في الصين ، هيبي
تعرض سائق لحادث اثناء نقل مديره في العمل ، عندها ذهبت عائلة المدير الى منزل السائق وقامت ونزلت على رأس والدته حتى فقدت حياتها
حتى الطفل البالغ من العمر ٣ سنوات هجموا عليه وادخل العنايه المركزه فاقدا للوعي
سرائیکی وسیب کے مشہور شاعر شاکر شجاع آبادی...
شاکر شجاع آبادی سے اینکر نے سوال کیا کہ
زندگی میں اتنے دکھ دیکھے, معذور بھی ہیں, بول بھی ٹھیک سے نہیں سکتے, غربت بھی کاٹی, کیا اسکا غم ہے آپکو؟
تو شاکر بولے:
ایتھاں جو بھوگ بھوگے ہِن
اُتھاں کوئی جزا مِلسی
تھکیڑے سارے لہہ ویسن
نبیؐ مِلسی خدا مِلسی۔۔۔!!
( یہاں جو تکالیف برداشت کی ہیں وہاں اُسکی جزا ملے گی... نبیﷺ ملیں گے خُدا ملے گا)
گھوٹکی: پولیس لاک اپ میں قیدی کی مبینہ برہنہ ویڈیو، انسانیت سوز تذلیل !
تھانہ آندل سندرانی کے لاک اپ میں قید شخص کی مبینہ برہنہ ویڈیو سامنے آنے پر گھوٹکی پولیس کے رویے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر سوالات اٹھ گئے، ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کو جنگلات کی زمین پر لکڑیاں کاٹنے پر گرفتار کیا گیا،اور بعدازاں ایک بااثر شخصیت کے کہنے پر قیدی کی ویڈیو بنوائی گئی، جبکہ وائرل فوٹیج میں سنائی دینے والی آواز مبینہ طور پر ایس ایچ او کی بتائی جا رہی ہے۔
پاکستانیو جاگو!
یہ کراچی کے ناتھا خان سے ملنے والی ایک بچے کی لاش ہے ہاتھ پیچھے باندھے گئے ہیں۔ حلق میں اندر تک سرخ رنگ کی پلاسٹک کی تھیلی ٹھونس کر ناک منہ اور جبڑوں پر سرخ رنگ کا ٹیپ تہہ در تہہ سختی سے لپیٹا گیا ہے۔اور یقینا اس معصوم کو اس طرح جان سے مارا گیا ہے۔
ہری پور کی آیت نور کی لاش بھی بالکل اسی طرح ملی ہے یعنی اس کو روندا گیا تو اس کے بھی ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے تھے حلق میں اندر تک سرخ پلاسٹک کی تھیلی ٹھونسی گئی تھی جبڑوں اور ناک کے گرد پلاسٹک کی تھیلی اور ٹیپ لپیٹا گیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں پر اتنا تشدد کرکے اور پھر حلق تک لال تھیلی( دونوں کیسز میں لال رنگ کی تھیلی اور سرخ ٹیپ کی یکسانیت یہ صرف اتفاق نہیں ہوسکتا اور جبڑوں اور ناک پر لال ٹیپ لپیٹا گیا ہے لگتا ایسا ہے کہ زندہ بچے کے حلق میں تھیلی ٹھونس کر ٹیپ لپیٹ کر دم گھوٹ کر مارا گیا ہے اس دوران بچے کو کس قدر شدید اذیت ہوئی ہوگی اور کیسے اس کا دام نکلا ہوگا یہ دیکھ کر تسکین حآصل کرنے والے ڈارک ویب پر بے شمار موجود ہیں جو لائیو اپنی فرمائش کرتے ہیں کہ اب ایسا کرو اور اب ایسا کرو اور اغوا کنندگان اس کی ہدایات پر من و عن عمل کرتے ہیں
مان لیجئے کہ یہ سارا ڈارک ویب سے پیسہ کمانے کا گیم ہے جو یہاں کے اوباش شیطان صفت نوجوانوں کے ھاتھ لگ چکا ہے۔ مگر شدید حیرت اس بات کی ہے کہ پولیس اس پر کوئ تحقیق و تفتیش نہیں کرتی۔ آیت نور کے مجرم تو پکڑے گئے ہیں تو کیا پولیس نے ان سے اس بارے میں۔ تفتیش کی کہ انہوں نے اس گڑیا جیسی زرا سی بچی پر اتنا تشدد کیوں کیا؟
اور پھر اس کا دم گھوٹ کر قتل کیا انکے فون کی فرانزک کی ہے؟
رہی بات سزا کی تو ہم ان معاملات میں جیل بیل اور مائنر وغیرہ کی سزا نہیں مانتے۔ قانون سازی کی جائے۔ ان تخم خنزیروں کو بلاتفریق اور بغیر عمر کے خیال کے اسی طرح موت دی جائے۔
آخر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت اس پہلو پر تفتیش کیوں نہیں کررہے؟ کیونکہ اگر اس شیطانی دھندے پر فوری سخت کارروائ اور اس کی روک تھام کے لئےسخت اور موثر اقدامات نہ کئے گئے تو پھر خدا نہ کرے آئے دن یہ روح فرسا مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔
کراچی: ناظم آباد کے نجی اسپتال میں خاتون کا نو ماہ تک الٹراساؤنڈ ہوتا رہا اور سی سیکشن کے بعد کہا کے بچہ تو تھا ہی نہیں
تو پھر نو ماہ تک کس چیز کا الٹراساؤنڈ ہوتا رہا
اب تو ایسے لگتا ہے یہ ملک سچ میں رہنے کا قابل نہیں رہا
جو نکل گئے وہ خوش قسمت ہیں
کیا بنے گا اس قوم کا..! قتل کرنا عام سی عادت بن گئی ہے انکی، اللہ معاف کرے.. گھریلو تنازع پر خونریزی.. ویڈیو وائرل سفاکیت کی انتہا
ملتان کے وہاڑی چوک کے قریب داماد کا مبینہ قاتلانہ حملہ، بیوی جاں بحق جبکہ ساس شدید زخمی
واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے،
سب سے پہلے تو اس خاتون ڈاکٹر کو گرفتار کریں اور اگر کوئی وکیل دیکھ رہا ہے تو اللہ کی رضا کیلئے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرائے ۔ ماسک پہن کر منہ چھپا کر یہ 14 معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہونے کے سانحے کا دفاع کررہی ہے ۔ کوئی شرم حیا نہیں
Pakistan 🇵🇰 👇
“ On the 10th of September 2020, I was driving in Pakistan from Lahore to Gujranwala with my two children in my car.
My car broke down on the highway when it ran out of fuel, and I called the police for help.
While I waited for the help to arrive, some men broke the windows of my car, dragged me and my children out of the car, dragged us to a field, and gang-raped me multiple times in front of my children.
The rapists stole my jewellery, cash, and bank cards.
The lead police investigator, Umar Sheikh, blamed me for my gang rape because apparently I shouldn’t have been traveling alone without a male figure.
Except this isn’t my story, but the story of another Pakistani woman, and multiple, countless Pakistani women, who experience extreme sexual violence, are blamed for it, and are forced into silence while society continues to turn a blind eye to everything that’s going on”
کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔
شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔
سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔
ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔
ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔
ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔
ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔
ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔
سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔
بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔
بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔
بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:
"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔
منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"
میرے بچے کو نمونیا تھی ۔ کراچی کے ولیکا اسپتال لائی تو انہوں نے استعمال شدہ سرنج لگائی اور اس کو ایچ آئی وی ایڈز ہوگیا ۔ پہلے اٹھایا نہیں جاتا تھا اب دن بدن کمزور ہورہا ہے ۔
سندھ حکومت کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں استعمال شدہ سرنج لگانے سے سینکڑوں بچے ایڈز میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 9 بچے انتقال کرچکے ہیں ۔
متاثرہ بچے کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ہم سود پر پیسے لے کر بچوں کا علاج کرا رہے ہیں، ہم نے بچوں کے علاج کے لیے اپنی چارپائیاں تک فروخت کر دی ہیں، ہمیں 1 روپے تک کی امداد نہیں ملی
سندھ میں 1200 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جبکہ ابھی تک متاثرین کی درخواست زیرِ التواء ہے
معصوم بچوں کو اغوا کر کے ان پر بدترین جنسی تشدد کرنا اور پھر ان کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ کے خفیہ بازاروں میں بیچنا ایک خوفناک کاروبار بن چکا ہے
ہری پور کی معصوم آیت نور کا قتل کوئی عام جرم نہیں، یہ ہمارے معاشرے میں چھپے غلیظ نیٹ ورکس کا منہ بولتا ثبوت ہے! 5 سالہ بچی پر بدترین جنسی تشدد، منہ میں شاپر، چہرے پر ٹیپ اور ہاتھ باندھ کر کنویں میں پھینکنا محض اتفاق نہیں، بلکہ یہ بچوں پر تشدد کی ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب (Dark Web) پر بیچنے والا انتہائی طاقتور مافیا ہے
#JusticeForAyatNoor
مجھے حیرت ہے اس معاشرے کی المیہ پر۔
ایک عورت جسے خاوند غصے میں طلاق دے اور پھر بھی اسے اپنے پاس رکھے !!
کچھ نمبرز کے لئے لڑکی پروفیسر کے بستر پر چلی جائے !!
کالجوں کی صفائی والوں کو کاغذ کے ٹکڑوں کے بجائے روزانہ جگہ جگہ سے کنڈوم ملیں !!
گرلز ہاسٹل میں ہم جنس پرستی میں مبتلا لڑکیاں !!
مدراس میں معصوم بچوں کا ریپ !!
نقاب اوڑھے جاتی لڑکی پر اس کے باپ کی عمر کا بندہ ہاتھ صاف کرے !!
طلاق دیکر پھر غلطی کا اعتراف کر کے کسی شریف عورت کو حلالہ کے نام پر کسی اور کے بستر پر بھیجنا !!
دو چار چھ چھ سال کی کم سن بچیوں کے ریپ !!
سگے رشتوں سے عورت کا محفوظ نہ رہنا !!
روحانی باپ کا اپنی بیٹی سے شادی کرنا (مطلب استاد اور شاگرد )
شادی شدہ عورتوں کے بچوں کی عمر کے لڑکوں سے تعلقات !!
شادی شدہ مردوں کے اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکیوں سے تعلقات !!
پارکوں میں سکولز کالجز کے لڑکوں کا ڈیٹ پہ جانا !!
یونیورسٹی میں دوست کی مدد کرنے کےلئے جسم کی فرمائشی کرنا !!
مغرب کی تہذیب اور ثقافت دیکھ کر ٹائٹ پنٹ شرٹ پہنا بال کھول کر کالج اور یونیورسٹی جانا !!
کسی لڑکی کو پیار کے جال میں پھنسا کے اسے بلیک میل کر کے اپنے دوستوں کے سامنے پیش کرنا !!!
اپنے جسم کی نمائش کرنا اور اپنے سے امیر لڑکے کی تلاش کرنا ، اس کے ساتھ گاڑیوں میں نازیبا حرکات کرنا !!
بیٹے کی شادی اس وجہ سے نہيں کروانا کے وہ کام نہیں کرتا !!
بیٹی کے لیئے پڑا لکھا امیر لڑکا ڈھونڈنا !!
جب جسم کی بھوک لگتی ہے ناں ، تو لڑکی اور لڑکے کو پھر کسی کی عزت کا خیال نہیں رہتا!!
آپ لوگ مجھے سچ لکھنے کا کہہ رہے ہو دماغ خراب ہوگیا ھے آپ لوگوں کا۔۔۔؟
جاؤ تم حقیقت سے دور رومانی ناول کہانیاں پڑھو سچ سننے اور پڑھنے کا تم لوگوں میں کہاں حوصلہ ، سچ تو کڑوا ہوتا ہے
ایک شخص کی اپنی بیوی کے ساتھ بہت مسائل تھے اور وہ طلاق کے قریب تھے، خاص طور پر کیونکہ اس کے اہل اسے طلاق دینے پر زور دے رہے تھے۔ خدا نے ان کے مسائل حل کر دیے اور وہ دونوں صلح کر بیٹھے۔
ایک دن میں نے اس سے پوچھا: "تم نے اسے واپس لیا کیونکہ تم اس سے محبت کرتے ہو؟" اس نے جواب دیا: "مجھے معلوم نہیں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں یا نہیں، لیکن وہ ایک اچھی عورت ہے۔ تصور کریں، وہ سلاد میں بہت زیادہ دھنیا ڈالتی ہے حالانکہ اسے پسند نہیں، مگر وہ جانتی ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔"
پہلے تو میں نے اس کے الفاظ کو مذاق سمجھا، پھر میں نے جانا کہ یہ انسان ایک اعلیٰ درجے کی بلوغت پر پہنچ چکا ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی تفصیل میں بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کی وجہ ڈھونڈنے میں کامیاب رہا۔
اگر آپ ابھی بھی ایک کامل عورت کی تلاش میں ہیں تو بہتر ہے کہ سو جائیں اور خود کو تلاش کرنے کی کوشش سے بچائیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی بیوی خوبصورت، سمجھدار، پڑھی لکھی، محبت بھری، وفادار، تعاون کرنے والی، اور رومانٹک ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کمال کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو کم از کم بارہ عورتوں سے شادی کرنا پڑے گی، جو نہ تو شریعت، نہ قانون، اور نہ آپ کی صحت اجازت دے گی۔
آپ کی رومانٹک بیوی شاید فضول ہو سکتی ہے، سمجھدار ہو سکتی ہے مگر غصیلی، محبت بھری ہو سکتی ہے مگر جھگڑالو، خوش مزاج ہو سکتی ہے مگر بہت باتونی، اور ذہین ہو سکتی ہے مگر باورچی خانے کی شوقین نہیں۔
کامل اور مکمل بیوی جنت میں ہو گی، ان شاء اللہ۔ خدا ہم سب کو عطا فرمائے۔
اپنی بیوی کی وہ خوبیاں لیں جو آپ کو پسند ہیں اور خدا کا شکر کریں اور باقی کے ساتھ گزارا کریں۔ یاد رکھیں کہ آپ کی شریک حیات میں بہت سی خوبیاں ہو سکتی ہیں جو آپ نے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ کیوں نہیں دیکھی؟ کیونکہ آپ نے اپنی آنکھیں عیوب سے بند کر رکھی ہیں اور خود کو اور اسے مایوس کر رہے ہیں۔
اگر وہ جھگڑے کے بعد سب سے پہلے آپ سے معافی مانگتی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ گھر کے راز باہر نہیں نکالتی، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ آپ کے لیے اچھے کپڑے چنتی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ میچ دیکھتے وقت بغیر کہے چائے بنا دیتی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر اس نے آپ کا نمبر موبائل میں آپ کے زندگی سے محفوظ کیا ہے، یا آپ کی تصویر بیک گراؤنڈ پر رکھی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ آپ کے ساتھ وہ فلم دیکھتی ہے جو اسے پسند نہیں مگر آپ کو پسند ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ آپ کے تحفوں سے خوش ہوتی ہے اور انہیں سنبھال کر رکھتی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ گھر کے خرچوں سے بچت کر کے آپ کے لیے جرابیں یا دیگر ضروری چیزیں خریدتی ہے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ جھگڑے کے آغاز میں ہی پیچھے ہٹ جاتی ہے تاکہ بات نہ بڑھے، یہ ایک خوبی ہے۔
اگر وہ اپنے والدین سے آپ کی شکایت نہیں کرتی جب آپ دونوں ناراض ہوتے ہیں، یہ ایک خوبی ہے۔
خدا ہی کامل ہے، اور تعلقات برداشت اور غفلت کے ساتھ چلتے ہیں، نہ کہ غلطیوں کی تلاش کے ساتھ۔ جو کسی کو محبت کرنا چاہتا ہے، اسے محبت کرنے کے لیے ہزاروں وجوہات مل جائیں گی۔ اور جو نفرت کرنا چاہتا ہے، ایک وجہ ہی کافی ہے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی غلطیوں سے پاک نہیں۔
کاپیڈ
🔴فلوریڈا میں میلیزا کیمپوس سانچیز نامی 26 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے گھر کے کچن میں آگ لگائی اور اپنے دو کمسن بچوں کے ہاتھوں پر گرم موم ڈالا۔ اس نے ان واقعات کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔
پولیس کے مطابق آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ خاتون کو گرفتار کرکے اس کے خلاف آتش زنی، بچوں سے بدسلوکی اور بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ بچوں کو ان کے والد کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
معصوم بچی کے سامنے ایک باپ پر ڈنڈوں سے حملہ، ویگو ڈالے میں سوار افراد کی مبینہ غنڈہ گردی دیکھ سکتے ہیں!
موٹرسائیکل سوار جو اپنی چھوٹی معصوم بچی کے ساتھ سفر کرتے دیکھا جا سکتا ہیں، ویگو ڈالے میں سوار 2 افراد نے اس بچی کے باپ پر صرف اس بات پر تشدد کا نشانہ بنایا کہ تم میرے سامنے سےکراس کیوں ہوئے،اس بہس پر ویگو ڈالے والے نے ڈنڈوں کے ساتھ مصوم بچی کے باپ پرپرحملہ کر دیا، اپکی نظر میں ایسے درندے نما انسان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اور اسکی نشاندہی میں مدد کریں؟
..انگریز نے 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے اس وقتی، انگریز اس تعلیم کو خطرناک سمجھتا تھا چناں چہ یہ لوگ کنگز کالج لندن کے ایک نوجوان پروفیسر گوٹلیب ولیم لیٹنر کو لاہور لے آئے، لیٹنر بھی ایک عجیب وغریب کردار تھا، یہ 50 زبانیں جانتا تھا عربی، ترکی اور فارسی مقامی لوگوں کی طرح بولتا تھا، کچھ عرصہ مسلمان بھی رہا تھا.
اس نے داڑھی بڑھا کر اپنا نام عبدالرشید سیاح رکھا اور تمام اسلامی ملکوں کی سیاحت کی، وہ مسجدوں میں نماز تک پڑھ لیتا تھا، وائسرائے نے اسے ہندوستان بلایا اور اسے پنجاب کا نظام تعلیم بدلنے کی ذمہ داری سونپ دی، لیٹنر نے پنجاب کا دورہ کیا اور وائسرائے کو لکھا، مجھے پڑھے لکھے پنجاب کو جاہل بنانے کے لیے 50 سال درکار ہوں گے، وائسرائے نے اسے 50 سال دے دیے، اسے انسپکٹر جنرل آف سکولز پنجاب بنا دیا تھا، پھر لیٹنر کو گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل بنا دیا گیا.
اس نے آگے چل کر پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھی، یہ ان دونوں اداروں کا ابتدائی سربراہ تھا، انگریز نے پنجابیوں کو غیر مسلح اور ان پڑھ بنانے کے لیے پنجاب میں "ہتھیار" جمع کرائیں اور حکومت سے تین آنے لے لیں اور عربی، سنسکرت اور گورمکھی کی کتاب دیں اور چھ آنے وصول کر لیں، جیسی سکیم بھی متعارف کرائی اور پورے پنجاب سے کتابیں اور اسلحہ جمع کر لیا، انگریز نے اس کے بعد انگریزی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان بنا دیا اور سکولوں کو عبادت گاھوں سے الگ کر دیا.
جاگیر داروں اور زمین داروں کے بچوں کو انگلش میڈیم تعلیم دے کر متوسط طبقے کو دبانے کی ذمہ داری بھی دے دی گئی، انگریزوں کو سمجھ دار، قانون پسند اور انصاف کا پیکر بنا کر پیش کرنا بھی شروع کر دیا گیا، مقامی زبانوں اور کتابوں کو جہالت کا مرکب قرار دے دیا گیا، ولیم لیٹنر کا منصوبہ کام یاب ہو گیا اور اس نے 50 کی بجائے 30 برس میں پورے پنجاب کو غیر تعلیم یافتہ اور جاہل بنا دیا، لیٹنر نے اپنے ہاتھ سے لکھا میں نے پورے پنجاب کا دورہ کیا. آج یہاں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں ھے. اس نے سیالکوٹ کے ایک گاﺅں چوڑیاں کلاں کی مثال دی، اس کا کہنا تھا کہ میں پنجاب آیا تو اس گاﺅں میں ڈیڑھ ہزار پڑھے لکھے لوگ تھے، آج یہاں صرف 10لوگ گورمکھی اور ایک اردو پڑھ سکتا ھے اور یہ بھی چند برسوں میں مر کھپ جائیں گے. لیٹنر نے پنجاب میں رہ کر اردو سیکھ لی اور پھر اردو میں دو والیم کی تار
ایک بات رکھیں پاکستان کے مدرسوں میں ایسے کئی لیٹنر پانچ دہائیوں سے شامل کر دیے گئے تھے اور بڑی بڑی یونیورسٹیز اور مہنگے سکولز میں 4 دہائیوں سے داخل کر دیے گئے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟؟؟
پاکستان بنانے میں قائد اعظم سے بھی زیادہ کردار وڈیروں اور نوابوں کا تھا ، ہوا کچھ یوں کے 1930 کی دہائی سے کانگریس اور نہرو کھلے عام کہنا شروع ہوگئے تھے
" زمینداری نظام ختم ہوگا ، کسان کو زمین ملے گی "
نہرو سوشلزم سے متاثر تھے اسلیے 1936 کے کانگریس کے منشور میں شامل تھا کے لینڈ ریفارمز کی جائیں گی اور کسانوں میں زمین تقسیم ہوگی۔
1937 کے الیکشن میں مسلم لیگ بُری طرح ہارتی ہے اور پورے پنجاب سے صرف 2 سیٹیں جیت پاتی ہے ، پنجاب سے وڈیروں کی یونینسٹ پارٹی 98 نشستیں جیتنے کے بعد اپنی حکومت بناتی ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہوا کہ تمام وڈیرے نہرو کی لینڈ ریفارمز سے ڈرے ہوئے تھے، اسلیے 1937 میں جناح سکندر پیکٹ ہوا ، سکندر حیات خان پنجاب کے پریمیئر یعنی آج کے زمانے کا وزیراعلٰی تھے ، انھوں نے اپنے زمیندار بھائیوں سے درخواست کی کے مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں ، لیکن اکا دکا شامل ہوئے ، کیونکہ انکے لیے مسلم لیگ اور یونینسٹ پارٹی ایک ہی طرح کی بن چکی تھی ، جو لینڈ ریفارمز کو روک نہیں سکتی تھی۔
پھر کھیلا جاتا ہے 1940 میں ٹرمپ کارڈ ایک آزاد ملک کا ، یاد رہے اس سے پہلے آزاد ملک کا کوئی کانسیپٹ موجود نہیں تھا، اور جو علامہ اقبال کا 1930 کا خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے ، وہ خطبہ پڑھیں اسمیں Dominion Status کی مانگ ہے ، خیر جیسے ہی مسلم لیگ 1940 میں قراداد لاہور منظور کرتی ہے تو پنجاب و بنگال کے نواب سوچتے ہیں کانگریس کی طرف گئے تو زمین جائے گی ، اور مسلم لیگ کی طرف ہوگئے تو زمین بچ جائے گی ۔
اس بنا پہ بہت سے لوگ یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ میں شامل ہوئے ، اور بھاری رقوم فنڈ کے طور پر جمع کروائی، کیونکہ ساری جاگیر جمع پونجی جانے سے بہتر تھا ، کچھ فنڈز دے کر اسکو بچا لیا جائے ۔ کیونکہ اگر الگ ملک نہیں بنا اور کانگریس اقتدار میں آئی ، جو کے طے تھا کے وہ آئے گی تو زمینیں چھن جائیں گی ، اور ہندوستان میں دستور بننے کے بعد ہوا بھی کچھ یوں ہی ۔
اہم زمیندار ، اور انکی زمینوں کا رقبہ، اور انکا سیاسی عہدوں سے لگاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• پنجاب
نواب آف بہاولپور= 6.75 لاکھ ایکڑ
نواب آف بہاولپور کو 1943 میں مسلم لیگ کا نائب صدر بنایا گیا۔
2022 میں نواب آف بہاولپور کی 3 لاکھ کی اراضی واپس کی گئی ، جو کے آن ریکارڈ DAWN اخبار پر موجود ہے ، یہ اتنی بڑی جگہ ہے کے پورا لاہور اس میں سما جائے ۔
سردار شوکت حیات خان = 20 ہزار ایکڑ ( اٹک )
سردار شوکت خان کے والد سکندر حیات ، پنجاب کے پریمیئر یعنی چیف منسٹر تھے اور شوکت خان خود پنجاب کے ایم ایل اے تھے۔
فیروز خان نون = 10 ہزار ایکڑ (سرگودھا )
فیروز خان نون یونینسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر اور پنجاب کے چیف منسٹر تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد وزیراعظم بھی بنے ۔
•سندھ
بھٹو خاندان = 20 ہزار ایکڑ
اس خاندان سے 2 وزیراعظم ، وزیر خارجہ امور ، وزیر اطلاعات، وزیر توانائی ، وزیر اعلی اور گورنر سندھ نکلے ۔
تالپورخاندان ( حیدرآباد، خیرپور ، میر پور خاص 45 لاکھ ایکڑ
اس خاندان سے وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، گورنر سندھ ، وزیر جنگلات و ایکسائز ، وزیر مہاجرین و بحالی ، وزیر آبپاشی سنبھالنے والے سپوت نکلے ۔
نواب شاہ = 1 لاکھ ایکڑ
ایم این اے ، ایم پی اے ، سینیٹرز اس نسل سے نکلے ۔
پیر پگاڑا = 50 لاکھ ایکڑ
پیر پگاڑا سندھ میں مسلم لیگ کے صدر تھے ،1943 میں قائد اعظم نے کہا تھا سندھ کا دروازہ پیر پگاڑا کے بغیر نہیں کھل سکتا ۔
مشرقی بنگال
نواب سلیم اللہ خان = 37 ہزار 500 ایکڑ
نواب سلیم اللہ مسلم لیگ بنانے والے رہنماؤں میں شامل تھے ۔
نواب آف پوٹیا = 45 ہزار ایکڑ
1940 کے بعد نواب آف پوٹیا نے مسلم لیگ کو فنڈنگ شروع کردی ۔
اے کے ،فضل الحق = 5 ہزار ایکڑ
شیر بنگال، یونینسٹ پارٹی کے سینیئر ممبر ، بنگال کے وزیراعلی، وفاقی وزیر داخلہ ، گورنر آف ایسٹ پاکستان ،وفاقی وزیر خوراک و زراعت ۔
ملک خدا بخش = 1.5 لاکھ ایکڑ (ملتان )
وزیر زراعت ایوب خان کے دور میں
نواب اکبر بگٹی = 50 ہزار ایکڑ
وزیر مملکت برائے دفاع، وزیر مملکت برائے داخلہ ، گورنر آف بلوچستان ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ،
خان آف قلات = پوری ریاست (25 لاکھ ایکڑ )
گورنر آف بلوچستان
یہ ساری زمین 1947 کے مشرقی و مغربی پاکستان کے مطابق 6.45 فیصد ملک کے رقبہ پر مشتمل تھی ، یعنی آج کا خیبرپختونخوا کا 70 فیصد رقبہ ۔
خیر یہ زمینیں بھی زیادہ تر لوگوں سے ایوب خان کے دور میں ، اور اسکے بعد بھٹو کے دور میں لینڈ ریفارمز کر کے حکومتی تحویل میں لے لی گئی تھیں۔
تحریر: علی حیدر
بڑے بڑے علماء اور اسکالرز کو چاہیے کہ وہ عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں۔ جب وہ اپنے بیٹے کی میت لینے گئے تو انہیں پورے خاندان سمیت اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ وہاں ان کے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی ویڈیوز بنا کر دھرنے میں موجود لوگوں کو بھیجی گئیں۔
ایسے مظالم تو اسرائیل بھی فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہے ہیں۔ جس شخص کا بیٹا اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوا، اس کی میت تک خاندان کے حوالے نہیں کی گئی اور چار دن تک روکی رکھی گئی۔ جب وہ شدید زخمی تھا تو ایمبولینس کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے اس نے ایمبولینس کے اندر ہی تڑپ کر دم توڑ دیا