباد جیسے گرم ترین علاقے میں ان سہولیات کا نہ ہونا لائبریری کو عملًا بند کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح پورے ضلع خاران میں صرف ایک لائبریری ہے، جو کہ محض ایک کمرے پر مشتمل ہے اور تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ وہاں نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی بجلی یا دیگر سہولیات میسر ہیں۔ اسی ایک کمرے کے ایک چھوٹے سے کونے میں طالبات بھی پڑھتی ہیں۔ ان کے لیے ایک الگ لائبریری کی عمارت منظور تو ہوئی ہے، لیکن آج تک اس کی بنیاد نہیں رکھی جا سکی۔ مزید برآں، کراچی کے بلوچ علاقوں خاص لیاری، لیمارکیٹ اور ملیر میں لائبریریز یا تو بند کئے گئے ہیں یا پھر کمیونٹی حال اور بوکسنگ کلبز میں تبدیل کروائے گئے ہیں، جوکہ انتہائی قابِل افسوس ہے۔
ہم بند اور غیر فعال لائبریریوں کی بحالی سمیت پہلے سے موجود لائبریریوں میں سہولیات کے فقدان پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اسے تعلیم دشمنی سمجھتے ہیں۔ ہم میڈیا کے توسط سے بلوچستان میں نئی لائبریریوں کے قیام، بند اور غیر فعال لائبریریوں کی بحالی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ”بلوچستان لائبریری مہم“ کے نام سے ایک لائبریری کیمپئن کا آغاز کررہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے ہم حکومتِ وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لائبریریوں کی فعال سازی اور درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جدّی فیصلہ سازی کرے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
The govt claims to hear the peaceful voices, but the reality differs on the ground. Fozia Baloch is struggling to safely recover his forcibly disappeared brother Dadshah Baloch, but being threatened to stay silent. Treating the peaceful voices violently suffers the people more.
The Kangaroo Courts are not for Ensuring Justice, however, these are the part of Jingoistic Law & Justice system.
Sentencing Dr Mahrang, Shahji, & Balach Qadir, counts to be shattering the whole judiciary system & its entire credibility.
The upper courts & forums must stand up.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ جیسے سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا کا فیصلہ سنانا پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں سیاسی کارکنان کو عرصہ دراز سے کڑے حالات کا سامنا رہا ہے، جس میں قید و بند، ہراسانی اور مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن سمیت کئی طرح کے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ بلوچستان میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے، فیئر ٹرائل کے فقدان اور شفاف تحقیقات کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف سیاسی طور پر باشعور لوگ، بلکہ اب عام عوام بھی انصاف کی فراہمی سے مایوس ہو چکی ہے۔ اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کی داد رسی نہ ہونا اور شفاف مروجہ طریقہ کار کا نہ ہونا ہے۔
بلوچ سیاسی کارکنان پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جہاں نہ تو انہیں منصفانہ سماعت کا موقع دیا گیا اور نہ ہی کوئی شفاف تحقیقات کرائی گئی۔ ایک طرف جیل میں ان کے ساتھ ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے، تو دوسری طرف انہیں اپنا موقف پیش کرنے اور اپنے بنیادی و قانونی حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی وکلا چننے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ یہ اقدامات بلوچستان میں جاری پُرامن سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھوٹنے کے برابر ہیں، جنہیں اب قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ ہمارا موقف اس بات پر قائم ہیں کہ کسی بھی شخص پر کوئی بھی الزام ہو، ثبوت اور گواہوں کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کے بعد اوپن کورٹ میں اس کا ٹرائل ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں ہر قدم اور ہر سزا صرف سیاسی انتقام اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے دی جاتی ہے، جو کہ انسانی حقوق اور 'اصولِ انصاف' کے سراسر خلاف ہے۔ جس ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں، وہاں ایسے فیصلے 'کالے قوانین' کے دائرے میں آتے ہیں۔
بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے عمل کو ہم شفافیت اور انصاف کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اسے انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ بنیادی انسانی حقوق پر ایک سنگیں حملہ ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ ہتھکنڈے پُرامن سیاسی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش ہیں، کیونکہ پُرامن سیاسی عمل کسی خوف یا ڈر کے سامنے نہیں جھکتا۔ بلوچ سیاسی کارکنان کو محض پُرامن سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں جھوٹے کیسز پر اتنی بڑی سزا ��ینا اس نظام پر ایک سیاہ داغ ہے۔ ہم بطور ایک طلباء تنظیم اس ناانصافی، غیر شفافیت اور انتقامی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
The true and peaceful political activists of Balochistan are in jailed for more than a year of no any legal proceedings.
The constant unfair trails have caused uncertain political tensions in Balochistan. This is never justified by any law.
#EndUnfairTrialsOfBYCLeaders
اساتذوں کی جبری ریٹائرمنٹ کرکے انتقامی کاروائی کرنا غیر جمہوری اور افسوسناک عمل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں تعلیمی زبوں حالی کی صورتِ حال عرصہِ دراز سے چلی آ رہی ہے، ہر آنے والی حکومت تعلیمی تبدیلی کے دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی اقدامات سے کوسوں دور نظر آتی ہے۔ جہاں ایک جانب حکومتیں بشمولِ موجودہ حکومت، ہمیشہ تعلیمی بہتری، کوالٹی ایجوکیشن اور شرحِ خواندگی کو بڑھانے کی باتیں کرتی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اساتذہ اور معیاری تعلیم تو دور، اسکول تک موجود نہیں ہیں۔ اس طرح کی صورتِ حال بلوچستان میں جاری تعلیمی پسماندگی کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ لمحہِ فکریہ ہے۔
بلوچستان میں سرکاری ملازمین پچھلے ایک سال سے اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاجاً سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں، جن میں اکثریت پروفیسرز اور اساتذہ کی ہے۔ حکومت جہاں ایک جانب تعلیمی بہتری کے کئی دعوے کر چکی ہے، وہیں دوسری جانب اِن اساتذہ کی جا��ز مطالبات سننے کے لئے تیار نہیں، اور اب پچھلے کچھ دنوں سے اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازمین کو جبراً ریٹائر کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ یہ جبری ریٹائرمنٹ کا عمل اُن اساتذہ اور ملازمین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے دستبردار کرنے کا حربہ ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات بلوچستان کو تعلیم کے حصول سے دور رکھنے اور یہاں کی شرحِ خواندگی کو کم کرنے کی ایک سازش ہے، کیونکہ بلوچستان میں پہلے سے ہی اساتذہ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے کئی اسکولز بند پڑے ہیں اور وہ حقیقی اسکولوں کے بجائے “گھوسٹ اسکولز” کہلاتے ہیں۔
اساتذہ کسی بھی معاشر�� کی ترقی کا اہم جُز سمجھے جاتے ہیں، اور اساتذہ ہی تعلیمی انقلاب لانے کی بنیادی اکائی ہیں۔ اُن کی اس طرح تذلیل ناقابلِ قبول ہے۔ ہمارا اساتذہ کے ساتھ رشتہ فکری اور روحانی ہے، جو اپنی محنت اور خلوص سے طلبہ کو ایک مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ معاشرے کی ترقی، سماجی فلاح و بہبود اور شعوری سفر اساتذہ کے کردار کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم بطور طلبہ تنظیم اساتذہ کی جبری ریٹائرمنٹ کے عمل کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تعلیم دشمن پالیسی پر نظرِثانی کر کے اس فیصلے کو جلد از جلد واپس لے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
براہوئی بولی نا پنی آ شاعر خواجہ عبدالجبار یار ئنا ودی مننگ نا دے آ اودے دروت ندر کینہ۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ ڈیہہ ہمو سرزمین ءِ کہ داڑے ہر وخت آ جتا ءُ پن و کڑدار ودی مسنے۔ ہرافتیٹی پروفیسر، اُستاد، دانشور، ادیب و شاعر آتیتون اوار جتا ءُ رہشون آک اوار ءُ۔ نن بلوچستان نا ہرا ہم ہند ئنا زی آ گپ کین گڑا ننے خننگ آ بریک کہ ہر ہند ئنا تینا جتا ءُ کڑدار ءُ ہرافک بلوچ سیاست، ادب، راج و چاگڑد ءِ شونداری تننگ تون اوار وخت وخت ئنا زی آ راج و چاگڑد نا جوانی ئٹ رہشونی ءِ کرینو۔ ہمو ہند آتیٹی اسٹ شال ءِ ہرا بلوچ نا سیاسی بنجاہ ہم پاننگک۔ داڑے بھاز پنی ءُ کڑدار و رہشون ودی مسنے ہرافتیٹی اسٹ خواجہ عبدالجبار یار ءِ۔ خواجہ جبار یار براہوئی بولی نا اسہ پنی ءُ شاعر و مفکر اس ئسک۔
خواجہ جبار یار 3 جون 1949 ئٹی شال ئٹ ودی مس۔ او تینا بنائی خواننگ ءِ گورنمنٹ ہائی اسکول شال آن کرے، و مونی او براہوئی فاضل نا ڈگری ءِ بلوچستان یونیورسٹی آن دوئی کرے۔ خواجہ تینا شاعری نا سفر ءِ 1977 آن بنا کیک و سنجیدہ شاعری تون اوار او بوگ شوگ شاعری ہم کرینے۔ بلوچ ادب ئٹ اونا بوگ شوگ شاعری گیشتر پنی ئس اندا سوب آن خواجہ جب��ر یار براہوئی بولی ٹی بوگ شوگ شاعری نا بادشاہ پاننگک۔ ولے اونا دا شاعری ٹی پنت و نصیحت تون اوار بھاز ہند آ طنز نا ہم رنگ اس خننگ آ بریک۔ دنکہ او جاہ اس پائک کہ ”نی سیر سوا سیرئنا ہیت آتے کریسہ، نے تول کرینٹ نی فقط چار گرام اُس۔“ اونا شعر آتے ریڈیو پاکستان ئٹ ہم پاننگانے۔ خواجہ ءِ براہوئی ادب تون بھاز مہر ئس ہرانا سوب آن او تینا ذند ئٹ ادبی پروگرام اڈ تسکہ اونا اسہ پروگرام اس ”جشنِ یار“ گیشتر پنی ءِ ہراڑے جتا آ ادبی بندغ آک و شعر پاروک آک بسنو و بشخ ہلکنو و خواجہ نا نوشتہ کروک آ شعر آتے پارینو۔
خواجہ جبار یار ادبی کاریم تیتون بھاز خڑک ئسک و او براہوئی ادب ئٹ اواری و اُست جمی ئٹ کاریم کرے۔ ہندا سوب آن او بنا ئٹ براہوئی ادبی سوسائٹی نا باسک ہم مریک، ولے مون مُستی خواجہ تینا اسہ ادبی اداراہ اس مون آ ہتیک ہرانا پن ”براہوئی آرٹس اکیڈمی“ مریک۔ خواجہ جبار ساز و زیمل نا راگ آتیان ہم بھاز واخب ئسک۔ و شعر پاروک آتیتون بھاز خُڑک ئس و اوفتے ساز و زیمل نا بابت کمک کریکہ۔ ولے دا پنی آ شاعر و مفکر 21 اپریل 2004 آ کوڑی آن رخصت کیک۔ ن�� اودے اونا ودی مننگ نا دے آ دروت ندر کینہ او تینا شاعری و نوشتہ کاری نا بنیات آ براہوئی ادب ءِ اسہ پین رنگ ئس تننگ نا کوشست ءِ کرے۔
بنجائی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نا ارٹمیکو بنجاہی کمیٹی نا دیوان کماش اُزیر بلوچ نا کماشی ٹی اڈ تننگا۔
بلوچستان ئٹ جتا جتا انگا چاگڑدی گندئی تا برخلاف ”انٹلکچول ڈیبیٹ آن بلوچ سوسائٹی“ نا پن آ مہم، مہر گڑھ کانفرنس و عئید مجلس آک اڈ تننگور۔
”چاگڑدی ویل آتیا بلوچ خوانندہ تے اسہ علمی و دانشوری ڈیبیٹ ئسے نا بکار ءِ تانکہ نن تینا چاگڑد ءِ جتا جتا انگا چاگڑدی گندئی، مورل کر��شن، جان بڈی و لاشعوری آن کشنگ کین۔“
کماش اُزیر بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نا ارٹمیکو بنجاہی کمیٹی نا دیوان کماش اُزیر بلوچ نا کماشی ٹی اڈ تننگا۔ دیوان ئٹی مسکوہی رپورٹ، تنقیدی نشست، تنظیم کاری، ہنکینی رپورٹ آتیا جاچ، ہندی و جہانی سیاسی حالیت و بروکا گامگیچ آتا ٹک آک اوار ئسر۔ کل ٹک آتا زی آ اُست جمی ئٹ تران آن گڈ بروکا گامگیج ئٹ جتا جتا ءُ فیصلہ ہلنگا و دیوان مسٹمیکو دے آ ایسر کننگا۔
مسہ دے ئی دیوان نا اولیکو ٹِک مسکوہی رپورٹ آک ئسر ہراٹی تنظیم نا بنجاہی کڑد ئنا رپورٹ، جتا انگا کمیٹی تا رپورٹ و جاچ آک دیوان نا مون آ تخنگار و ت��وہ غا کاریم تیا شابیتی ئٹ شرہ آن گڈ دا ٹک ایسر کننگا۔
دیوان نا ارٹمیکو ٹک نغدی نشست ئسک ہرا ٹی دیوان ئٹ ساڑی کل بنجاہی سنگتاک تنظیم نا کاریم، شیفی بڑزی و ہنکین نا کارکڑد آتیا نظر بٹیسہ تینا تنقیدی ڈرافٹ آتے اسٹ اسٹ آ خوانار۔ سنگت آک نغد کریسہ پاریر کہ نغد ہمو سائنسی عمل ءِ ہرا ہر وخت اسہ ادارہ و عمل ئسے نا کمبوتی و نزوری تے نہ بیرہ مون آ اتیک بلکن ہندافتا برخلاف تینے علمی، کڑدی و شعوری وڑئٹ تیار کننگ آ تیار کیک ہرانا سوب آن گچین آ خیال و پالیسیک ودی مریرہ۔ ہندا نغد نا برکت آن ادارہ غاک ہر وخت پوسکن آ خیال، پالیسی، پروگرام و فیصلہ سازی نا کنڈ آ کارہ۔ نغدی عمل ئٹی نہ بیرہ تدوکا نزوریک مون آ بریرہ بلکن اوفتا نزور مننگ نا کل سوب آتیتون اوار بروکا وخت ئٹ اوفتا جوان مننگ کن پوسکنو ترزکار و خیال آک ودی مریرہ ہرا ادارہ غاتے پین سوگو کیرہ۔ تنقید و خود تنقید نا بشخ آتا مفننگ ادارہ غاتے سلفک و اوفتیٹی پوسکنو خیال، تخلیق فکر و شعور ءِ روتہ غاتیان ایسر کیک۔ ہندا خاطران نن خنینہ کہ ہرا ہم ادارہ ٹی نغد نا دود کم مس گڑا او ادارہ غاک وخت ئنا دنز ئٹی اودیم مسر۔ ہندا خاطران ننا ہر سنگت ءِ بنداوی باسک آتیان ہلیس بنجا��ی سنگت آتے اسکان تینے دا نغدی عمل آن گدریفوئی تمک تانکہ ہمو عمل و خیال آک ہراکہ تنظیم نا کاریم تا کسر ئٹ ہڑاند مننگ ئٹی ءُ اوفتے توننگ و ایسر کننگ مرے۔
دیوان ئٹ کماش اُزیر بلوچ تران کریسہ پارے کہ اینو بلوچ چاگڑد جتا جتا انگا ویل و جنجال تا گواچی مسنے ہرافتیٹی مورل کرپشن، جتا انگا چاگڑدی گندئیک، خوانندہ تا بے شعوری، تعلیمی ادارہ غاتا بھسکاری تون اوار جتا انگا ویل آک ساڑی ءُ۔ ہندا ویل آتا سوب آن بلوچ چاگڑد پِننگ نا گواچی ءِ۔ دا ویل آتے سرپند مننگ و دافتا ایسری نا ��اگہ آ ننا خوانندہ غا مخلوق دافتیان پدی نرنگ نا کوشست ئٹی ءِ ہرا کہ ننا چاگڑد کن بدشگونی و بھلو نسخان تروک ءُ خیال ئسے۔ ہندا ہڑاند آتیا مننگ کیک کہ جتا بندغ و جتا جتا انگا ٹولیک زہمی مریر ولے اشتماعی وڑئٹ دا ننا تیوہ غا چاگڑد نا زی آ زہم شاغسا ءِ۔ دے اس کہ نن کل دافتیان زہمی ان گڑا بے شعوری ویل ئنا حل افک بلکن راج ئنا ہر ٹولی ءِ دو پہ دو مرسا ویل آتے ایسر کننگ گواچنی آ کسر ءِ۔ دا رد ئٹ ننے دانشوری و علمی شرہ نا بکار ءِ و ہر ویل آ سیانڑہی و ایمانداری ئٹ ٹک خلنگ و اودے بیان کننگ نا گرج ءِ۔ تانکہ نن تینا چاگڑد آن ہر خراب انگا عمل و بھیم بش کروک آ ویل آتے کشنگ کننگ کین و اسہ گل �� بال ءُ چاگڑد اس جوڑ کین۔
کماش مستی پارے کہ ورناک اسہ راج ئسے نا کل ویل آتے ایسر کننگ کن اولیکو چر ئٹی سلوک ءُ ٹولی اس پاننگرہ۔ جہانی دیہاڑ آن ہلیس ساڑی وخت ئنا ورنا تا پدریچ اسکان ہرس، ہر دور ئٹی ورناک تینا چاگڑد نا جوڑشت و ہر گندئی تیان رکھنگ کن پاسبان ءُ کڑد سر تسنو۔ دا ساڑی وخت ئٹی جہان نا ہمو ورناک ہرا تینا راج ئنا سیاسی کاریم تیتون اوار است ئٹ اوار ءُ، دا اوفتا سیانڑہی آن پد عمل کننگ نا فطری آ لائخی تا درشانی ءِ۔ ہندا وڑئٹ بلوچ ورنا ہم دا سیانڑہی آن پدی افک بلکن او ہم علمی و دانشوری نا دروشم ئٹ گام ارفسا ءُ و تینا چاگڑد کن جہد کرسا ءُ۔
۱/۲
The missing cum abduction of Vice chancellor, Pro vice chancellor and a professor of Gwadar university, is concerning. We, are highly worrying about this act. The said professors were on their route to Quetta and have been missing from Mastung. Such acts will increase the uncertainty among the students and academic community in Balochistan.
We, therefore, demand for their immediate release on humanitarian and educational grounds.
نوشت تاک؛ 7
آرٹیکل: قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی
نوشت: جاسم بلوچ
مٹ: آفتاب بلوچ
“بنائی وخت ئٹ نیشنل پارٹی جہد کیک کہ او لس بلوچ الس ءِ سیاسی چاہنداری ایتے، سڑداری نظام و برطانیہ نا زوراکی تے لس بلوچ ءِ پُہہ کے و ہندا سوب آن پارٹی بلوچستان نا ہر علاقہ ٹی تینا علاقائی کمیٹی جوڑ کیک تاکہ ہر علاقہ نا بندغ آتے پارٹی نا پروگرام سر مرے و اوفک نیشنل پارٹی نا باسک سازی تون اوار انگریز آتا پارہ غان لٹ و پلی با عمل ءِ چپی و بے تواری ئٹ اُرپس بلکن مزاحمت کیر و پارٹی نا سرسہبی ہنداکان چاننگک۔ ہراتم پارٹی تینا سالانہ پروگرام ءِ کیک گڑا اوڑے بلوچستان نا ہر کنڈ آن بندغ آک بریرہ و دا پروگرام نا بشخ مریرہ۔ ہندا پروگرام آن پد خان قلات انگریز و سڑدار آتا پاننگ آ پارٹی نا زی آ رکھ خلیک ولے پارٹی تینا انڈر گراؤنڈ کاریم تے اسہ رنگ برجا تخک۔”
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
اداریہ
میر گل خان نصیر
ودی مننگ نا دے: 14- مئی- 1914
گل خان نصیر ہمو پن ءِ ہرا بلوچ دیہاڑ نا سیاسی و ادبی پڑ آ چائنگک۔ او 14 مئی 1914 آ نوشکے ٹی خواجہ حیبت خان نا اراٹی ودی مس۔ او چارمیکو کلاس آن پد تینا خلق آن مستی خواننگ کن شال ئنا پارہ غا پیشتمک و سینڈمن ہائی اسکول ئٹی داخلہ الیک و مستی خواننگ نا خاطر کن مون مستی لاہور نا اسلامیہ کالج آ کائک و خواجہ تینا ادبی و سیاسی کاریم تا سوب آن زوت بلوچ مخلوق ئٹی اسہ ترند و مہکم ءُ توار ئسے نا دروشم ئٹ مون آ بریک و اونا شاعری ٹی بلوچ نا بزگی و لاچاری تون اوار مزاحمتی سبخ ہم خننگ آ بریک۔ خواجہ تینا شاعری ءِ بلوچی براہوئی و اردو بولی تیٹی نوشتہ کرینے۔ او ادب تون اوار اسہ سیاسی ءُ راہشون ئسے نا پن ئٹ ہم چائنگک و او تینا سیاسی سفر ءِ ”انجمن اتحاد بلوچان“ غان بنا کیک و مون مستی قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی ٹی ہم اوار مریک۔
قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی نا زی آ زوراک نا پارہ غان رکھ خلنگا، ولے خواجہ تینا سیاسی توار ئٹ ترند مس و ہندا مزاحمت ءِ برجا تخیسہ او مون مستی نیپ ئٹی اوار مس و نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) ئنا حکومت ئٹی خواجہ ایجوکیشن منسٹر ہم مسک، دا ہمو وخت ئسک کہ زوالفقار علی بھٹو نا پارہ غان نیپ ئنا زی آ رکھ خلنگا و نیپ ئنا کل راہشون آک دزگیر کننگار و خواجہ ہم ہندا راہشون تا لڑ ئٹی اوار ئسک۔ او پانزدہ سال ئنا کچ جتا جتا انگا وخت آتیٹی زندان تیٹی بند کننگا۔ دا زوراکی تا مون ئٹ خواجہ تینا لوز و بلوچی ہمت و سگ ئتون مزاحمت کرے و اونا ہمو جوزہ اینو ہم بلوچ نا سیاسی و ادبی پڑ آ سفت کننگک و خواجہ نا ہندا مزاحمت نا برکت ��ِ کہ بلوچ نا ادبی مزاحمت دے پہ دے مزاحمت نا پارہ غا ہننگ ءِ۔ سیاست و ادب آن بیدس خواجہ اسہ گچینو دیہاڑ نویس اس ہم ئسک کہ دیہاڑ نا پڑ آ اونا بھاز آ کتاب آک اریر۔ خواجہ نا تروکا قربانیک انداخس بھاز ءُ کہ اوفک لوز آتیٹ بیان کننگ مفسہ ولے ننا کوشست اندادے کہ نن تینا بھلن کڑد و شرفدار آتا کاریم و کردار آتے بلوچ مخلوق نا مون آ ہتین تاکہ اوفک گل خان نصیر کون آ کڑدار آتیان بے خیال مفس اوفک تینا رہشون و ادیب آتیان باسما مریسہ اوفتا تروکا قربانی تیا گمر کیر۔
گل خان نصیر نا جہد و کوشست و مزاحمت تینا گڈیکو سیم اسکان برجاء مریک و او بلوچ حق آتا خواست آتیان پد سلپک و اندا زوراکی ت�� پرغیسہ گڈ سر ئٹ کینسر نا گواچی مریک و درمان کن کراچی نا اسپتال ئٹ داخل مریک اندا زند و مرگ ئنا نیام ئٹ جنگ کریسہ 6 دسمبر 1983 آ دا کوڑی آن رخصت کیک و بلوچ راج اسہ راہشون و ادیب ئسے آن پدماندہ مریک۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
Balochistan Kitab Karwan Kalat.
Baloch daughters at a book stall, engaged in purchasing books to read. The book stalls are aim to promote literacy rate among the population.