دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
بجلی کے بل: برداشت کی آخری حد ختم ہو چکی
خاموش معاشی حملہ بند کرو
199 یونٹ بل 3500 روپے
ظلم کی انتہا 201 یونٹ بل 9000
ہر یونٹ کے ساتھ بڑھتی عوام کی پریشانی
ظالمانہ نظام ختم کرو غریب عوام کو سکون سے جینے دو۔
عوام کو ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا ہو گی
#بجلی#بل
مشکل وقت میں ساتھ دینے والی عوام کو نظر انداز کرکے مشکل وقت میں حرامزدگی کرنے والی آئل کمپنیوں کو پھر سے نوازا گیا ہے۔
رانا ثناء اللہ صاحب کے آئل کمپنیوں کے خلاف کاروائی کے دعوے وڑ چکے ہیں
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے!
اندازہ کریں اس ملک میں یہ آئل کمپنیاں کیسے مافیا بنی ھوئی ہیں
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 18 سے 20 فیصد کمی کے بعد آئل کمپنیوں نے 105 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب قیمتوں میں اضافے کے باعث انہی کمپنیوں کو ذخیرہ شدہ اسٹاک پر غیر معمولی منافع حاصل ہوا تھا، تب کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ مگر اب قیمتوں میں کمی کے بعد نقصان کا رونا فوری طور پر شروع ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جتنی تیزی سے نیچے جا رہی ہے، پاکستان میں مہنگائی اتنی تیزی سے اوپر جا رہی ہے! مہنگائی کرو، اپنی جیبیں بھرو۔۔ پٹواری لیگ کا 40 سالہ ٹریک ریکارڈ!
آئل سستا ہونے سے کمپنیوں کو 104 ارب
کا نقصان کمپنیوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھ کر یہ سب تو بتا دیا
مگر یہ نہیں بتایا پیٹرول مہنگا کر کے ہم نے کمائی کتنی کی
دوغلے منافقو۔۔۔۔؟؟
پٹرول کی قیمت میں مزید 50 روپے کمی کا مطالبہ کرنے والے بھول جاتے ہیں اس وقت حکومت 125 روپے فی لٹر وصول کر رہی ہے جس میں سے 80 روپے بلاجواز لیوی ہے۔ 42.50 کسٹم ڈیوٹی اور 2.50 روپے ماحولیات کا ٹیکس ہے
پٹرول کی قیمت اس وقت 250 نہیں زیادہ سے زیادہ 219 روپے فی لٹر ہونی چاہیئے
📌 پٹرول کی قیمتیں اور ادھورا ریلیف: عوام کے ساتھ بڑا مذاق!
حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 74 روپے کی معمولی کمی کر کے خوب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے عوام کو ابھی بھی کم از کم 50 روپے مزید کا ریلیف ملنا باقی ہے!
عالمی مارکیٹ کا موازنہ: جب جنگ کا آغاز ہوا، تب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی۔
آج کی صورتحال: آج وہی تیل کم ہو کر 73 ڈالر فی بیرل پر آ چکا ہے۔
: عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود، حکومت وہ ریلیف عوام تک منتقل نہیں کر رہی جس کا دعویٰ یا وعدہ کیا گیا تھا۔
حکومت نے عوام کو جائز ریلیف دینے کے بجائے صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے قیمتوں میں ادھوری کمی کی ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام اب کھوکھلے دعووں سے بہلنے والی نہیں!
حکومت سے مطالبہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں مزید 50 روپے کی فوری کمی کی جائے اور عالمی مارکیٹ کا پورا فائدہ براہِ راست غریب عوام کی جیب تک پہنچایا جائے۔
یہ کون لوگ ہیں بھائ ؟
بجٹ کے ایک دن کے سیشن میں چاۓ اور دو وقت کے کھانے کے لئیے ایک کروڑ روپے مُختص کردئیے۔
یہ پارلیمانی لیڈر چاۓ بھی اپنے پیسوں سے نہیں پی سکتے ؟
پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر کمی عوامی دباؤ کی کامیابی ہے مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ قیمت 225 روپے فی لیٹر پر لائی جائے، پٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ پٹرول پرائز کو تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ انڈسٹری کا اعتماد بحال ہو اور ہماری پروڈکٹس عالمی مارکیٹ میں مقابلے پر آسکیں۔ حکومت دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی 28 فروری کی سطح پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔