افغان طلبہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا شرمناک ہے
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے افغان طلبہ کے خلاف حالیہ کارروائی اور داخلے منسوخ کرنا قابلِ مذمت ہے، خصوصاً اُن طلبہ کے لیے جو برسوں کی محنت کے بعد اپنی میڈیکل ڈگری کے آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی یا سفارتی اختلافات اپنی جگہ، مگر طلبہ کا مستقبل سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغان طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے دی جائیں۔ علم، تعلیم اور انسانی وقار کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔
A medical student is not a political weapon.
Imagine spending years studying, sacrificing everything to become a doctor, reaching the final year—and then being told that your dream ends here because of your nationality. These Afghan students are not responsible for the disputes between governments. They are young people who chose education, medicine, and service. For many Afghan women, returning also means returning to a country where higher education is closed to them. Do not make students the casualties of politics. Let them finish their degrees. Let doctors become doctors. Let education remain a bridge between nations, not another battlefield.This is bigger than Afghanistan or Pakistan. It is about what kind of humanity we choose to uphold.
#LetThemGraduate #AfghanStudents #EducationForAll #Humanity
پی ٹی ایم میڈیا ٹیم کی جانب سے افغان طلبہ کے حق میں سوشل میڈیا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد PMDC کی جانب سے افغان طلبہ کے تعلیمی اداروں میں داخلے اچانک منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔
#PakDeniesAfgStudentsRights
ضلع بر سوات کے تحصیل بحرین کے سیاحتی علاقے مدین میں تقریباً 9 سے 10 سالہ کم عمر بچی کو مبینہ جنسی زیادتی کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
مجبور پختون امن کی بہترین اواز ہےسہیل سرکار میں امن کی اواز اٹھاناجرم بن گیاپہلےخنیف پشتون اور نور اللہ ترین کی جبری گمشدگی اب مجبور پختون پر ہنگو جیل میں پختون خوا پولیس کی بدترین تشدد قابل افسوس قابل مذمت عمل ہےوزیراعلی کو شرم اناچاہئےخود کو قبائل کہتاہےاور کام مراثیوں سےبدترین
حاجی عبدلصمد پچھلے 20 مہینوں سے بے بنیاد FIR میں پاکستانی جیلوں میں قید ہے
پچھلے 8 مہینوں سے سکھر کے دودو جیل میں قید ہے،
کل پیشی کے دوران تحریک کے دوستوں کو ان اشعار سے پیغام دیا ہے ۔
ظالم ته که ډېر ناز دی په دارونو، په دامونو
دا ظلم د وحشت په زولنو، په زنځیرونو
زموږ د ژوند پرستو لیوانو، فیصله دا ده
یا سر له توره تېر، یا معراج د ارمانونو
#ReleaseHajiSamad
#FreeHajiSamad
اخر کار وہی ہوا ہے جس کا ڈر تھا سلیمان غائب ہوا ہے تین دن ہم نے ٹرینڈنگ پر رکھا ہے اور چوتھے دن ہم نے اس کو عام خبر کی طرح سائیڈ پہ رکھ دیا ہے اور اب سب بھول گئے ہیں اج سلیمان ہیں تو کل اپ کی باری ہوگی۔۔
سلیمان کے لیے بھرپور اواز اٹھائیں۔۔
پی ایم ڈی سی نے افغانستان کے زیرِ تعلیم طلبہ کو پاکستان سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ان طلبہ نے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ لیا تھا، لیکن ابھی ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی اور انہیں نکالا جا رہا ہے۔ افغان زیرِ تعلیم طلبہ کو اس طرح نکالنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ آپ طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ حکومتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کبھی اچھے اور کبھی خراب ہوتے رہتے ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ پالیسی بنانے والوں کے اندر کیا کوئی دل اور کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے۔ پی ایم ڈی سی کے اس نوٹیفکیشن کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنی ڈگری مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس مسئلے پر قومی اسمبلی میں بھی بات کروں گا اور پشاور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف کیس بھی دائر کیا ہے۔ طلبہ کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔
کچھ دن پہلے نجیب اورکزئی کو پختونخوا پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ آج اسے رہا تو کر دیا گیا، مگر ایسی حالت میں کہ شاید کسی دہشتگرد کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہ کیا جاتا۔نجیب اورکزئی کا ’’جرم‘‘ صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ڈالری جنگ کے خلاف آواز اٹھاتا ہے
نجیب اورکزئی کا جسم صرف گوشت اور ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں تھا وہ ایک زندہ انسان ہے ، ایک سیاسی کارکن، جس کی رگوں میں خون بہتا ہے امگر اس ریاست اور خبیر پشتونخواہ کی صوبائی حکومت نے ہنگو جیل میں اس کے جسم کو ایک میدانِ جنگ بنا ہوا تھا ، تشدد کی ہر ضرب، ہر چیخ، ہر بے بسی کی آہ صرف اس کے گوشت پر نہیں پڑی وہ ضرب پوری قوم کے ضمیر پر پڑی ہے۔
یہ صرف ایک آدمی کی کہانی نہیں۔ یہ اس ریاست کی کہانی ہے جو مظلوموں کی آواز سننے سے قاصر ہے، جو سوال کو جرم سمجھتی ہے اور احتجاج کو بغاوت۔ جب کوئی ریاست عوام کو اس قدر وحشیانہ طریقے سے روندتی ہے تو وہ اپنی طاقت نہیں، اپنی کمزوری کا اعلان کرتی ہے۔
اج انسانیت شرمندہ ہے ۔ انسانی حقوق کے وہ سارے دعوے جو دنیا بھر میں بلند آواز سے کیے جاتے ہیں، نجیب اورکزئی کے جسم پر پڑے زخموں کے سامنے بے معنی ہو گئے ہیں۔ یہ ظلم صرف ایک فرد پر نہیں، پورے ریاستی نظام اور خیبر پشتونخواہ کی صوبائی حکومت کے منہ پر تماچہ ہے۔
شمالی وزیرستان، میرعلی کے گاؤں ہرمز کے غریب خاندان کے طاہر اللہ، ولدِ علی تور خان، کو کچھ دن قبل مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ آج ان کی گولیوں سے چھلنی لاش خاندان کے حوالے کر دی گئی۔
طاہر اللہ دیہاڑی مزدوری کرکے اپنے خاندان کا سہارا بنتے تھے۔ ان کا بے رحمانہ قتل انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پشتون سیاسی ورکرز کے ساتھ جیل میں ظلم کا انتہا
اس صوبے کا وزیر اعلی کوں اگر اواز اتے ہے کے اپ اپنے ورکرز کا بات کرتے ہے سندھ میں یہ ہی پشتونخوا میں جوں اپ کر رہاہے کیا یہ ظلم نہیں ہے کچھ شرم توں کروں ظلم کی بات اپ بھی کرتے ہے
#پاکستان کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے والے #افغان طلبہ و طالبات کی حمایت میں سوشل میڈیا مہم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت طلبہ و طالبات کو نکالنے سے متعلق پی یم ڈی سی @pmdcofficial کے احکامات کو غلط سمجھتے ہیں.
#StopDeportingAfghanStudents
کسی بھی شخص کو دوران مِ حراست/قید تشدد کا نشانہ بنانا ناصرف غیرقانونی بلکہ جرم ہے۔
میں بطور سیاسی کارکن نجیب اورکزئی (مجبور پشتون) کے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد ناصرف مذمت کرتا ہوں بلکہ ذمہ داران کو سزا کا مطالبہ کرت ہوں
یہ سفید ریش حاجی صمد 20 مہینوں سے سند کے گرم ترین علاقہ دادو جیل میں جعلی ایف ای ارز میں قید ہے
آج سند کے ضلع دادو سیشن کورٹ میں انکی پیشی تھی حاجی صمد کے چلنے والے آٹھ ماہ سے ایف آئی آر میں سرکاری گواہ پہلی بار پیش ہوا۔ دو یف آئی آرز پر جج کا فیصلہ ہونا تھا۔ اٹھ مہینے سے ہم اس سرکاری گواہ کے لیا انتظار کرتا رہا۰
پہلے سرکاری گواہ نے ہمیں کہا تھا کہ میں صاف صاف بیان دوں گا اور آپ کیس سے بری ہو جائیں گے۔ لیکن جیسے ہی عدالت روم میں داخل ہوئے اور جج نے سائیڈ روم کو گواہ کو بلایا، تقریباً ایک گھنٹے تک انے درمیان گفتگو جاری رہی ایک گھنٹہ انتظار کے بعد گواہ باہر ائی گواہ گواہی دینے اور سچ بیان کرنے سے انکاری ہو گیا۔
وکیل نے کافی دلائل اور بحث کی، لیکن آخر میں تین گھنٹے انتظار کے بعد جج نے گواہ بلاتے ہوئے انکو مخاطب کرکے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس کیس میں لالا کو ضمانت مل گئی تو دونوں کو ڈنڈے دیں گے۔ جج نے کہاں گواہ کیس سے اچھے طرح واقف نہیں ہے کیس کو سٹڈی کرکے پر پیشی ہوگی تاہم تاریخ تبدیل کرکے اگلی پیشی 25 اگست مقرر کر دی گئی۔
حاجی صمد نے جج کو مسکراتے ہوئے کہا:
“کوئی بات نہیں، ہماری وجہ سے اپنی روزی روٹی کو نقصان نہ دیں۔ ہم اپنے وطن کے دیوانے ہیں، یہ سب برداشت کرتے رہیں گے۰
یہ سب کچھ ہمارے ساتھ اسلئے ہو رہا ہے کیونکہ ہم پشتون ہے ؟
#FreeHajiSamad
#ReleaseHajiSamad