Don’t worry about what has passed. Where you’re headed is more important than where you’ve been. Look ahead with hope in the Almighty’s Mercy. That is what you need to see you through. So keep going and don’t look back because you’re not revisiting the past any longer.
When someone shows their true colours, believe them. It’s disappointing and hurtful but thank the Almighty for showing you the signs. Nothing happens without His Will. Imagine going through life not knowing the truth.
Stop revisiting your past. It’s over. Let it go. The Almighty has paved a way for you to move on.,Don’t be so engrossed with what was & what has been that you forget to acknowledge His Blessing for what is & what’s to come. Read the signs and make that change to your life.
الوداع نواز شریف
تحریر: مطیع اللہ جان
اسکے بعد نواز شریف کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے اور ن لیگ کبھی حکومت نہ بنا پائیگی، نواز شریف کیساتھ باقاعدہ ہاتھ ہو گیا ہے، شھباز شریف کی بھی آخری وزارت عظمیٰ ہے جس میں آصف زرداری کا ایوانِ صدر حاوی ہو گا اور پارلیمنٹ اتنی کمزور کہ جیسے کوئی صدارتی نظام- خیبر پختونخواہ کے علی امین گنڈاپور سے پنجاب کاشھباز شریف نہیں سندھ کا سربراہ ریاست ہی ڈیل کر سکے گا-
وزارتِ عظمی برادرشھباز شریف اور اپنا صوبہ پنجاب دختر مریم نواز کے حوالے کر کے "میاں جدوں جاوے گا“ تے کسی نوں پتہ وی نہیں لگنا، ووٹروں کو جھوٹے لارے لگانے والے ایسے لیڈر کو شاید بہت پہلے ہی چلے جانا چاہئیے تھا، الیکشن سے پہلے میاں دے نعرے وجانے والے اب بغلیں بجاتے نظر آئینگے۔ وہ صفحہ اول کے سرخی نما "وزیر اعظم نواز شریف" کے اشتہارات نے بچے کھچے متوالوں کو ووٹ کے لئیے باہر تو نکال لایا مگر اب انہیں دوبارہ پٹواری ہونے کا احساس ہو گا۔ ن لیگ کے ووٹروں کو اگر یہ پتہ ہوتا کہ نواز شریف حسب معمول صرف پکی پکائی واضح اکثریت پر اقتدار سنبھالیں گے تو وہ گھروں سے شھباز شریف کو وزیر اعظم بنانے نکلتے؟ کیا ن لیگ پنجاب میں ق لیگ بننے جا رہی ہے؟ اور کیا مریم نواز پنجاب کے عوام اور یوتھ کو کسی نئی سوچ اور نظریہ کیساتھ ن لیگ کی جانب کھینچ سکیں گی؟ کیا نواز شریف کا ایسا سیاسی ورثہ ہے جسکی جانب مریم نواز فخر سے اشارہ کر سکیں گی؟ اس سے پہلے کہ اب کوئی میاں صاحب کو نکالتا میاں صاحب خود ہی پتلی گلی سے نکل لئیے، اب ووٹ کے لئیےباہر نکالے گئے ووٹروں کا سوال ہو گا کہ "میاں صاحب ہمیں کیوں نکالا"؟ الیکشن پانچ سال بعد ہوتے یا پانچ ماہ بعد لگتا ہے کہ میاں صاحب کو پورے پنجاب کا فارم ۴۵ خواب میں آ کر ڈرا رہا ہے ۔ ۲۰۲۴ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد میاں صاحب نے سوچا ہو گا کہ بیچارے جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ۲۰۱۸ میں کونسا کوئی ناقابلِ معافی گناہ کبیرہ کر دیا ہو گا۔
۹ مئی والا اندر ہے اور لیول پلئینگ فیلڈ کے لئیے ۲۸ مئی والا بارہ پتھر باہر، مائنس ٹو ہو چکا- لوگ تو پوچھیں گے نا کہ کیا یہ سب کسی لندن پلان کا حصہ تھا؟ کیا اب کی بار یہی ڈیل تھی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کہ شیر پنجرے میں جائے گا اور نہ ہی جنگل میں بادشاہت کے لئیے چھوڑا جائیگا، جیل اور اقتدار دونوں میں واپسی نہ ہوگی اور اسکے بدلے اُسکی بیٹی کو وزارت اعلیٰ اور بھائی کو وزارت عظمی کی نوکری پر رکھ لیا جائیگا؟ نواز شریف کا وزارت عظمی سے دستبرداری کا فیصلہ در حقیقت قومی اسمبلی اور عملی سیاست سے بھی پییچھے ہٹنے کا آغاز ہے۔ لگتا ہے انکی زندگی کے دو ہی مقاصد تھے، ایک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا اور دوسرا مریم بیٹی کو وزیر اعلی پنجاب بنانا۔
میاں صاحب کے سیاسی منظر نامے سے کھسکنے کی ایک اور وجہ بھی ہے، میاں صاحب کے دو انتخابی حلقوں میں نتائج ایسے مرتب کئیے گئے کہ وہ انکے گلے کی ہڈی بن گئے۔ اب ایسے نتائج کی بنیاد پر کوئی وزیر اعظم بنے اور عدالت اسکی انتخابی جیت کالعدم کر دے تو اسکی جماعت کا کیا بنے گا؟ ویسے بھی خان کو اندر کرنے والی عدالتیں دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی نا؟ ایسے انتخابی نتائج کے ذریعے نواز شریف کیساتھ شاید وہ ہاتھ کیا گیا ہے کہ جو وہ کسی کو بتانے جوگے بھی نہیں- بلکل ویسے ہی جیسے ایک ریٹائرڈ کرنل کو ایک پراپرٹی ٹائکون نے دفتر میں بلا کر اسکے سامنے نوٹوں کی گڈیاں رکھ دی اور خفیہ ویڈیو بنا نے کے بعد وہ پیسے بھی واپس لے لئیے اور اُسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ لوگوں کو بتایا کہ اِس نے مقدمے واپس لینے کے لئیے رقم وصول کی تھی۔
میاں صاحب کی بھی واپسی ہوئی، سزائیں ختم ہوئی، الیکشن بھی لڑے اور بظاہر جیت بھی گئے۔ اگر نواز شریف وزیر اعظم بن جاتے تو ہم جیسے کہتے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے مہرے پانامہ ججوں کو عوام نے آئینہ دکھا دیا ہے، مگر بظاہر عوام کو جوتا دکھا دیا گیا ہے۔ بہتر ہوتا میاں نواز شریف ایک دھواں دار تقریر کر کے اقتدار کی دوڑ سے دستبردار ہوتے یوں خاموشی سے ایک ملزم یا مجرم کی طرح نہیں۔
میاں صاحب ہمیشہ سے ایک باپ ہی تھے قومی لیڈر نہیں، اسی لئیے اِس سے بہت کم ہی پر راضی ہو گئے اس شرط پر کہ جس طرح میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے ہتھکڑی لگائی گئی تھی اُسی طرح میری آنکھوں کے سامنے اُس سے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی کا حلف بھی لیا جائے، ایک باپ اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لئیے کتنے خواب دیکھتا ہے مگر ایسے لیڈر کی قوم جن ڈراؤنے خوابوں کے گھیرے میں ہوتی ہے اُسکا اندازہ ایک ڈیلر کیسے کر سکتا ہے۔
PS:
۲۴ سال پہلے انگریزی روزنامہ نے لیڈ لگائی
He who runs away lives to fight another day
اِس پر بے ساختہ میں نے ایک دوست سے کہا تھا
He who runs away lives to run another day
زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں کمی کا شور تو سنتے ہیں لیکن کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ کیوں ہماری پانی والی موٹریں کام کرنا چھوڑ جاتی ہیں اور پھر ہمیں پانی حاصل کرنے کیلئے ذیادہ گہرا بور کروانا پڑتا ہے؟ جس گھر میں پہلے چالیس فٹ بور والا ہینڈپمپ یا نلکا بہترین کام کرتا تھا وہاں کیوں اب اڑھائی سو فٹ پہ بھی پانی نہیں مل رہا؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہم جتنا پانی زمین سے لے کر استعمال کر رہے ہیں، اسے اتنا پانی واپس نہیں کر رہے، یعنی ہمارے زیر زمین پانی کے ذخائر ری چارج نہیں ہو رہے۔
زیر زمین پانی کے ذخائر ری چارج کیسے ہوتے ہیں؟ بارش سے اور ہمارے استعمال شدہ پانی سے (اگر ہم وہ پانی زمین کو واپس کریں تو) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہزاروں سال تو یہ ذخائر ری چارج ہوتے رہے، اب کیوں نہیں ہو رہے؟ کیونکہ بارش اور دیگر استعمال شدہ پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ (کچی زمین) کو ہم نے سیمنٹ، تارکول اور کنکریٹ سے بند کر دیا ہے، وہ پانی جو زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتا تھا اسے اب واپس زمین میں جانے کا راستہ نہیں ملتا اور ہم اسے نالیوں میں بہا دیتے ہیں۔
اگر ہم سب اپنے اپنے گھر کا کچھ حصہ باغیچے کیلئے چھوڑ دیں تو نہ صرف یہ کہ باغیچے کی کچی زمین بارش کے پانی کو ہمارے زیر زمین پانی کے لیول کو برقرار رکھنے کیلئے استعمال کرے گی بلکہ ہمارا باغیچہ ہمیں روز تازہ پھل اور سبزیاں بھی دے گا۔ لہذا اس نام نہاد ترقی کے خول سے باہر آئیں اور حقیقی ترقی اپنائیں۔ 🌳🏡
جب میرا بیٹا راشد حسین شھید ہوا تو میں نے اسکے نام پر راشد شھید فاونڈیشن بنایا،
وہاں 300 بچے(لڑکیاں،لڑکے )غریب ، یتیم، بے گھر پڑھ رہے ہیں ۔میرا اکلوتا بیٹا مجھ سے الگ ہوا مگر لاتعداد قوم کے بچے مجھ سے میری اولاد کی طرح جڑ گئے۔
Applications are now open for the Stipendium Hungaricum #Scholarship Programme (2024-25); a golden opportunity for Pakistani/AJK nationals to pursue Bachelor's, Master's, and PhD studies.
Find details on https://t.co/grg7rl8VQK and apply by January 15, 2024, 1600 Hours PST.
My bank just called me regarding something and verbatim said “Ma’am is account ko thora chalayen. Khaali khaali hai. Ap se hamari expectations zyada hain.”
…. Can your bank call you poor?
Justice Aysha Malik is now the judge of the Supreme Court and probably a mother too. Did she seek Chief Justice’s permission as per rules before meeting with the US Ambassador? @NJLahori@SCBAPk
🕌 To promote Halal Relationship, Masjid Rehmat-ul-Alamin in F-8 sector of #Islamabad has established a free-of-charge Marriage Hall to help deserving families celebrate their daughters'' weddings with respect and dignity. 💐
This compassionate initiative aims to make the special day of deserving families even more memorable by providing a free-of-charge marriage hall equipped with a stage for the bride and groom, as well as crockery, tables, chairs, and trained waiters to serve food to the guests of orphan and deserving brides.
Furthermore, the initiative ensures that newlywed brides are sent to their new homes with respect and dignity. This compassionate initiative by Masjid Rehmat-ul-Alamin in F-8, Islamabad aims to provide deserving families with a memorable and dignified wedding experience, besides alleviating the financial burden on poor families and enabling them to celebrate their special occasion with joy and honour.
The hall has a three-hour time limit and includes a stage for the bride and groom. The mosque management allows parents to either solemnize the Nikkah of their daughter themselves or choose a Khateeb of their choice for the ceremony.
To book the hall, deserving parents can contact the mosque management committee. Taj Qamar, a member of the mosque committee, told that the marriage-related activities will continue uninterrupted even during prayer times.
He advised people to associate the departure of their daughters with the call to prayer (Azan) and prayer (Salah) to eliminate some superstitions and create a blessed environment that will facilitate a new life.