ایسا نہیں ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے کہیں سے ایک کشتی تلاش کی ہو اور اسے سمندر میں ڈال دیا ہو کہ میں غ زہ جا رہا ہوں . یہ یورپ کے بہت سارے ممالک کے ڈھیر سارے لوگوں کی مشترکہ کاوش ہے کہ ہم بنی نوع انسان کے گونگے پن کا کفارہ ادا کرنے اس محاصرے کو توڑ کر غ زہ جائیں گے.
یہ ایک علامتی قدم ہوتا ہے، جانے والوں کو بھی معلوم ہوتا ہے نہ انہیں کسی نے غ زہ جانے دینا ہے نہ سامان پہنچنے دینا ہے. جانے والے مگر ہھر بھی جان کا خطرہ مول لیتے ہیں اور پلے سے لاکھوں لگا کر جاتے ہیں. انہیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس رائیل کو روکنے والا کوئی نہیں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے. لیکن وہ پھر بھی یہ خطرہ مول لیتے ہیں.
کیوں؟ کیونکہ اس علامتی اقدام کی بھی ایک اہمیت ہوتی ہے. جب اقوام متحدہ بے بس ہو ، جب اقوام عالم لاتعلق ہوں، جب مظلوموں کی خبریں شائع ہونا بھی بند ہو چکی ہوں، جب دنیا نے اس د ر ن د گی کو نیو نارمل سمجھ لیا ہو ایسے میں کچھ لوگ ، کچھ نہتے لوگ یورپ کے بہت سے ممالک سے نکلے، ان سے قیمتی کون ہو سکتا ہے.
یہ مسلمانوں کا قافلہ نہیں ہے، اکثریت غیر مسلم ہیں، یہ مسلمانوں کے ملکوں سے نہیں نکلے یہ یورپ سےنکلے ہیں ، ان کے ساتھ پاکستان سے بھی ایک شخص جا کر شامل ہو گیا ہے. یہ کوئی پکنک نہیں کہ کسی نے واپس آ کر اسے کیش کرانا ہو. یہ جان ہتھیلی پر رکھ کر، کرنے والا سفر ہے. اس کے مسافر عام لوگ نہیں، یہ گونگی دنیا کا کفارہ ادا کرنے والے قیمتی لوگ ہیں.
رات گئے اس قافلے پر حملہ ہوا ہے. صبح اٹھا تو دیکھا مشتاق صاحب کی کال آئی ہوئی تھی ، ساتھ ایک میسج بھی تھا کہ یونان سے ذرا پہلے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا پر حم لہ کر دیا گیا ہے.
اس کے بعد سے ان کے ساتھ میرا کوئی رابطہ نہیں. فون آف یے، واٹس ایپ پر بھیجے گئے ابھی تک ان سین ہیں. کچھ معلوم نہیں قافلے کے ساتھ کیا ہوا.
سینیٹر صاحب کی فیس بک وال دیکھی، وہاں ایک گروہ نے اپنی عصبیت کا اودھم مچا رکھا ہے. اس وقت بھی یہ لوگ سیاسی گروہی عصبیت کی ہوجا کر رہے ہیں اور وہ زہر اگل رہے ہیں کہ الامان . ابولکلام نے کہا تھا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، لگتا ہے اس کی آنکھ سے حیا اور شرم بھی اٹھ چکی.
سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے لیے اس فلوٹیلا کے ہر مسافر کے لیے ان سب کی سلامتی کے لیے دعا کیجیے، یہ لوگ ہمارے گونگے ہن کا کفارہ ہیں.
Today, the body of our neighbor was found buried and decomposed.
He had been wounded and left bleeding for three days during the last evacuation from northern Gaza.
When he realized he would not survive, and that no one could reach him, he made his final decision.
He covered himself with soil and buried himself while in prostration.
Now, his remains were found in that same position still in sujood.
His body was discovered beside a tree he chose as his final resting place.
He left a sign for his family… his ring tied above the soil with a thread, along with a small branch from the tree, so they could find him.
Even in his final moments, he thought of them.
Even in death, he left a message of dignity, faith, and farewell.
This is not just a story.
This is a life. A human being. A final act of strength in the face of unimaginable pain.
الحمدللہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کواللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اسکی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا وقار غیر معمولی طورپر بلند ھوا اور کل جو مذاکرات ھونے والے ھیں انکی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی جو اپیل کی ہے وہ بروقت ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ھاتھ میں ہے اس لئے ھم سب کو دعا میں مصروف رھنا چاھئے خاص طورپر جو حضرات كرسکیں وہ اس دعائے مسنون کااھتمام فرمائیں:
اللهم انصرنا ولا تنصر علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا واھدنا ویسر الھدی لنا واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة آمین
My observations:
1. Iran has won the WAR. Negotiations will be on Iran's 10 points framework for permanent peace.
2. Iran's terms will be accepted by Trump. Why? Will explain.
3. With this WAR, the hegemonic age is over: No followers, only partner nations. India will be the sole exception in the world.
4. Pakistan has emerged as more than a credible mediator - a geopolitical asset in the New World Order.
I will explain the above in my video to be online by today (Wednesday April 8) evening!
@ghazalawahab@thewire_in
جج صاحبان حکومت کو سفارش یا مشورہ دے رہے ہیں کہ میاں بیوی کے معاملات میں یہ قانون بنا دیا جائے. اور طلاق پر بیوی کو جائیداد میں سے نصف دیا جائے وغیرہ وغیرہ.
یہ مشاورتی امور تو سر آنکھوں پر. سوال یہ ہے کہ ہمارے جج صاحبان کا قرآن و سنت اور فقہ کا علم کتنا ہے؟
ریاست کا دین اگر اسلام ہے تو ریاست کے جج صرف نوآبادیاتی قوانین کے ماہر کیوں؟ ان کی شرعی علوم سے آگہی کیوں ضروری نہیں؟
پورے ملک کی تمام ہائ کورٹس اور سپریم کورٹ میں کتنے ایسے جج ہیں جو قرآن و سنت اور شرعی قوانین کے بھی ماہر ہوں؟
فیصلوں میں برطانوی عدالتوں کے حوالے دینے والے ان ججوں نے آج تک کتنے فیصلوں میں قرآن و سنت احادیث اور فقہ اسلامی کے حوالے دیے ہیں؟
کتنوں نے قرآن و احادیث و فقہ کا مطالعہ کر رکھا ہے؟
کتنوں کے پاس کچھ علم ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
نوآبادیاتی نظام قانون و انصاف نے اگر شرعی امور میں رائے دینی ہے تو ان کے شرعی امور سے آگہی اور مہارت کا معیار کیا ہے؟
اسرائیل امریکہ کا خیر خواہ نہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ امریکہ کا زوال اسرائیل کے ہاتھوں ہوگا۔
والدِ محترم رحمہ اللہ کا یہ تجزیہ حیران کن حد تک درست ثابت ہورہا ہے۔
آج امریکی صدراسرائیل کی چالبازی اور بلیک میلنگ کے جال (ایپسٹین فائل ) میں بری طرح پھنس کر ایسی جنگ میں پھنس گیا ہے جس سے امریکہ کا زوال یقینی نظر آتا ہے۔
امریکی عوام اور ادارے اسرائیل جال میں پھنس کر بے بس نظر آتے ہیں۔
ان حالات میں امت مسلمہ کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔
مسلمانوں کو باہم لڑانے میں یہود کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آج ایسا اندازہ ہو رہا ہے کہ ایران کے خملوں اور اسرائیلی فالس فلیک حملوں کے نتیجہ میں عرب مملک اور ایران کی یہ جنگ دور نہیں جس میں پاکستان کو پوری کھینچ کر لایا جائے گا۔ اللہ ایسا دن نہ لائے۔ آمین
پاکستان لیڈ لے کو تمام مسلم ممالک کو متحد کرے۔ہم سب کے اتحاد کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہونا بہت ضروری ہے۔
اللھم الف بین قلوب المسلمین و اَصلح ذات بینھم وانصرھم علی عدوک وعدوھم۔ آمین
7 اکتوبر 2023 کے بعد کے حالات کی ہو بہو نشاندہی والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ نے 11 ستمبر 2001 کے فورا بعد کی تھی۔
انکے مطالعہ اور خطابات کی روشنی میں ہم المحمۃ العظمی (آرمگیڈن) کے درمیان ہیں۔
ہماری نظریاتی اور عسکری تیاری تمام طرح کے ذاتی، مذہبی، علاقائی، لسانی و سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر ہونی چاہیئے۔ ورنہ دجالی ٹولے کی سب پر تباہی بلاامتیاز ہوگی۔
انفرادی اور اجتماعی توبہ و اصلاح اور ہنگامی بنیادوں پر اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین
کتنی ہی بار چھوٹی فوج نے بڑی فوج کو اللہ کے حکم سے شکست دی ہے۔ اس آیت کریمہ کے مصداق ہی پاکستان نے اپنے سے چھ گنا بڑی فوج کو شکست دی ہے۔۔
آپریشن بنیان مرصوس پر خون گرما دینے والی جامع ویڈیو 👇👇👇
رفاح میں اسرائیلی درندگی پر مسلمان ممالک کی مجرمانہ خاموشی انتہائی شرمناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا فلسطینی مسلمانوں کے مسلسل قتل عام پر گواہ ہے۔ صیہونی فوج گزشتہ چار ماہ سے غزہ میں قیامت ڈھا رہی ہے۔ میڈیا میں بتائے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں صیہونی بمباری سے 29000 سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر مشتمل ہے ۔ 80000 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں اور تقریباً اتنے ہی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ کے سکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری جاری ہے ۔ 80 فیصد گھر تباہ کر دیے گئے ہیں اور غزہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ شدیدموسم میں کھلے آسمان تلے موت کا انتظار کر رہا ہے ۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور مقتدر طبقات کی دینی غیرت اورحمیت کا تقاضا ہے کہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں اوریہ نہ بھولیں کہ اگر خدانخواستہ سقوطِ غزہ کا سانحہ رونما ہوگیا تو اسرائیل کا اگلا نشانہ مسلمان ممالک ہی ہوں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ وہ روزِ قیامت اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور مسلمان ممالک کے سربراہان کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطاء فرمائے ۔ آمین!
#GazaGenocide
#RafahUnderAttack
#ısraelCriminalWar
🔴 اسرائیل یہ دنیا اپنے لیے تنگ کر رہا ہے
▪️ آج اسرائیلی وزیر خارجہ اور سیکیورٹی اداروں نے اسرائیلی شہریوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ خصوصاً مسلمان ممالک اور عموماً بیرون ملک میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے۔ مظاہروں سے دور رہیں۔ عوامی مقامات پر اپنے یہودی ہونے کو چھپائیں۔ ایسی علامتوں کا استعمال ترک کر دیں جس سے ان کے یہودی ہونے کا اشارہ ملے۔
▪️ اسرائیل نے غزہ کے اندر انسانیت کا جو قتل کیا ہے، جو نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پھر اس پر مغربی حکمران طبقے کی حمایت اور عملاً انسانی اقدار کا دنیا سے مفقود ہو جانا۔ انسانی تاریخ کا ناقابل فراموش موڑ ہے۔ اسے دنیا کے لیے بھلانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ اسرائیل یہ دنیا اپنے لوگوں کے لیے، یہودیوں کے لیے، خود اپنے رویوں اور طرزعمل سے تنگ کر رہا ہے۔