جس ایک قتل کی پاداش میں ڈاکٹر مارنگ ، شاہ جی اور دیگر لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں کیا بلوچستان میں ہونے والا یہ واحد واقعہ ہے جو قابل جرم اور قابلِ سزا ہے ۱۹۴۷ سے آج دن تک ماروائے آئین قتل جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، گھروں کو نذرِآتش کرنا کیا یہ سب جرائم کے ذمرے میں نہیں آتے کیا یہ لوگ اس ملک کے شہری تصور نہیں ہوتے اِن جرائم میں ملوث کتنے لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، وہ ھمارے بزرگ ہیں - لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھر #پشتونوں، #بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوؤں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک #نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
"براہوی کنفیڈریسی" کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ" کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی" کے سربراہ۔ خانۂ قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔
بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔
بلوچ سماج میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی تعریف کبھی باعثِ فخر نہیں رہی، بلکہ یہ ہمیشہ ایک سیاسی ندامت سمجھی گئی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو لوگ خود کو مزاحمتی سیاست اور قومی شعور کا نمائندہ کہتے ہیں، وہی آج اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اُن چہروں سے داد وصول کرنے پر خوش ہیں جن کی جماعت کا دامن بلوچستان کے سیاسی زخموں، جبری گمشدگیوں، آپریشنوں اور وسائل کی لوٹ مار کے سوالات سے کبھی صاف نہیں رہا۔
اپوزیشن کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر حکمران جماعت کی تقریبات میں شرکت اور پھر بلاول بھٹو کی تعریف پر مسرت… یہ سب بلوچ سیاسی شعور کیلئے ایک تلخ سوال ہے۔
الوداع اے لفظوں کے جادوگر!
غمخوارِ حیات کی شہادت صرف ایک شاعر کی جدائی نہیں بلکہ اس عہد کے زخموں کا نوحہ ہے جہاں لفظ، شعور اور حساس دل مسلسل غیر محفوظ ہوتے جارہے ہیں۔
چراغ بجھائے جاسکتے ہیں، مگر فکر اور لفظ کی روشنی کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔
ا
Rest in peace Hayati
ایک پروفیسر، ایک دانشور، ایک علم دوست شخصیت اور ایک چلتی پھرتی کتاب آج اس دنیا سے رخصت ہوگئ
ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ آمین
@underground780@bazai_tania You must study history if you get the chance. People devoid of wisdom still don't even know whether Brahui is a nation or a language.
Brahui is a language spoken within the Baloch nation. As for Balochistan: the population consists of 55% Baloch, 35% Pashtun, and 14% settlers