رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کی تھی جب میرا وصال ہو تو میرے غسل کیوقت اس کنویں کا پانی استعمال کیا جائے۔ یہ کنواں جنت کے کنویں میں سے ایک ھے۔ اس کنویں کو
"جنت کا کنواں بئر غرس" بولتے ہیں۔
درود پاک پڑھ کر شئیر کریں۔
کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
سورۃ الزمر
لوگ ڈھونڈتے رہ گئے کامیابی کو، دنیا کے مختلف راستوں پر، جبکہ مؤذن ساری عمر کہتا رہا: *حی علی الصلاة* (نماز کی طرف آؤ) *حی علی الفلاح* (کامیابی کی طرف آؤ)۔ اور کامیابی کی اصل دعوت وہی ہے جو پانچ وقت اذان میں دی جا رہی ہے، مگر افسوس، بہت سے لوگ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے کہ حقیقی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا۔
(صحیح بخاری ، ١١٩٦)
إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا.
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
سورۃ الاحزاب،۵۶
کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
سورۃ الزمر
ایک عام سیاسی کردار رولز توڑے تو
نعرے، احتجاج، بیانات، آسمان سر پر۔
اور جب معاملہ
سابق وزیر اعظم کا ہو تو
گہری، مسلسل، اجتماعی خاموشی۔۔۔۔۔قبرستانی خاموشی
سرکاری رہائش گاہ برقرار۔
سرکاری گاڑیاں برقرار۔
سرکاری ملازمین برقرار۔
سکیورٹی پروٹوکول برقرار۔
لیکن پریس کانفرنس میں اعلان:
“میں پنشن نہیں لیتا۔”
یقیناً عوام کو مطمئن ہو جانا چاہیے،
کیونکہ کروڑوں کے ماہانہ سرکاری وسائل شاید پنشن کے زمرے میں نہیں آتے۔
دلچسپ پہلو یہ بھی:
حکومت خاموش۔
اپوزیشن خاموش۔
جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خاموش
میڈیا خاموش۔
لگتا ہے حکمران کہیں مصروف ہے…
یا شاید بڑا حکمران بھی اب شکلیں اور ذات پات دیکھ کر حرکت کرتا ہے۔
عوام اب صرف ایک سوال پوچھتے ہیں:
یہ ریاست قانون سے چلتی ہے؟
یا اثر و رسوخ سے؟
اور سب سے تلخ سچ شاید یہی ہے:
یہاں کوئی بھی اندھا نہیں…
لیکن پہچان کر فیصلہ کرتا ہے۔