عاصم منیر کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف یہ فیملی تن تنہا لڑ رہی ہے۔
اور ایک عسکری ٹاؤٹ کہتا ہے موروثی سیاست نہیں چلے گی۔
بےغیرت انسان یہ فیملی سیاست نہیں ڈکٹیٹر شپ کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔عمران خان
@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
تیمر گرہ میں کارکنان کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے ہمیں حوصلہ ملا ہے آگے ہم نے عمران خان کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہے ۔
علیمہ خان کا تیمر گرہ استقبال سے خطاب
ایک انسان جن کی وجہ سے آپ کو شہرت اور وزارت ملی اور بدلے میں آپ نے کیا دیا ؟ ایک محب وطن پاکستانی بے گناہ جیل میں ہو تو ان کی بہنیں باہر آکر ان کے حق کے لیے آواز اٹھائے تو یہ کونسی موروثی سیاست ہو گئی؟ آگے بڑھ کر ساتھ نہیں دے سکتے حوصلہ نہیں دے سکتے تو خاموش تو رہ سکتے ہیں !
عمران خان نے کبھی نہیں کہا تھا کہ ان سے بھیک مانگو، اس نے کہا تھا کہ میں جیل میں مر جاؤں گا مگر یزید کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا-
ہم بھی عمران خان کے لئے پاکستان کے قانون کے مطابق صحت کی سہولیات کے لئے تحریک چلائیں گے-
#StreetMovementForJustice
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
عمران خان کی بہنوں کا ساتھ دو
جو موروثیت کا درس دے
سمجھو وہ غدار وطن اور لعنتی وردی والوں کا کتا خنزیر پالتوں جانور پیں۔۔۔۔
نوٹ : ایسے کنجروں پر نظریں رکھو