مطلب حد ہے کہ اس بندے کو زبردستی سیٹ جتوا کر اپنے ادارے کا وزیر لگوا کر دوسروں کو کہتے ہیں کہ ہماری عزت کرو ہم جو کہیں جو کریں ہمیں کوئی کچھ نہ کہے
عام عوام کی تعمیری تنقید برداشت نہیں مگر اس ایلیٹ کی تخریبی تنقید سے گھبرا کر این آر او دئے جاتے ہیں
قاضی فائز عیسیٰ کو آج وہ بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو انکے فیصلوں کے دیوانے ہوا کرتے تھے۔
آج والے ججز بھی ایک دن ریٹائر ہو جائیں گے۔ انکے فیصلے ان پر بوجھ بن جائیں گے۔ انکی آنیوالی نسلیں اپنے تعارف میں سے انکا نام حذف کر دیں گے۔
تاریخ بڑی ظالم شے ہے۔۔۔
جو جیو پر ہوا بہت سنگین غلطی ہے اور اس سے بہت سارے مسلمانوں کی دل شکنی ہوئی۔ لیکن میرا نہیں خیال جیو اور جنگ گروپ نے قصدً یہ غلطی کی۔ غلطی ہوئی۔ اس پر معافی مانگی گئی۔ اس لئے اس پر مزید آگ نہیں بڑھکانی چائیے۔ جب غیر مشروط معافی مانگ لی گئی تو اس معاملے میں معتبر علما اپنا کردار ادا کر یں اور اس معاملے کو حل ہونا چاہیئے ۔
حالانکہ جیو نے ہمارے خلاف عدت اور نکاح کے غلیظ ترین کیسز کی المناک ٹرامیشن رن کی۔ سپیشلی جو گند شاہ زیب خانزادہ کے شو پر کیا گیا وہ شرمناک ہے۔ ہمارے گھروں کی خواتین کے خلاف ٹرامیشنز رن کی۔ جب میں گرفتار تھا تو جہاں ریما صاحبہ بینظیر صاحبہ شہزاد اقبال صاھب نے زمہ دار رپورٹنگ کی۔ وہیں پر جیو جنگ نے انصار عباسی جیسے منافقوں کے زریعے پورا پورا اخبار جھوٹی جعلی خبروں اور ہیڈ لائینز سے بھر دیا۔ ایک چائینہ کا میراثی جو جھوٹا سید بنا ہوا ہے اس کو جھوٹ بولنے پر چھوڑا۔ اور بعد میں جب ان سے پوچھو تو یہ بتاتے ہیں دیکھیں ریما بینظیر شہزاد اقبال آپ کے لئے اچھی بات کرتے رہے۔ لیکن اصل بات نہیں بتاتے کہ پورا پورا نیوز بلیٹن اور پورا پورا اخبار جھوٹ پر مبنی چھاپتے رہے۔ یہ سبھی کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔
ان کی تمام تر مکاریوں کے باوجود ہمیں اپنے غم اور تکلیف کو ایک طرف رکھ کر انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔
میرے خیال میں غیر مشروط معافی کو قبول کرنا چاہئیے۔ اور اس نازک معاملے پر کسی قسم کے انتشار اور مزید نفرت انگیز مہم کا حصہ نہیں بننا چاہئیے۔
عاصم منیر کے سائے تلے ن لیگ مافیا کا اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ 'شبانہ روز' جاری ہے، کروڑوں بیروزگار نوجوانوں کے ملک میں فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی جماعت کے وفاقی وزیر احسن اقبال چوہدری کی بہن گریڈ 22 کی افسر عائشہ حمیرا چوہدری کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 3 سالوں کے لیے ممبر ایف پی ایس سی تعینات کردیا، عائشہ چوہدری نے 4 مہینے بعد ریٹائرڈ ہونا تھا، گویا عائشہ حمیرا چوہدری کو 3 سال کی سرکاری نوکری کی ایکسٹنشن مل گئی اور ایف پی ایس سی متنازعہ ہو گیا۔
#مینڈیٹ_چوروں_کی_سرکار
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
ماورائے عدالت قتل کا میں بھی حامی نہیں
مجھے علم ہے میری اس بات کے بات بہت سے لوگ یہ واویلا کریں گے کہ آپ غلط کام کی حمایت کر رہے ہیں لیکن میری یہ رائے اچھی طرح پڑھ لیں
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کو ایسے سنگین نوعیت کے جرم میں مبتلا شخص کو آن دی سپاٹ کیفر کردار تک پہنچانے کا حق حاصل ہے اور یہ قتل ماورائے عدالت یا قانون نہیں کہا جا سکتا
منتہاء کا کیس پہلا کیس نہیں ہے ہے ہمارے معاشرے میں ہر روز زینب جیسے کیس رونما ہو رہے ہیں ان درندوں کو سر عام سزا دینا نا خلاف شریعت ہے نا خلاف آئیں ہے نا خلاف قانون ہے میں اغوا برائے تاوان ڈکیتی اور ریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث اشخاص کے لئے سی ٹی ڈی کو مکمل اختیارات دینے کا قائل ہوں جس معاشرے میں عدالتیں مجرموں کو چھوڑنے میں بے باک ہوں وہاں قانون نیا راستہ بنا کر جرائم کو کنٹرول کر سکتا ہے اس بارے میں شریعت میں صرف ایک ہی نکتہ قابل غور ہے کہ کسی کو اختیار دے دیا جائے تو پھر وہ بے گناہ کو بھی اپنے کسی ذاتی انتقام کا نشانہ نا بنا ڈالے اگر اس کا سی ٹی ڈی یا قانون نافذ کرنے والے ادارے اچھا میکانزم ڈیزائن کر دیں تو تیز تر انصاف ہی شریعت کا مطمح نظر یے آگے بڑھنے ان ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں
نواز شریف گلگت بلتستان والوں سے شکوہ کر رہے ہیں جب مجھے زبردستی دیس سے نکالا گیا تو آپ خاموش کیوں رہے؟ یہ شکوہ انہیں اپنے شہر لاہور سے کرنا چاہئیے وہ بھول گئے کہ آج بھی انکا بھائی وزیراعظم اور بیٹی وزیراعلیٰ ہے جس جنرل باجوہ نے انہیں 2017 میں نکالا اسے 2019 میں ایکسٹنشن کس نے دی؟