زندگی کی “ 15 خطرناک غلطیاں “ جن سے بچنا ضروری ہے ⚠️
1-ناجائز جسمانی تعلقات سے گریز کریں: اپنی ذہنی و قلبی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔ ایک غلطی آپ کی زندگی کا سکون اور مواقع برباد کر سکتی ہے۔
2-کسی اجنبی پر مکمل بھروسہ نہ کریں: مہذب رہیں لیکن ہوشیار بھی۔ اندھا دھند بھروسہ آپ
بادشاہ سلامت باندی امین النساء کے ساتھ تین چار راتیں گزارنے کے بعد اکتا گئے تو وزیر باتدبیر کو حکم دیا، تازہ ادھ کھلی کلی کا بندوبست کیا جائے۔ وزیر نے گلبدن، شیریں دہن امتہ السہیل کا انتخاب کیا اور شاہی خوابگاہ پھولوں سے سجا دی۔
اگلی صبح سارے درباری ناشتہ لے کر پہنچے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی
ایک معلوماتی تحریر
ہم نے عافیہ صدیقی کیس کا نام بہت سنا لیکن یہ اصل کیس ہے کیا؟
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک نسبتاً متموّل مذہبی گھرانے سے ہے۔باپ کا نام محمد اور ماں کانام عصمت ہے۔عافیہ کے والد چونکہ ڈاکٹر تھے چنانچہ انہوں نے بیٹی کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی
عقيلة عمران خان، بشریٰ بي بي، ذكرت في تسجيل فيديو أن الحكومة السعودية غضبت من عمران خان لأنه أراد تطبيق الشريعة في باكستان، بينما تزعم أن السعودية تقوم بإلغاء الشريعة. هذا تصريح خطير يوجه اتهامات مباشرة ضد المملكة. نرجو من وزارة الخارجية السعودية وسمو ولي العهد التحقيق في هذه الادعاءات.
@KSAMOFA @SaudiCrownPrince
تقریباً 25 سال پہلے۔۔۔
یہ جہان دیدہ خواتین، عمران نیازی کو پہچان گئی تھیں
کہ یہ کتنا گھٹیا آدمی ہے اور کس طرح تباہی کرے گا
آج انکی کہی ھوئی تمام باتیں سچ ثابت ھوگئی ہیں
؟
Conspiracy Against Pakistan: Imran Khan Saga
اپنے ہی ملک کے خلاف کی گئی سازشیں بیرونی مسلط کردہ جنگوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔
فاشسٹ مزاج، خود پسند و خود غرض شخص megalomania اور messiah syndrome جیسے نفسیاتی مسائل کے شکار انسان کی پارٹی پاکستان میں اس وقت طاغوت کی نمائندہ جماعت بنی ہوئی ہے۔
عالمی استعمار، مافیاز اور اقتصادی غارت گروں کے ان Agents of Chaos کے پاس صرف ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے ابلاغی چالاکیاں
یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ گولڈ سمتھ اور روتھ چائلڈز کا پروجیکٹ عمران خان دراصل پروجیکٹ Undo-Pakistan ہے۔
دائیں بائیں اور سرخ و سبز والا جو بھی جاننا چاہتا ہے وہ جان لے کہ
عمران خان اور اسکی تحریک انقلاب نہیں بلکہ ردِ انقلاب ہے۔
یہ شخص اور اسکا Cult کوئی سیاسی اور سماجی تبدیلی نہیں لاسکتے بلکہ Persistent Chaos کے زریعے ہی خود کو متعلق (relevant) رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
یہ دستاویزی فلم دیکھنے کے بعد سمجھنے والی یہ بات یہ ہے کہ
بغیر کسی شرمندگی کے،
تعداد میں کم ہونے کی فکر سے آزاد ہوکر،
بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے، جو گالی ملے قبول کریں لیکن پیچھے نہ ہٹیں،
اس پاگل پن اور خبطِ عظمت میں مبتلاء بیانئے کو جواب دیں۔
زبان کی تیزی،
الفاظ کی ہیر پیر،
اور پروپیگنڈہ و انتشار،
کے علاوہ انکے پاس کچھ نہیں.۔۔۔۔۔
سمجھ آنے کے بعد یقین رکھنے والی بات یہ ہے کہ
جو پاگل پن مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی تھی پاکستان اس سے نکل چکا ہے.
پاکستان رہے گا لیکن ججوں اور اشرافیہ کا راسپوٹین نہیں ہوگا، ہٹلر مزاج اور مسولینی فطرت پیچھے رہ جائیں گے اور پاکستان آگے بڑھے گا انشاء اللہ، اپنے آپ کو مسیحا بتانے والا عمران خان دجل کے علاوہ کچھ نہیں ثابت ہوگا.