حیوانیت،درنگی،بدترین دہشتگردی، انسانیت دشمنی۔۔۔
ایک سال کے بچے کو دس گھنٹے تک حراست میں رکھنا اور اس پر سگریٹ اور ناخنوں کے ذریعے تشدد کرنا!!!
یہ کیا ہے؟؟
صہیونی دنیا کے بدترین مخلوق ہیں۔
غاصب صیہونی آبادکار نے گھر پر قبضہ کیا، فلسطینی بچے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گاڑی کے پیچھے باندھ کر پتھریلی سڑک پر گھسیٹتا رہا حتیٰ کہ اس کی موت ہو گئی۔
صہیونی حیوان تو بھگتیں گے، مسلم حکمران روز محشر اس بچے کا کیسے سامنا کریں گے؟
ایک فلسطینی جرنسلٹ!💔
میں نے جرنلزم چھوڑ دی, کیوںکہ جب فلسطین میں جبر کے پہاڑ توڑے جارہے تھے, تب پوری دنیا کا میڈیا خاموش تھا, صرف عام لوگ سوشل میڈٰیا پر آواز اٹھانے رہے!!
نام نہاد جمہوریت پسند ممالک سارے ایکسپوز ہوچکے ہیں, یہ جمہوریت کے نام استعمال کرتے ہیں بس!!
🚨 🚨
غزہ کی حالت زار 💔
شدید سردی، خیموں میں رہنے والے لوگ،
مشکلات اور درد ہر طرف💔…
ہماری دعا:
اللّہُمّ، ربّ المطر، البرد اور الريح،
ان کے لیے رحمت اور حفاظت آسان فرما۔ 🙏
یاد رکھیں، ان کے لیے آواز بلند کرنا اور دعا کرنا بھی مدد ہے🌍۔
🔴 غزہ کی خاتون:
زندگی میں کبھی اتنی تذلیل محسوس نہیں کی۔ انہوں نے ہمیں روند ڈالا، جیسے ہم انسان ہی نہ ہوں۔
امریکی فوجیوں نے ہمیں مارا، گھسیٹا۔
کوئی مدد نہیں ملی۔ ہم اپنے بچوں کو کیا منہ دکھائیں؟
مصر میں سمندر کے کنارے اخــــــــ وان المســـــــ لمین سے تعلق رکھنے والا ایک شخص غذائی اشیاء بوتلوں میں بھر کر غــــــزہ کی جانب بہا رہا ہے
اس بھائی کی آواز سنیں، لہجہ دیکھیں اور درد کی شدت کا اندازہ لگائیں
روتے ہوئے کہتے ہیں: اے میرے پیارے غــــــ زہ والو مجھے معاف کر دو، خدارا مجھے معاف کر دیں
یا اللہ جیسے آپ نے نوح علیہ السلام اتنے بڑے طوفان میں حفاظت فرمائی ، اس کو بھی باحفاظت غــــــــ زہ تک پہنچا دیجئے
یااللہ سمندر تو آپ کے قبضہ قدرت میں ہی ہے
موسیٰ علیہ السلام کے لیے پانی میں راستہ بنانے والے کریم اللہ
اس چھوٹی سی کاوش کو قبول کر لے اور اسے غـــــــ زہ پہنچا دے
-----------
عرب و عجم کے سارے حکمران اس اخــــــ وانی کے قدموں کی خاک برابر بھی نہیں🖤
حالیہ دنوں میں مولوی اور بچوں کے حوالے سے دو خبریں آئیں۔ ایک خبر ایک بچے کی شہادت اور دوسری ایک بچے کے ساتھ بدفعلی کے حوالے سے تھی۔ میں نے ڈیویلوپنگ اور غیر مصدقہ خبروں پر تبصرہ نہ کرنے کی دیرینہ پالیسی کے تحت اس پر رائے نہیں دی۔
اب بھی ان خبروں کی میرے پاس تصدیق نہیں لیکن ملک کے سنجیدہ حلقوں نے ان پر ربط سے بات کی جس سے تواتر کی فضا بنی۔
میری ڈیمانڈ:
ان دونوں مولویوں کے خلاف ملک کے قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جائے۔
مجھے امید ہے کہ سزائے موت کے وقت دیسی سیکولرز انسانی حقوق کے نام پر مجرموں کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئیں گے!
@GovtofPakistan Ye kia mazaq hai trump ne gaza me Israel ko support karne keliye har qism ki madad ki salana Israel ko 3 billion dollar ka aid deta hai or aap keh Rahe ho ke trump ko Nobel prize milna chahiye shame on you pak govt aap hamari numaindgi NAHI karte
تمام ہمدردی ایران کیساتھ ہونے کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اپنے ایئر ڈیفنس کی کمزوری کو جانتے ہوئے بھی ساری اعلیٰ قیادت کو ایک ہی اجتماعی قبر میں لا کر بٹھانے کی حماقت کیوں کیگئی؟
اگلا نشانہ یقیناً پاکستان ہے جس کیلئے اس سانحے میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ سیاسی جبر اور معاشی استحصال غداری کی راہ دکھاتا ہے۔قوم ریاست سے لاتعلق ہو جاتی ہے۔یہ دشمن انڈیا کیطرح نالائق ہے نہ انڈیا ہر بار نالائقی کریگا۔چنانچہ گزارش ہے کہ خدا را پاکستان کو صرف اشرافیہ کا ملک نہ بنائیں۔عوام کو عملاً بتائیں کہ یہ آپ کا بھی ملک ہے۔غور سے دیکھیں تو آئی ایم ایف یہی تو کروا رہا ہے۔
A Welsh nurse pleads with Egyptian security forces to allow them entry into Rafah to help starving children in Gaza. He reminds them of their duty to help fellow Muslims.
A non-Muslim reminds Muslim soldiers about the principles of Islam. Shameful.
مذاق برطرف سنجیدہ بات ہے کہ تمام ابراہیمی مذاہب کے لٹریچر میں آخری دور میں ایک بہت خوفناک جنگ کا ذکر ملتا ہے جو خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان لڑی جانی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس کی صف بندی کا پاکستان سے آغاز ہو چکا ہے۔فی الوقت پوری دنیا میں شیطانی آرڈر نے رحمان کو اجتماعی نظام سے مکمل طور پر بے دخل کر رکھا ہے۔پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے کم از کم زبانی طور پر اپنے آئین میں رحمان کی حاکمیت کا اقرار کر رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کرپشن بدعنوانی دہشت گردی اور فساد کی ہر شکل کے ذریعے اس ملک کی جڑیں کھودنے کی مختلف کوششوں کے بعد اب آخری چارے کے طور پر شر کے باطنی نظام کے پاکستانی مرشد کو میدان میں اتارا گیا ہے۔مقابلہ کرنے والوں کا اصل مسئلہ یہ کہ اپنی اصل پہچان کے بغیر صف بندی ہو رہی ہے۔حکومت،پارلیمنٹ،عدلیہ اور عوام لکیر کی ایک طرف آ رہے ہیں۔بیوروکریسی اور صحافت میں ابھی چھانٹی ہونا باقی ہے۔مگر اہم تر یہ ہے کہ مقصد کی واضح "پہچان" بھی حاصل ہو جائے۔ابھی تو دھکے سے کام چل رہا ہے۔
"اپنی خودی پہچان او غافل افغان"۔