اگر آپ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ میسج لکھ سکتے ہیں، نہ ٹویٹ کر سکتے ہیں، نہ ری پوسٹ کر سکتے ہیں، تو عمران خان کے نام کا صدقہ شوکت خانم اسپتال کو دے دیں۔
اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے تو ہفتہ وار دے دیں، اور اگر ہفتہ وار نہیں دے سکتے تو ماہانہ دے دیں۔
لیکن جب بھی عمران خان کو یاد کریں، اس عظیم تحفے کو ضرور یاد کریں جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام پر اس قوم کو دیا ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک اسپتال نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے امید، خدمت اور انسانیت کی بہترین مثال نشان بن چکا ہے!
https://t.co/lClB2P4ans
@SKMCH@Aleema_KhanPK@Noreen_KhanPK@DrUzma_KhanPK@Kasim_Khan_1999
JOE KENT: “The whole myth that Iran is full of like crazy suicide bombers & crazy jihadis, Is a LIE. The Shias don’t use suicide bombers. The Shias have never come over to America to K!LL Americans.. It's the Salafi jihadis, the ISIS, the Al Qaeda, those are the suicide bombers.”
The only difference between El Sayed and Mamdani is that El Sayed is American born and can run for President! That scares the shit out of the GOP! 🇺🇸🇺🇸🇺🇸🇺🇸
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
Abdul El-Sayed, the winner of the Democratic primary in Michigan for the US Senate, talks with CNN’s @kaitlancollins about why he doesn’t believe the US should fund either offensive or defensive weapons to Israel.
Read more: https://t.co/5f4KPIDluj
مجھے اس بات سے سخت تکلیف پہنچ رہی ہے جیسے رؤف کلاسرا صاحب بدترین حالات میں جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان پر مسلسل تبرے برسا رہے ہیں۔
یہ کیا کم ظرفی ہے؟ کیا کلاسرا صاحب اللہ کو رازق نہیں مانتے؟