آج پھر ہم۔اپنا ہاتھ حکومت اور اپوزیشن کیطرف بڑھاتے ہیں کہ آئیں دوبارہ بات کرتے ہیں ۔ ایمرجنسی ہمیشہ کے لئے نہیں رکھ سکتے ۔ لیکن دہشت گردی سے ہم صرف اسوقت جیت سکتے ہیں جب سب ایک پیج پر ہوں۔ سہیل آفریدی نے انکے بیانات نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا کہ ہم یہ گورنر رول کا قدم اُٹھاتے۔ہم دہشت گردی سے بھی لڑیں گے اور جو انکے پیچھے ہیں ہم ان سے بھی لڑیں گے ۔ صیہونی اور بھارتی اور طالبان عناصر پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے ہے۔ بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ سے خطاب
گِل صاحب آپ سے ایک بات پوچھنی تھی، یہ ساری 18 پلس خبریں ہر بار آپ ہی کو کیوں ملتی ہیں؟ آپ مصالحہ اچھا لگا لیتے ہیں اس لیے یا آپ کا سورس خبریں پہنچانے کے ساتھ ساتھ سہولت کار کے فرائض بھی سرانجام دیتا ہے؟
مورخہ 9 اکتوبر
لڑکے دھوکہ نہیں دیں گے یہ لڑکے چھا گئے ہیں یہ لڑکے قابو نہیں ائیں گے یہ لڑکے حیران کر دیں گے
مورخہ 12 اکتوبر
پی ٹی آئی کا کے پی میں کوئی بی ۔سی پلان نظر نہیں آیا۔ بظاہر وہ صرف جملے بازیاں ہی تھیں۔ اور یا پھر کوئی شدید اندرونی اختلافات کہ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہونے اور گرفتاری پر بھی کوئی ردعمل نہ دیا جا سکا
ناظرین یہ دونوں ٹوئٹس ثمینہ سٹرابری کی ہیں اور یوتھیے ان دونوں ٹوئٹس کے تھلے واہ بھئی واہ لکھ رہے ہیں
چلیں آج ایک بات اور ثابت ہو گئی کہ عمران نیازی کے بعد اس کا جانشین قاسم سلیمان اور ٹیریان نہیں ہوں اور نہ ہی پنکی پیرنی موسی ابراہیم مانیکا اور لطیف پاکپتنی ہوں گے اور نہ ہی کیمرون پائن عمران کے سیاسی جانشین ہوں گے اور نہ ہی علیمہ نورین عظمیٰ اور انکے بچے ہوں گے بلکہ بلبل سوات مراد اول مُراد سویٹ عمران خان کے جانشین ہیں اور ویسے بھی ایسی جماعت کی کنجیاں کسی مہا عمرانڈو کے پاس ہی ہونی چاہیں
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!