ن لیگی درباری ٹاؤٹ صحافیوں نے پہلے بیانیہ بنانے کی کوشش کی کہ PTI لانگ مارچ میں افغانستان سے کچھ لوگ شامل ہو چکے ہیں جو کہ کوہاٹ کینٹ پر حملہ کر دیں گے،
اور پھر ایمرجنسی نافذ ہو جائے گی۔
پھر نیا بیانیہ آیا کہ PTI لانگ مارچ میں بہت کم لوگ ہیں۔
پھر نیا بیانیہ آیا کہ سہیل آفریدی جنوبی خیبر پختونخواہ کے اتنے خطرناک علاقوں میں رات کے وقت عوام کا سمندر لے کر کیسے نکل آئے؟
وہاں تو لوگ اپنے گھروں سے مغرب کے بعد نکل ہی نہیں سکتے۔ طالبان ناکے لگاۓ بیٹھے ہوتے ہیں۔ ضرور طالبان ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
حکومت کو بلکل سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا بیانیہ بناۓ۔ ان کی سٹی گم ہو چکی ہے۔
جاوید ہاشمی کمال کے بہادر اور دلیر انسان ہیں ماشاءﷲ۔ اس بزرگی میں بھی جس دلیری سے وہ عمران خان کے مؤقف پر ڈٹ گئے ہیں۔
اس سے یقیناً PTI کی قیادت کے وہ لوگ جو پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر ہومیوپیتھک سیاست کرتے ہیں، ان پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ کوئی عہدے لے کر بھی وفا نہ کر سکا۔
اور کوئی بغیر کسی عہدے کے، اتنی ضعیفی میں بھی بازی لے گیا۔
آپ خاموش تھے
عدل بِکتا رہا، ظلم ہوتا رہا
جسم کٹتے رہے،
چاندنی رات میں کھیت روتے رہے
خلق لُٹتی رہی ، سر پٹختی رہی
حاکمِ وقت نشّے میں سوتے رہے
اِک قیامت تھی بکھری ہوئ چار سُو
آپ خاموش تھے
آپ خاموش تھے
نوشی گیلانی
سرگودھا میں پولیس کو 15 پر کال کرکے بلانے کے بعد گولیاں مارنے والے انعامو وینس کا ایک کے بدلے دس جانیں لینے کا اعلان
سوشل میڈیا پر انعامو وینس نے اداروں کو وارننگ دی ہے کہ اب پنجاب بھر میں پولیس اسکے نشانے پر ہوگی وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا ایک کے بدلے دس جانیں لے گا
کوٹ مومن واقعہ کے حوالے سے انعامو نے کہا کہ 15 پر کال میں نے خود کروائی اور جس سے کال کروائی اسے انعام بھی دیا کیونکہ پولیس والے میرے ہتھے نہیں چڑھ رہے تھے جہاں جاتا کوئی پولیس والا نظر ہی نہیں آتا تھا مجبور ہو کر کوٹ مومن گئے اور ایک فریق سے زبردستی 15 پر کال کروائی اس کے بعد جو ہوا سب کو معلوم ہے۔
انعامو وینس کے بقول جو کچھ کررہا ہوں مجبوری سے کررہا ہوں ۔ میں قسم کھاتا ہوں نہ میں ڈکیت ہوں اور نہ دہشت گرد
میرے بے قصور دوستوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان بے گناہوں کو بھی جن کا میں نام بھی نہیں جانتا ۔ ریاست اب وہ سانپ بن گئی ہے جو اپنے بچے خود کھارہی ہے اور میرا چیلنج ہے زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے۔
لیکن جب تک جیوؤں گا انہیں پتہ چلے گا کہ کوئی مائی کا لعل تھا جو انہیں ٹکرا تھا۔
میں اعلان کررہا ہوں پنجاب کے ہر ضلع کی پولیس سے بدلہ لوں گا ، تھانے گرڈ سٹیشن اور اہم عمارات میرے ایک اشارے پر اڑا دی جائیں گی
پنجاب پولیس اور شہری آمنے سامنے
پنجاب کے شہری اب اپنے حقوق کو سمجھنے لگے ہیں، اسی لیے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی اپنے حقوق کے مطابق بات اور برتاؤ کر رہے ہیں۔ شہری اور پولیس کے درمیان تلخی کا یہ منظر اس بدلتے شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
"خوفناک خبریں آ رہی ہیں، خدارا عقل سے کام لیں، یہ عمران خان کو معائدے کی پیشکش کر رہے ہیں لیکن خان کہہ رہا ہے کہ تین سال تو گزار لئے، اب باقی زندگی بھی ایسے ہی گزار لوں گا، وہ ٹوٹتا نہیں ہے، جھکتا نہیں ہے، بکتا نہیں ہے اور انکے لئے درد سر بن گیا ہے، لانگ ماچ والے انکو تھکا کر ماریں گے، لوگ جھولیاں اٹھا کر انہیں بددعائیں دے رہے ہیں، یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ آئیں آپکو مزہ چکھائیں گے، آئیں آپکو ماریں گے، نفرتیں آپ خود بو ریے ہیں"
سینئر صحافی @asmaschaudhry@DRTPakistan
پنجاب میں یہ کیا چل رہا ہے؟ آخر کون ہے جس نے اتنی آزادی دے رکھی ہے کہ عوام کو آگے لگا لو یا پھر پولیس اتنی آذاد ہو چکی ہے وہ خود فرعون بن گئی ہے! خدارا بس کر دیں ۔۔۔۔عوام نکو نک ہو چکی ہے
مریم نواز کی پنجاب پولیس نے لوگوں پر زمین تنگ کر دی ۔
تُو زبان کیوں کھولی؟ تینوں میں چپیڑاں کراواں گا، تُو باہر چل، تیرا میں علاج کردا۔
لاہور اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کے دفتر میں اسامہ نامی اہلکار کی شہری کے ساتھ بدتمیزی۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان
"پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" - القرآن
یا اللّه۔ پاکستان پر فضل کیجئے اور ظلم کا نظام ختم کر دیجئے۔ آمین۔
🔴جمعرات کو 3 بجے سے 5 بجے تک اسلام آباد کی تمام مارکیٹیں بند رہیں گی، ہر مارکیٹ کا تاجر وہاں احتجاج کرے گا، اسلام باد کی ہر چوک، ہر سڑک بند کریں گے، آپ نے ہمیں کیا سمجھ لیا ہے؟ اب ہم آپ کے گلے پڑیں گے، آپ کا گریبان پکڑیں گے کیونکہ آپ ڈنڈا لے کر ہم تک پہنچ چکے ہیں، بہت ہو گئی، اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے،آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ کا اعلان
یہ مذاق اُڑاتے ، دہشت گردی جیسے الزام لگاتے ہوئے مکرو صحافت والے سوچتے ہیں کہ وقت کبھی نہیں بدلے گا ۔۔ جبکہ وقت بدلے گا اور یہ سیاہ کردار ہمیشہ بددعاؤں کے حصّار میں رہیں گے۔
رہے نام اللہ کا !!