You can kill, you can burn and tyranizze
Yet Even on the gallows I will speak the truth, I will not be silent
How long can the tortures of prison silence me?
Even in the rain of arrows, I will not be silent
#StopBalochGenocide#savebalochstudents#EndEnforcedDisappearances
Ruksana Baloch, sister of the missing Azeem Dost, appeal to the people of Balochistan and the Baloch nation to raise their voices for justice and accountability.
The sentencing of Dr. Mahrang Baloch and Shah Jee Baloch to life imprisonment is being seen as an act of trampling justice underfoot and an attempt to suppress peaceful voices.
The Baloch people, along with the entire world, are aware of the belief that false cases have been filed against Dr. Mahrang Baloch. Thousands, including myself, are witnesses that Dr. Mahrang and Shah Jee always urged protest participants to remain peaceful.
The official whose death was used as the basis of the case is widely reported in Gwadar to have died in a road accident.
Dr. Mahrang and the BYC leadership became the voice of the families of missing persons and are being punished for bringing their suffering to the attention of the world.
I appeal to the Baloch nation to raise its voice against state injustice against Dr. Mahrang and BYC, as this leadership was the shared voice of all of us.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithMahrangBaloch
- Why did Allah Baksh and Sharatoon never get justice?
- Why were their killers not questioned?
- The same silence continues to protect power and in return , they ask us to remain calm.
- How can a people remain calm when their children are killed?
- How can a mother remain silent when her home becomes a grave?
#ReleaseDrMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
The title says it all...
"The woman who fought for Pakistan's disappeared men now faces life in jail"
#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
https://t.co/Cqzp91vq8G
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the detention of poet and activist Ahmad Farhad under the MPO Ordinance in Azad Jammu and Kashmir. The use of preventive detention laws against writers, activists, and dissenting voices is a blatant attempt to suppress freedom of expression and silence criticism.
BYC believes such actions reflect a broader pattern of intolerance toward dissent and shrinking political space. Arrests, intimidation, and legal pressure cannot silence demands for justice, accountability, and freedom.
We demand the immediate release of Ahmad Farhad and all those detained for peacefully exercising their rights, and urge human rights organizations and democratic forces to speak out against these violations.
جبری گمشدگی کا شکار سلمان بلوچ کی بہن سادیہ بلوچ کہہ رہی ہیں:
راجی مچی کے وقت ریاست کی جانب سے بلوچ عوام کے ساتھ جو ظلم اور بربریت کی گئی، جو لوگ راجی مچی کے لیے جا رہے تھے اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُسے بیان ��رنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بلوچ قوم نے ریاستی جبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاجی صبغت اللہ پر جس مقدمے کی بنیاد پر عمر قید کی سزا سنائی گئی، اُس حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ وہ ایف سی اہلکار ایک حادثے میں جاں بحق ہوا تھا۔ نہ اسے کسی عوام نے مارا اور نہ ہی پتھراؤ سے اس کی موت ہوئی، دراصل ایف سی کی فائرنگ کے واقعے میں متعدد بلوچ افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے۔
آخر میں، بلوچ راج کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ کس طرح ہمارے رہنماؤں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور انہیں جیلوں میں بند کیا گیا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کردار کو سمجھیں اور اپنی آواز کو مؤثر بنائیں۔ آج یہ فرض ہمارے کندھوں پر ہے
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
اپنی روش پہ چلتے رہو تمھارا جبر ہماری منزل کے لئے سیڑھیاں ہیں ۔ اس میں کمی نہ لانا کیونکہ جتنی نفرت کی ��میں ضرورت ہے شاید ابھی تک ہم اس مقام پہ نہیں پہنچے۔
آج بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف سنائے گئے عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام غیرشفافیت اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والے بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف جانبدارانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
بلوچستان میں پُرامن اور آئینی جد��جہد کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ریاستی ادارے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کو ایک غیرشفاف اور متنازع عدالتی عمل کے ذریعے سزائیں سنانا نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے بلکہ آئین و قانون کی روح اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔
ہم اس فیصلے کو سیاسی کارکنوں کی آواز دبانے اور بلوچستان میں اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کی ایک ��ور کڑی سمجھتے ہیں اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
میں پاکستان اور انٹرنشنل وکلا برادری،انسانی حقوق کے کارکنوں سے دست بستہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس عدالتی اور حکومتی جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں انصاف اور آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ بلوچ قوم کو جاری سیاسی انتقام، ناانصافی اور جبر سے نجات مل سکے۔میں اپنی بلوچ قوم سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ اس ظلم و جبر کے خلاف متحد ہو کر اپنی آواز بلند کریں۔
ایک جھوٹے مقدمے میں، دفاع کا مؤقف سنے بغیر، وکلاء کو مکمل موقع دیے بغیر، ایک ہی دن میں عجلت کے ساتھ کارروائی چلا کر عمر قید کی سزا سنانا قانون کے منہ پر کالک ملنے کے برابر ہے۔ یہ فیصلہ انصاف نہیں، ریاستی جبر کا کھلا اعلان ہے۔
جب اسی جبر کے خلاف ایک پرامن سیاسی مزاحمت، یعنی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے تو ریاستی ڈیتھ اسکواڈز نے ��اجروں کو فون کر کے ہراساں کرنا شروع کر چکے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیاں تک کہ ہر حال میں دکانیں کھلی رکھی جائیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تمہاری شکست واضح ہو چکی ہے۔ کیونکہ جس ریاست کو ایک پرامن سیاسی کارکنان سے خوف آجائے، پر امن ہڑتال سے خوف آ جائے، وہ طاقتور نہیں بلکہ اندر سے ہاری ہوئی ریاست ہوتی ہے۔
جبر کے ذریعے ماحول کو قابو کرنا آسان ہے۔ بندوق، دھمکی، گرفتاری، سزا، تشدد اور خوف کے ذریعے بازار کھلوائے جا سکتے ہیں، آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، سڑکیں خالی کروائی جا سکتی ہیں، مگر عوام کے شعور کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ ظلم وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر شکست خوردہ حکمرانوں کی بے بسی کو چھپا نہیں سکتا۔
ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں، اور تم ناکام ہو چکے ہو۔
ہماری جیت اس بات میں ہے کہ ہمارے ساتھی جیل میں بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہماری جیت اس بات میں ہے کہ بلوچستان بھر سے لے کر دنیا بھر تک ظلم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ہماری جیت اس بات میں ہے کہ ہر دھمکی، ہر سزا، ہر بندوق اور ہر جبری حکم کے باوجود عوام مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔
سرکار چاہے لوگوں کو مار پیٹ کر خاموش کرائے، چاہے دکانیں جبر کے ذریعے کھلوائے، چاہے عدالتوں کو سزا کے اوزار میں بدل دے؛ اس سے حقیقت نہیں بدلتی۔ بندوق کے زور پر کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے، مگر اخلاقی، سیاسی اور عوامی میدان میں تم شکست کھا چکے ہو۔
مکالمے کی میز پر آؤ، دلیل کے میدان میں آؤ، عوام کے سامنے آؤ؛ تب معلوم ہوگا کہ کس کے پاس سچ ہے اور کس کے پاس صرف جبر۔ تمہارے پاس طاقت ہے، ہمارے پاس ��ق ہے۔ اور تاریخ ہمیشہ طاقت کے غرور کو نہیں، حق کی مزاحمت کو یاد رکھتی ہے۔
#IStandWithBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
میں لاپتہ ذاکر مجید کی ماں ہوں۔
پاکستانی ایجنسیوں نے ذاکر مجید کو 8 جون کو مستونگ، پڑنگ آباد سے حراست میں لیا، جو اب تک لاپتہ ہے۔ میں ذاکر مجید کی ماں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی کو دی گئی عمر قید کی سزا کی ��دید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ ہر وقت ہم بلوچ ماؤں کے ساتھ پریس کلب کے سامنے موجود رہی ہیں۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے لیے کام کیا ہے۔ یہ سزا صرف انہیں نہیں دی گئی، بلکہ میں اور ہزاروں مائیں بھی اس سزا میں شامل ہیں۔ آپ نے ڈاکٹر ماہ رنگ کو ہمارے سامنے سے لے جا کر سزا دی، اور ہمارے بچوں کو خفیہ طور پر اپنے فوجی اداروں میں سزا دی۔
میں تمام انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ ماہ رنگ اور شاہ جی کے لیے آواز اٹھائیں اور ماہ رنگ کو اس سزا سے آزاد کرائیں۔ بلوچ قوم اس سزا کے خلاف مزاحمت کرے اور باہر نکلے۔
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
دنیا میں جرنیلوں کو سیاسی فیصلوں سے اس لیے دور رکھا جاتا ہے کہ وہ سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو مخالف فوج سمجھ کرملیامیٹ کرناچاہتے ہیں جبکہ سیاست میں ہمیشہ مخالف فریقین کے بیچ میں حل کی گنجائش رہتی ہے بلوچوں پشتونوں اورکشمیریوں کے ساتھ دشمنی کو برگشت ناپزیر مقام تک پہنچایا جارہاہے
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ:
خاموشی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سلام۔
مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آغاز ہے، انجام نہیں۔
ہم دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، سیاسی رہنماؤں، تنظیموں اور باشعور انسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، کو ایک جھوٹے م��دمے میں سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
آپ کی آوازیں اس اندھیرے میں امید کی کرن ہیں۔ آپ کے بیانات، آپ کی تحریریں، آپ کی رپورٹس اور آپ کی سوشل میڈیا کیمپئن نے اس خاموشی کی دیوار میں دراڑیں ڈال دی ہیں جسے برسوں سے خوف، جبر اور سنسرشپ کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے۔
مگر ہمیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ یہ صرف ایک مقدمے میں دی جانے والی سزا کا معاملہ نہیں ہے۔ اسی نوعیت کے جھوٹے الزامات پر مبنی دیگر پچاس مقدمات بھی تنظیم کے رہنماؤں کو درپیش ہیں۔ گزشتہ بارہ دنوں سے وہ جیل کے احاطے میں تپتی دھوپ کے نیچے فیس لیس ٹرائل کے ��لاف احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں، مگر ان کی آواز اب بھی ایک حد تک ان سنی ہے، اور جبر اب بھی برقرار ہے۔
ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بلوچستان میں خاموشی کوئی اتفاقی کیفیت نہیں بلکہ ریاستی جبر کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ یہ خاموشی خود پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے صحافت کو جرم بنایا گیا، صحافیوں کو دھمکایا گیا، اغوا کیا گیا اور قتل کیا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، سوشل میڈیا پر بولنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے، اور پورے سماج کو خوف کے حصار میں قید کرنے کی کوشش کی گئی۔
بلوچستان میں خاموشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ظلم کو معمول بنا دیا گیا۔ جبری گمشدگیاں بڑھتی رہیں، لاشیں گرتی رہیں، گھروں کے چراغ بجھتے رہے، مگر دنیا کی ایک بڑی تعداد بے خبر رہی۔ جب کسی سماج کی چیخیں سنائی نہ دیں تو ظالم کو مزید جرأت ملتی ہے، اور یہی بلوچستان میں ہوا۔
خاموشی کی وجہ سے ہزاروں خاندان آج اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔ خاموشی کی وجہ سے سینکڑوں مائیں اپنے بیٹوں کی تصویریں اٹھائے دربدر انصاف مانگ رہی ہیں۔ ��اموشی کی وجہ سے سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو بغاوت بنا کر پیش کیا گیا۔ خاموشی کی وجہ سے بلوچستان کے بارے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں ہر بلوچ کو مشکوک، ہر سیاسی کارکن کو خطرہ، اور ہر احتجاج کرنے والے کو دشمن بنا کر دکھایا گیا۔
یہی خاموشی تھی جس کے سائے میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں جبری گمشدگیاں ہوئیں، سینکڑوں افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے، سیاسی کارکنوں کو سزائیں سنائی گئیں، اور پورے کے پورے خاندانوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر دنیا نے پہلے سنا ہوتا، اگر آوازیں پہلے بلند ہوئی ہوتیں، اگر خاموشی کو پہلے چیلنج کیا گ��ا ہوتا، تو شاید بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ شاید بہت سی مائیں آج اپنے بچوں کے لیے ماتم نہ کر رہی ہوتیں۔ شاید بہت سے نوجوان زندانوں اور عقوبت خانوں میں نہ ہوتے۔ شاید آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے باقی ساتھی چودہ ماہ سے جیل میں نہ ہوتے۔ شاید آج انہیں عمر قید کی سزا نہ سنائی جاتی۔
اسی لیے آج خاموشی محض ایک اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ ایک انسانی قیمت بھی رکھتی ہے۔ بلوچستان میں خاموشی کا مطلب مزید جبری گمشدگیاں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید لاشیں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید سیاسی انتقام ہے۔ خاموشی کا مطلب مزید ماؤں کی آہیں، مزید بہنوں کا انتظار اور مزید خاندانوں کی تباہی ہے۔
اسی لیے ہم دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں اور باشعور آوازوں سے کہتے ہیں:
بولتے رہیے۔
بولتے رہیے، کیونکہ خاموشی ظالم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
بولتے رہیے، کیونکہ آواز ہی مظلوم کا سب سے بڑا دفاع ہے۔
بولتے رہیے، کیونکہ جب دنیا خاموش ہوتی ہے تو جیلیں بھر جاتی ہیں،
اور جب دنیا بولتی ہے تو ظلم کی دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، بیبرگ بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سیاسی قیدی آج بھی آزادی کے منتظر ہیں۔ ہزاروں جبری گمشدہ افراد آج بھی اپنے خاندانوں سے دور ہیں۔ بلوچستان کی مائیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔
اس لیے آپ کی آواز کی ��رورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
آپ کی ایک پوسٹ، ایک مضمون، ایک تحقیقاتی رپورٹ، ایک بیان، ایک احتجاج اور ایک سوال بھی فرق پیدا کر سکتا ہے۔
ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے خاموشی کا حصہ بننے سے انکار کیا۔
اب ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس آواز کو وقتی ردِعمل نہ بننے دیں بلکہ اسے ایک مستقل عہد، ایک مسلسل مزاحمت اور ایک عالمی انسانی تحریک میں تبدیل کریں۔
بولتے رہیے، جب تک سیاسی قیدی آزاد نہیں ہو
ماہرنگ بلوچ کی بنیادی جدوجھد ماورائے عدالت ہلاکتوں ، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف ہے ۔اور آپ اس بھی نیچے کی سطح پر جا سکتے ہیں کوشش کرکے دیکھ لیں۔ پ پ پ نے ہمیشہ بلوچ قوم کے معاملات میں بندوق اور مقتدر حلقوں کی غلامی کی ہے۔
ماہ رنگ بلوچ خود کو محروم اور پسے ہوئے بلوچ عوام کی نمائندہ قرار دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر حالات اتنے ہی ناگفتہ بہ ہیں تو پھر یہ شاہانہ طرزِ زندگی، مہنگی گاڑیاں اور آزادانہ نقل و حرکت کیسے ممکن ہے؟
ہدہ جیل میں فیس لیس ٹرائل کے خلاف بی وائی سی رہنماؤں کی مزاحمت تیرہویں روز بھی جاری ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
ہدہ جیل میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قید رہنماؤں کی جانب سے ریاست کی مسلط کردہ فیس لیس عدالتی کارروائی، نام نہاد عدالتی عمل اور انصاف کے لبادے میں جاری ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت تیرہویں روز بھی غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری ہے۔ یہ احتجاج صرف جیل کی چار دیواری کے اندر قید چند سیاسی کارکنوں کی مزاحمت نہیں، بلکہ ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کے خلاف اعلانِ مزاحمت ہے جس نے عدالتوں کو انصاف کے مراکز کے بجائے جبر کے آلات میں تبدیل کر دیا ہے۔
گزشتہ روز جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی وکلا ٹیم اور رہنماؤں کے اہلِ خانہ ملاقات کے لیے ہدہ جیل پہنچے تو جیل انتظامیہ نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ انتظامیہ نے وکلاء کی ٹیم اور اہل خانہ دھمکایا کہ جب تک بی وائی سی کے رہنماء اپنا احتجاج ختم نہیں کرتے، وکلا اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یوں ملاقات کے بنیادی انسانی اور قانونی حق کو کھلے عام بلیک میلنگ اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ سیاسی قیدیوں کو اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
اہلِ خانہ اور وکلا کے احترام میں بی وائی سی کے رہنماؤں نے احتجاج کو بیرکس کے سامنے منتقل ضرور کیا، مگر اپنے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ یہ مزاحمت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ سیاسی شعور کو قید نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی جیلیں، تنہائی، دھمکیاں یا ریاستی دباؤ حق اور انصاف کے مطالبے کو شکست دے سکتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے رہنماؤں، اپنے عوام اور انصاف کے دفاع سے کسی بھی دباؤ، دھمکی یا جبر کے سامنے دستبردار نہیں ہوگی۔ ریاست جتنا اپنے جبر میں اضافہ کرے گی، اتنا ہی بلوچ عوام کی مزاحمت زیادہ منظم، زیادہ مضبوط اور زیادہ ناقابلِ شکست ہو کر آگے ب��ھے گی۔
تم اپنے طاقت کے گھمنڈ پر جو بھی ظلم کرو لیکن تُمہاری تقدیر میں یہاں سے بھاگنا لکھا ہے ، اور تمہیں اس جبر، جنگی جرائم اور ظلم کا ایک دن ��ساب دینا پڑے گا ۔۔۔تمہاری شکست طے ہے ۔ صبا دشتیاری
فلسطینیوں کی زمین کا نام اسرائیل رکھنے پر وہ اسرائیلیوں کی نہیں ہوگی اسی طرح نام بدلنے پر بلوچ کی زمین کسی اور کی نہیں ہوگی۔ اس زمین کے ٹکڑے کے لئے پاکستان جس طرح کی موت کا فیصلہ کرے بلوچ اسی زبان میں جواب دیں گے۔ اپنا دفاع فرض ہے۔
ہاں ! بلوچ ٹارچر یا لاش مسخ نہیں کرتے ۔
24جون| کراچی
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کو سنائی گئی عمر قیدکی سزا کے خلاف کراچی کے مختلف علاقوں،جن میں ملا عیسیٰ گوٹھ،جام گوٹھ،اولڈ تھانہ،بیروگوٹھ،حاجی مراد میتگ،آسوگوٹھ،صدیق گوٹھ،جہانگیر روڈ،لالو کھیت،ٹکری ولیج، لیاری،مواچھ اور ماڑی پوراسٹاپ شامل ہیں،
1/2
𝗧𝗵𝗲 𝗖𝗵𝗶𝗹𝗱𝗿𝗲𝗻 𝗪𝗵𝗼 𝗡𝗲𝘃𝗲𝗿 𝗥𝗲𝗰𝗲𝗶𝘃𝗲𝗱 𝗝𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲
This picture is from the Quetta dharna of 2021. An elderly Amma sits beside Dr. Mahrang Baloch. Mahrang holds her trembling hand and helps her raise a victory sign over the coffin of her grandchildren.