سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عو��م کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نا�� پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا ��ور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طر�� آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
آپ آج بھی کہتے ہیں کہ عمران خان میرے والد جیسے ہیں اور بشری بی بی میری والدہ جیسی ہیں تو آپ کیسے بیٹے ہیں کہ اپنے والد اور والدہ کے خلاف عدت کیس میں گواہی دینے دینے عدالت چلے گئے تھے ! ارشاد بھٹی ۔۔۔
🚨 شاندانہ گلزار کا انکشاف
سہیل آفریدی پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ آپ " مائنز اینڈ منرل بل " پر دستخط کریں جس سے سہیل آفریدی نے صاف انکار کردیا،
اسپیکر بابر سلیم سواتی کو کہا جا رہا ہے کہ آپ اسمبلی کا سیشن بلائیں سہیل آفریدی کے خلاف ��دم اعتماد کا ووٹنگ کرے اور کسی دوسرے کو وزیراعلی بنائیں مگر نہ سہیل آفریدی مان رہا اور نہ ہی بابر سلیم سواتی ٹوٹ رہا ہے
بل کلنٹن کہتا ہے میری بیٹی نے پورا قرآن پڑھا ہے اس نے مجھے کہا یہ پڑھو اللہ کہتا ہے میں انسان کو اس لئے ایک دوسرے سے مختلف نہیں بنایا کے وہ اختلاف کریں لڑیں بلکہ ایک دوسرے سے سیکھیں ہمیں مذہب کے نام پر جنگیں کرنا بند کر دینا چا��ئے میں تھک چکا ہوں۔
Former US President Bill Clinton quoted the Quran during a speech in Koinonia Worship Centre in Florida condemning discrimination against Muslims.
Clinton recalled his daughter Chelsea introducing him to the verse.
🇺🇸 Bill Clinton says he's had enough of the Muslim hate...
"I'm tired of people denigrating Muslims for being Muslims.
The Quran says, and I first heard this from my daughter, who read the Quran from start to finish when she was 15 years old, and she said, 'Read this.'
Allah put the different people on the earth not that they might despise one another, but that they might come to know one another and learn from one another.
There are bad actors in every faith because we're all flawed human beings.
But the religious wars, the culture wars, I'm just tired."
Writer: Michael
آجکل م��لانا فضل الرحمان کو گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں گیارہ مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ بارہویں گرفتاری کیلئے بھی تیار ہیں۔ مولانا اور عمران خان خان کو قریب لانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ جس طرح خان کو حکومت سے فراغت کے بعد مولانا کی اہمیت کا احساس ہوا اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی حکومت سے فراغت کے بعد ہی مولانا یاد آئیں گے لیکن اس دفعہ مولانا دوبارہ انکے جال میں نہ پھنسیں گے۔
https://t.co/oY0N4VijSi
راجہ صاحب قوم کسی بھی ایسے وزیراعلی یا پارٹی عہدے دار کو نہیں مانے گی جس کو عمران خان صاحب کی نامزدگی حاصل نہیں ہو گی۔ آپ ڈٹ جائیں۔ اور بھرپور طریقے سے ایسی کسی بھی سازش کا مقابلہ کریں۔ جب تک خان تبدیل نہ کرے وزیراعلی سہیل آفریدی ہی رہے گا اور جنید اکبر صدر۔ میرے بھی سوالات ہیں سہیل سے آپ سے جنید سے لانگ مارچ کو لے کر۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے خان کے نامزد کئے گئے عہدے داران کو خان کی مرضی کے بغیر ہٹایا جائے۔ یا سازش کی جائے۔ یا ایسی سازش کو سپورٹ کیا جائے-
میرا مشورہ ہے کہ فوری ایک کمیٹی بنائی جائے آپ اس کی صدارت کریں۔ جو بھی خان کے احکاما�� سے ہٹے اسے پارٹی سے فوری فارغ کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ پارٹی کو نقصان پہنچائے۔
نوٹ: چند دن پہلے جب میں نے یہ خبر بریک کی تھے کچھ لوگ یہاں فرما رہے تھے ڈاکٹر گل اب نیا وزیراعلی ڈھونڈ رہے ہی۔ عقل کے اندھو۔ جذبات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آؤ جو کچھ پچھلے تین مہینے میں ہوا وہ ایک ایک چیز اسی سب کا پیش خیمہ تھی۔ لیکن مصیبت ہے یہاں گروپ ہیں۔ جو مافیا بنے ہوئے ہیں۔ سوال اٹھاؤ انکی توہین ہو جاتی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جناب معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کے دعوے میں حکومتی ترجمان کے حق میں ہرجانے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔ سہیل آفریدی صاحب کی لاہور آمد پر ان پر نسلی منافرت پر مبنی لغو الزامات لگائے گئے۔ اسمبلی بلڈنگ میں غیر متعلق افراد نے ہلڑ بازی کی۔ معین قریشی صاحب نے آئینہ دکھایا تو ہتک عزت کا دعوی کر دیا گیا۔ یہ دعوی سیاسی عمل میں ذاتی عناد کی تسکین اور آزادئ اظہار پر حملہ ہے۔ معین قریشی صاحب کی استقامت اور جرات کو سلام ہے۔
’مکہ دفاعی معاہدہ ‘کی تمام شقیں سامنے آ گئیں، ترک پارلیمنٹ میں
پیش
یہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (Makkah Joint Defence Agreement) کا مکمل اردو ترجمہ ہے، جو ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا۔
مکہ دفاعی معاہدے کا متن
پارلیمانی منظوری کے لیے پیش کیے جانے کے بعد ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے TRT Haber اور دیگر ذرائع ابلاغ نے مکہ مشترکہ ��فاعی معاہدے کا متن شائع کر دیا ہے۔
اس سہ فریقی دفاعی معاہدے کی 16 شقیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:
https://t.co/ghaHh0nve4
🚨🇵🇰 Imran Khan's family says Pakistani authorities are using a LEGAL maze to keep his sisters behind bars.
And the statement raises allegations that go far beyond ordinary public-order detention...
Aleema and Uzma Khan were acquitted on Feb 25 in cases later cited to justify their detention, while they had bail in other cases. They say Noreen Niazi had no criminal case registered against her.
After the initial 30-day detention period expired, the women were not released despite no fresh MPO detention order being issued.
Most seriously, the family says Aleema now faces terrorism proceedings and alleges another case is awaiting announcement, part of what it describes as an effort to keep her jailed.
Rubina accuses authorities of using terrorism charges and repeated procedural delays to prevent their release, while questioning why the courts have not brought the detentions to an end.
Source: @KhanShershah / Writer: Samuel
ایک طرف بے روزگاری اور غربت تو دوسری طرف بااختیار طبقے کے لیے مراعات میں مسلسل اضافہ۔اب سینیٹ نے ریٹائرڈ پارلیمنٹیرینز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا بل بھی منظور کرلیا۔ ۔تفصیلات دیکھیے
پی ٹی آئی کے وہ تمام ایم پی ایز جو بلوں میں چھپے ہوئے تھے ، اچانک سلمان اکرم راجہ صاحب کے خلاف ایکٹیو ہو گئے ہیں، 10 دن سے ہر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام پر یہ ایم پی ایز ایسے چپ تھے جیسے دنیا میں ہی نہیں ہیں لیکن اچانک متحرک ہو گئے ہیں
جو دفاعی معاہدہ پاکستان کی حکومت کو فخر سے اپنے عوام کیساتھ شہید کرنا چاہئیے تھا وہ معاہدہ اپنی عوام سے چھپایا گیا اور اب ترکی کی حکومت نے اسے اپنی پارلیمنٹ سے منظوری کے لئیے پیش کیا ہے اور عوام کے سامنے بھی رکھ دیا ہے۔
اس معاہدے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ روایتی اور معمول کا پاک سعودی دفاعی تعاون نہیں ایک مکمل کم از کم دس سالہ معائدہ ہے جسکی پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہے۔ اس معائدے کی اشاعت کے بعد بھی اگر ہماری پارلیمنٹ یا سیاسی جماعتیں اس پر بحث نہیں کرتی تو پھر عوام کو ایسی پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور حکومت پر دو حرف بھیج کر ۰۰۰۰
بشکریہ انگریزی روزنامہ ڈان