نا چاہتے ہوئے بھی اب ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ کچے کے ڈاکوؤں نے سیکورٹی فورسز کو شکست دے دی ہے
کیونکہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عوام کو ان ڈاکوؤں کے خلاف اسلحہ کیوں اٹھانا پڑا ہے ؟
پشاور سے گیارہ سالہ معصوم بچی کو اغوا کرکے سندھ میں سکھر کے کچے کے علاقے میں پہنچانے، سب کچھ بیچ اور قرض لیکر تاوان کے 15 لاکھ روپے لے کر پہنچنے والی والدہ کو بھی قید کر لینے، کئی روز تک زیادتی کرنے اور ماں کو واپس بھیج دیا، پیسے بھی لے لئے اور بچی کو بھی رہا نہ کیا
اغوا شدہ بچی کی ماں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ پشاور سے اغوا کر کے کچے کے علاقے میں لائی گئی بچی کی ماں کو کال کرکے 30لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی گئی۔ بچی کی ماں نے کراچی میں مزدوری کرنے والے شوہر کو ماجرا سنایا۔ دونوں نے مل کر گھر کا سب کچھ بیچا، رشتہ داروں سے ادھار لے کر ماں 15لاکھ روپے اکھٹے کرکے بچی کو چھڑانے سکھر پہنچی تو کچے کے ڈاکوؤں نے خاتون کو بھی روک لیا اور کئی روز تک اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔