ریاست طیبہ
۔۔
دو دن
اور
تونسہ و لاہور کے 2 خاندانوں کے لیے دنیا میں ہی جہنم کا ماحول کر دیا گیا،
اسلام آباد میں ایک اورملازمہ بچی تشدد کیس سامنے آیا،
سندھ میں 10 سالہ بچی کو پیر کی اولاد نے تڑپا تڑپا کر قتل کر دیا،
اور جڑانوالہ میں اقلیتی عبادت گاہوں کی تباہی،
بغیر کسی کیس، عمر سرفراز چیمہ کے ساتھ غیرانسانی سلوک، وہیل چیئر پر عدالت آئے،
کووڈ کی ہیرو، ماہر ترین سرجن، 70 سالہ خاتون کو جیل میں دل کی تکلیف، پھر بھی بےگناہ پابند سلاسل
۔۔
سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، انٹرنیشنل یونیورسٹیز کے چانسلر، دنیا کے سب سے بڑے خیراتی اداروں کے بانی، مغلوب مسلمان اقوام کی آواز، ناموس رسالت کے سچے علمبردار @ImranKhanPTI کو بےگناہ 8x8 کی کال کوٹھڑی میں دو ہفتے، ججز کی طرف سے انصاف کی فراہمی میں گھٹیا ترین رکاوٹیں
۔۔
“صرف 36 گھنٹے اور تہہ در تہہ ظلم”
فاطمہ قتل کیس میں ہولناک انکشافات..!!
فاطمہ کی والدہ نے بیان دیا ہے کہ مجھ سے سید اسد شاہ کے سسر فیاض شاہ نے زبردستی پولیس کو بیماری کا بیان دلوایا تھا، جبکہ میری پھول جیسی بیٹی کی بازو دو جگہوں سے ٹوٹی ہوئی ہے اور اسد شاہ کی بیوی نے فاطمہ کی قمر پر گرم استری لگائی ہے، جس سے اس کی قمر کی کھال اتر گئی تھی، اور سر سے بالوں کو کھینچا گیا ہے، جس سے سر میں بھی زخم تھے.
ذرائع کے مطابق کچھ مزید بچیاں اسد شاہ کی حویلی میں ابھی تک موجود ہیں اور رانی پور کے دیگر پیروں کی حویلیوں میں سو سے زائد بچیاں باندی بنی ہوئی ہیں۔
فاطمہ قتل کیس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی نے سوشل میڈیا پریشر سے پیر اسد شاہ اور اس کے سہولتکار ڈاکٹر عبد الفتاح اور ایس ایچ او امیر چانگ کو گرفتار کروالیا ہے،جبکہ ایف آئی آر میں اسداللہ شاہ اور اس کی بیوی حنا شاہ عرف سونیا شاہ ولد فیاض شاہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے.
ہمارا مطالبہ ہے کہ قبر کشائی کرواکر، پوسٹ مارٹم اور مکمل میڈیکل ایگزمنیشن کروائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے، اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروا کر دیگر حویلیوں میں باندی بنی سو سے زائد پھول جیسی معصوم بچیوں کو بھی رہا کروایا جائے.
الحمد اللہ! ہم نے آواز بلند کی اور سوشل میڈیا کے دیگر دوستوں نے بھی ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوے اس مسئلے کو اجاگر کیا، الیکٹرونک میڈیا نے بھی کوریج دی اور پولیس بھی دباؤ سے ایکشن لینے پر مجبور ہوئی، ہمیں امید ہے کہ معصوم فاطمہ کے خون سے انصاف ہوگا اور مجرموں کو قرار واقعی سزا تک ہم آواز بلند کرتے رہیں گے.
سید کامران نقوی
#JusticeForFatimaFariro
#JusticeForFatimaFariro
@soldierspeaks@BBCBreaking@BBCUrdu@Haqeeqat_TV @HumaimaMalik162 @EURightsAgency
Biden administration and its puppet generals in Pakistan can not dupe the world anymore.
پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ پاکستانی غدار جرنیلوں نے میر جعفر باجوہ اور اب عاصم منیر چسکی کی زیرکمان امریکہ کے کہنے پر عمران خان حکومت کا تختہ الٹا، پارٹی توڑی اور،اب پابند سلاسل کردیا۔
آج پنجابیوں کو بھی بلوچوں کا غم سمجھ آچکا ہے کہ کیسے وطن سے دربدر دیارءغیر میں جرنیلی کتوں کا شکار ہونے سے بچنے کے لئے، عافیت کے طالب ہمارے بھائی بہنیں راہءحق کے مجاہد مسافر آج بھی حقیقی آذادی کے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
یہ 14 اگست ان مجاہد مسافروں کے نام جن سے ہم شرمندہ ہیں
@soldierspeaks کبھی سوچتی ہوں ہم لوگوں سے ضرور کوئی عظیم گناہ ہوگیا ہے کہ پاکستان پر ایک عذاب مسلط ہے بھوک افلاس بے روزگاری دنیا بھر میں ذلت اور اب ظلم و ستم کا شکار ہیں لوگوں کے نہ گھر نہ کاروبار محفوظ نہ ہی جانیں اور نہ ہی عزتیں محفوظ ، سواۓ اللہ کے ہم کسی کیطرف نہیں دیکھ سکتے
#بریکنگ_نیوز
پاکستانی فوج میں میرے ذرائع سے افشا ہونے والی آئی ایس آئی کی اندرونی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی فاشسٹ ریاست واشنگٹن ڈی سی میں اپنے سفارت خانے سے امریکی سرزمین پر بین الاقوامی جبر کر رہی ہے۔
"طارق" آئی ایس آئی میں میجر جنرل فیصل نصیر عرف ڈرٹی ہیری کا "کال سائن/کوڈ نیم" ہے۔ منٹ شیٹ پر اس کے ابتدائی سائن واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے NICOPs (پاکستانی شناخت) کو ISI منسوخ کر رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں رہنے والے ان مخالفین کے رشتہ داروں کو بھی ماورائے عدالت اغوا اور دیگر طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جارج گیلوے کے مدر آف آل ٹاک شوز میں پچھلے ہفتے کے آخر میں اس خبر کو بریک کرنے کے بعد یہاں ثبوت کی درخواست کی جا رہی تھی جو حاضر ہیں ۔
ایک بنیادی فرانزک آڈٹ اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ دستاویزات مستند ہیں۔ اگر آئی ایس پی آر ان دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرتا ہے تو مزید تفصیلات فراہم کی جا سکتی ہیں جس سے پاکستان کی قومی سلامتی اور بیرون ملک انٹیلی جنس نیٹ ورک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ دستاویزات #Cypher کی طرح پاکستانی جرنیلی ٹولے اور ٹونی افسران کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فاشزم کا ثبوت ہیں، جس نے عمران خان کے خلاف حکومت کی تبدیلی کے آپریشن کو ثابت کیا۔
ہم عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی تباہی اور امریکہ/مغربی سرزمین پر پاکستانی ریاست کی طرف سے اس طرح کے صریح بین الاقوامی جبر کی اجازت نہ دیں۔ اسی قسم کی بین الاقوامی جبر کی کارروائیاں برطانیہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا میں کی جا رہی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سمیت ان تمام ممالک کے ریاستی حکام کو پاکستانی ریاست ان ممالک میں رہتے ہوئے جمہوریت کے لیے اٹھنے والی اختلاف رائے کی آوازوں پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے جوڑ توڑ کر رہی ہے۔
واٹر مارکس کے بغیر اصل دستاویزات / ترمیم شدہ حصے میرے پاس فرانزک تجزیہ کے لیے دستیاب ہیں۔
کل سے پاک فوج کے ان گنت افسران اور جوان مجھ سے رابطہ کرکے اپنے کرب کا اظہار کرچکے ہیں ۔ بولے نوکری اور فکر معاش نے باندھ تو رکھا ہے مگر دل پر قابو نہیں جو عمران خان سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جتنا پاکستان سے اور پاکستانی خان سے کرتے ہیں۔
عاصم منیر اپنی ہی فوج سے صحیح ڈرا ہوا ہے۔۔۔
عمران خان کی گرفتاری اور لفافیوں کی چھلانگیں پاکستان کی قانونی اور اخلاقی اقدار کا جنازہ ہیں۔ اگر عمران خان کی درخواست کے باوجود بھی قوم پرامن جمہوری احتجاج کے لئے گھروں سے نہیں نکلتی تو پاکستان کا مستقبل صرف ٹھگوں اور #چاچو_وسکی جیسے درندوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ اپنے اور اپنے بچوں کی مستقبل کی خاطر نکلیں اور پاکستان کی خاطر نکلیں۔
#نکلوپاکستان_کی_خاطر
آئی ایس آئی کے سینئر ذرائع نے تصدیق کی کہ عمران ریاض خان آئی ایس آئی سنٹرل/اسلام آباد کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر فہیم رضا کی تحویل میں ہیں۔
ڈی جی سی، ڈرٹی ہیری نے عمران ریاض کو انتخابات تک وہاں رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ان کی رہائی کو طول دیا جائے گا۔
عمران ریاض خان کی رہائی کے سلسلے میں بہت سے صحافیوں کی بیک ڈور ڈپلومیسی بھی ناکام رہی ہے۔
اگر عدلیہ میں اخلاقیات اور اقدار کا کوئی بھی نظام باقی رہ گیا ہے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لیں۔
میڈیا اور صحافیوں کو ان کی رہائی کے لیے تحریک چلانی چاہیے۔
مبینہ طور پر، وکلاء نے عمران ریاض خان کے کیس کو صرف خراب کیا ہے، اور ان وکلاء کی ہینڈلنگ نے (آئی ایس آئی کے اندر محب وطن افسران کے دعوے کے مطابق) عمران ریاض کو قید کرنے والے آئی ایس آئی انٹرنل ونگ افسران کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔
میرے ذرائع کے مطابق عمران ریاض خان الحمدللہ صحت مند ہیں۔ میں جان بوجھ کر اس مسئلے پر کافی عرصے سے خاموش رہا تاکہ IRK کی حفاظت کو خطرے میں نہ ڈالوں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔
آگے بڑھنے کا واحد راستہ میڈیا اور صحافی برادری کی طرف سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا ہے۔
میں ان کے وکلاء کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس سے غیر ضروری مسائل پیدا ہوں گے، لیکن ان کے وکیل نے یقینی طور پر اس معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔ اگر مجھے چیلنج کیا گیا تو میں انتہائی شرمناک تفصیلات پیش کر سکتا ہوں۔
عمران خان کے روزانہ کے خطاب کو 24 گھنٹے میں صرف یو ٹیوب پر 5-10 لاکھ افراد سنتے ہیں
اس اعدادوشمار میں وہ ویڈیو کلپس شامل نہیں جو وٹس ایپ، ٹوئٹر ، فیس بک، ٹک ٹاک اور دوسرے ایپس پر لاکھوں کی تعداد میں شیئر ہوتے ہیں
اگر تمام سوشل میڈیا کو اکھٹا کیا جاۓ تو عمران خان کو روزانہ اوسط 4-5 کروڑ لوگ دنیا بھر میں سنتے اور دیکھتے ہیں، صرف ٹک ٹاک پر عمران خان کی ویڈیو کو 24 گھنٹے میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کا سننا مقبولیت کے گلوبل ریکارڈ کو ظاہر کر رہا ہے
اور یہ کوئ تفریحی پروگرام نہیں، کوئ گانا نہیں، کوئ ناچ گانا نہیں، کسی پٹواری کی غلیظ گفتگو نہیں، یہ تقریر ہے، ایک ویثرن ہے، ایک فلسفہ ہے، نظریہ ہے، اور پچھلے سوا سال میں عمران خان کی تقاریر کی تعداد 300 سے کم نہیں ہے، لیکن کوئ بور نہیں ہوتا، عوام کو ہر روز اسکا انتظار رہتا ہے، یہ غیر معمولی phenomenon ہے جو دنیا کی تاریخ میں منفرد ہے، جس نے سوئ ہوئ قوم کو 76 سال بعد جگا دیا ہے،مزے کی بات یہ phenomenon الیکٹرانک اور پرنٹ کی زیرو کوریج کے ساتھ ہو رہا ہے، جس سے ثابت ہوا کہ روائتی میڈیا غیر متعلق ہو چکا اور عوام کو اسپر قطعی اعتبار نہیں
کیا پاکستان میں کوئ ایک اور لیڈر اتنی توجہ حاصل کر سکا یا کر سکتا ہے؟ یا شاید پوری زندگی میں کسی کو ایک تقریر پر ایسی توجہ ملی ہو؟
اسے کہتے ہیں کہ عوامی راۓ اور اسی کا خوف ہے فیصلہ سازوں کو، عوام کے راستے میں کھڑے ہونے والے تاریخ میں دفن ہوتے ہیں، عوام کے ساتھ کھڑے ہونے والے تاریخ میں ہیرو بنتے ہیں
جب اللہ تعالیٰ کسی کو ذلت سے دوچار کروانا چاہتے ہے، اُس سے ایسے فیصلے کرواتا ہے جو اُسے ذلت کے راستے پر لے جاتے ہیں، جب کسی کو عزت دینا چاہتا ہے، اُسے ایسی مشکلات دیتا ہے جو اُسے عزت اور کامیابی دیتی ہے
جب خانہ کعبہ کاغلاف پاکستان میں تیار ہوا
1962 میں سعودی وفد آیا اور کراچی صدر میں واقع سلک ہاؤس گئے کپڑے کا معیار جانچنے کیلئے سعودی حکومت نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا تیار کروایا جو شاہ سعود کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے سلک ہاؤس کو غلاف کعبہ کی تیاری کا کام سونپ دیا۔
اردو نیوز کودیے گئے انٹرویو میں وحید الدین کے صاحبزادے رضوان اللہ نے بتایا کہ ان کے والد نے 1962 میں غلاف کعبہ جب کہ 1982 میں کعبہ کا اندرونی غلاف اور روزہ پیغمبرِ اسلام کے غلاف کے لیے سبز رنگ کے خصوصی ریشمی غلاف تیار کرچکے ہیں۔
وحید الدین کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے 3 ماہ تک 34 کاریگروں نے باوضو ہوکر ان کے والد کی زیرنگرانی کام کیا، کسوہ کی تیاری کیلئے کپڑا سعودی عرب سے پاکستان بھیجاگیا، سعودی حکومت کی زیر ہدایت غلاف کعبہ کو 2000 میٹر پر 62 مختلف حصوں میں تیار کیا گیا ۔
غلاف کعبہ کی تیاری کے دوران اس وقت کے صدر ایوب نے بھی کام کا جائزہ لیا۔
غلاف کعبہ کی سعودی عرب روانگی سے قبل عوام کی زیارت کیلئے اسے پولو گراؤنڈ میں رکھا گیا جہاں لاکھوں لوگوں نے غلاف کعبہ کو دیکھنے کی سعادت حاصل کی،یہی نہیں کعبہ کے مقدس غلاف کو سعودی عرب بھیجنے کیلئے لاہور ائیرپورٹ جانے والی سڑک پر ہزاروں افراد نے جلوس کی شکل میں شرکت کی، اس دوران غلاف کعبہ کی گاڑی پر منوں کی تعداد میں فضا سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔
ایک بیوروکریٹ نے بہت دلچسپ واقعہ سنایا۔ آپ بھی سنیے۔
"عمران خان حکومت ختم ہوتے ہی ایک اتوار شہباز شریف نے میٹنگ بلائی۔ میں نے سوچا کہ میٹنگ میں جانے سے پہلے پیٹرول پمپ پر گاڑی دھلوا لوں۔
میں نے لڑکے سے کہا جلدی کرو۔ میں نے دفتر جانا ہے۔
اس نے کہا، اتوار کو کون سا دفتر ہوتا ہے، صاحب؟
میں نے کوفت سے کہا کہ بھئی وزیراعظم آفس جانا ہے۔ جلدی کرو۔
وہ مجھے حیرت سے دیکھ کر بولا کہ وزیراعظم تو چلا گیا۔ وزیراعظم تو عمران خان تھا۔
میں نے کہا، نہیں نہیں، اب شہباز شریف وزیراعظم ہیں۔ میں نے ان سے ملنے جانا ہے۔
اس لڑکے نے مجھے نظر بھر کر دیکھا اور اپنے لڑکوں کو آواز دے کر کہا کہ، "چھوڑ دو۔ گاڑی واش مت کرو۔
چوروں سے ملنے کے لئے اتنی تکلیف نہ کریں، سر۔ ایسے ہی لے جائیں اپنی گاڑی۔ ہمارے پاس اور بہت ضروری کام ہیں"
😂😂🤣
اب آپ اندازہ لگا لیں کہ عوام الیکشن میں کیا کرے گی۔