موٹر وے پر ٹائر کیوں پھٹتے ہیں؟
کل لاہور کے سات نوجوانوں کی سڑک حادثہ میں موت ہوگئی۔ وجہ گاڑی کا ٹائر پھٹنا تھا۔ اہم نئے بننے والے ایکسپریس وے اور موٹر وے پر ان دنوں گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں۔ جس میں روزانہ کئی لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ ایک دن میرے ذہن میں سوال آیا کہ ملک کی جدید ترین سڑکوں پر سب سے زیادہ حادثات کیوں ہو رہے ہیں؟ اور حادثے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ بھی صرف ٹائر پھٹنے سے۔ ہائی وے بنانے والوں نے سڑک پر ایسی کون سی اسپائکس ڈال دی ہیں کہ سب کے ٹائر پھٹ گئے۔ دماغ طوفانی ہو گیا ہے تو میں نے سوچا کہ آج اس چیز کا پتہ لگا لینا چاہیے۔ اس لیے ٹیم کو تلاش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اب سنو ہم نے تجربے کے لیے ایک دوست کو بلایا اور ہم KIA SUV میں سوار ہو گئے۔
(نوٹ کریں ک�� اصل مسئلہ فلیٹ ٹائر کا ہے)
پہلے ہم نے کولڈ ٹائر کا پریشر چیک کیا اور اسے بین الاقوامی معیا��ات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جو 25 psi ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک کی گاڑیوں میں ہوا کا ایک ہی دباؤ رکھا جاتا ہے۔ جب ہمارے ملک میں لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا یا وہ ایندھن بچانے کے لیے ٹائروں میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھر لیتے ہیں۔ جو عموماً 35 سے 45 پی ایس آئی ہوتا ہے۔ اچھی آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم تھری لین پر چڑھ گئے اور کار دوڑا دی۔ گاڑی کی رفتار 120 - 140 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی تھی۔ دو گھنٹے تک اتنی تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کے بعد ہم اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے۔ جب ہم نے رک کر دوبارہ ٹائر کا پریشر چیک کیا تو یہ چونکا دینے والا تھا۔ اب ٹائر کا پریشر 52 psi تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹائر کا پریشر اتنا کیسے بڑھ گیا؟ چنانچہ جب اس کے لیے ٹائر پر تھرمامیٹر لگایا گیا تو ٹائر کا درجہ حرارت 92.5 ڈگری سیلسیس تھا۔ یہ سارا معمہ اب کھل گیا ہے کہ سڑک پر ٹائروں کی رگ�� اور بریک رگڑنے سے پیدا ہونے والی گرمی کی وجہ سے ٹائروں کے اندر کی ہوا پھیل رہی ہے۔ B2B ٹائر کے اندر ہوا کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ چونکہ ہمارے ٹائروں میں ہوا پہلے سے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھی، اس لیے وہ پھٹنے سے بچ گئے۔ لیکن ٹائر جن میں ہوا کا دباؤ پہلے سے زیادہ ہے (35-45 PSI) یا ایک ٹائر جس میں کٹ ہے اس کے پھٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ٹائر پریشر کو ٹھیک کریں اور تھری لین کی طرف جانے سے پہلے محفوظ سواری کا لطف اٹھائیں۔ میں موٹر وے اور ایکسپریس وے اتھارٹی سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈرائیوروں کو آگاہ کریں۔ تاکہ شاہراہ کا سفر آخری سفر نہ بن جائے۔
pls folliw me @umairmalki
"داستان گوئی کا سفر لاھور سے لندن تک"
آج محترم میاں محمد نواز شریف صاحب نے لندن میں اپنے گھر پر بُلایا جہاں اس ناچیز نے اپنی مشہورِ زمانہ "داستان شہرِ لاھور کی" سُنائی۔ میاں صاحب نے بڑی محبت سے سُنی، بے حد خوش ہوئے اور بہت شفقت فرمائی🙏
@MaryamNSharif@CMShehbaz@aniqnaji
70 اور 80 کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے ان کے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.
https://t.co/BqQr0fB6zo
وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہے تھے ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی , 👇
علی عباس جلالپوری صاحب کی PDF کتب،
خود بھی پڑھیں آگے شیئر بھی کریں،
1. مرزا غالب کی جمالیات
2. تاریخ کا نیا موڑ
3. روحِ عصر
4. رسومِ اقوام
5. روایاتِ فلسفہ
6. کائنات اور انسان
7. مقاماتِ وارث شاہ
8. عام فکری مغالطے
9. روایاتِ تمدن قدیم
10. اقبال کا علم الکلام
11. جنسیاتی مطالعے
12. خرد نامہ جلالپوری
https://t.co/ByC0PxjChNعلی_عباس_جلالپوری
ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
کنارِ دریا خضَر نے مجھ سے کہا بہ اندازِ محرمانہ
سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طری��ے ہیں ساحرانہ
حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایانِ خانقاہی
اُنھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہ
غلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمزِ آشکارا
زمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردُوں ہے بے کرانہ
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
مری اسیری پہ شاخِ گُل نے یہ کہہ کے صیّاد کو رُلایا
کہ ایسے پُرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ
علامہ محمد اقبالؒ
ارمغانِ حجاز
آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے👇
A father told his daughter, "Congrats on your graduation. I bought you a car a while back. I want you to have it now."
Before I give it to you, take it to a car dealer in the city and sell it. See how much they offer.”
The girl came back to her father & said: "They offered me $10,000 dollars because it looks very old"
Father said: "Ok, now take it to the pawn shop".
The girl returns to her father & said: "The pawn shop offered $1,000 dollars because it's a very old car & a lot of work done".
The father told her to join a passionate car club with experts & show them the car.
The girl drove to the passionate car club.
She returned to her father after a few hours & told him, “Some people in the club offered me $100k because its a rare car that's in good condition.”
Then the father said, "I wanted to let you know that you are not worth anything if you are not in the right place. If you are not appreciated, do not be angry, that means you are in the wrong place. Don't stay in a place where no one sees your value ."
The moral of the story : Know your worth and know where you are valued. A diamond doesn't shine on the bottom of a cave.
★پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی‘ اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا‘ وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی‘19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی‘ بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا‘ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ
عاشق رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ
پڑھتے ہوئےآنکھوں سے آنسو گرتے جاتے ہیں آپ بھی ضرور پڑھئیے عاشق رسولﷺکے عشق کی ابتدا😭❤️
حضرت بلال رض فرماتے ہیں کہ میں مکےکے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں لہذا مجھے حضورﷺیا اسلام کا قطعی علم نہ تھا
ایک دفعہ م��ھےسخت بخار نے آ لیا سخت جاڑے کا موسم تھا ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں وہ مجھے لحاف اوڑھ کےلیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا اسنے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازےکے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا حضورﷺیہ جملے سن کے چل پڑے،تو بلالؓ نے کہا کہ بس؟
میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا
حضور ﷺیہ سن کر بھی چلتے رہے دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی
لیکن بلالؓ کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب انکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں
کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔اسکے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جاکے سو جاؤ
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟
نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔اسنے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا
بلالؓ سو گئے اور حضورﷺ نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی
صبح بلالؓ کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلالؓ ٹھیک نہ ہو گئے
اسکے بعد اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلالؓ کو صحابی رسول بعد میں،عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے❤️
حضور ﷺ کے وصال کے بعد بلال رض مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسولﷺ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے😥
تقریباً چھ ماہ بعد آپ ﷺ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئ�� تو آپ فرما رہے تھے
’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر آپکی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپﷺکو ڈھونڈنا شروع کیا۔کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ ﷺکی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا😭
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رض آگئے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ ﷺ ��ے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رض نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ ﷺ کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟
بعض صحاب رض نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رض کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا
’’اے بلال! ہم آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ناناجان)رسول اللہﷺ کو اس مسجد میں سناتے تھے‘‘
حضرت بلال رض کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور ﷺ کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔
’’جب آپ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا،جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ روتے ہوئےگھروں سے باہر نکل آئےلوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺتشریف لے آئے آپ ﷺکے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
پیارے نبی ﷺکےجانثار صھابی حضرت حبیب بن زیدرض کا تڑپا دینے والا واقعہ خدا کی قسم جسے پڑھ کر آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اللہ اکبر۔ آپ بھی ایک دفعہ لازمی پڑھیں
مسیلمہ کزاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" ��یرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی - - - آدھے عرب کا میں نبی" - معاذاللہ
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-
جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :-
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کزاب کے دربار میں”
اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں اسکے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے۔ایک صحابی تھے چابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے- گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے فٹافٹ اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا :-
" حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا"
جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:-
" اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے" - - - بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی "
مسکرا کے کہنے لگے :-
"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گئی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے"(اللہ اکبر)
حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا:-
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - -
وہ صحابی عقیدت سے ناظرین جھکا کہنے لگے:-
" محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں
صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلا جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - - وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے:-
" وہ صحابی جن کا نام" ح��رت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا
مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:-
" کون ہو "؟
آپ نے غراتے ہوئے فرمانے لگے:_
" تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبیﷺ والے ہے ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں" ۔
مسلمہ کہنے لگا:-
" کیسے آٸے ہو"
بے نیازی سے فرمایا
" یہ تیرے خط کا ��واب لے کے آیا ہوں" ۔
بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -" پڑھو " - - جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا :- " تو کذاب ہے"
یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی - وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:-
" تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے"؟
حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے
" خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - -
مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" ۔۔
حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:-
" میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا - - - میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر غلام محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " -
مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :-
" اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"
آپ فرمانے لگے:
" تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا"
مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا
" میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا
آپ فرمانے لگے
" تو بڑا نادان ہے ، انکو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے"
مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:-
" میں تیری گردن کاٹ دونگا "
حبیب بن زید فرمانے لگے
" کاٹتا کیوں نہیں"
روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا
" یا رسول اللہ کیا ہوا "
فرمایا
"میرا حبیب شہید ہو گیا ہے اور رب کریم نے اسکے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دٸے ہیں"
(أسد الغابہ ابن الاثیر)
*سر کاٹ دو*
کوفہ ایک بار پھر فتح ہوا. مصعب ابن زبیر تخت پر براجمان ہوا.اس کے سامنے مختار ثقفی کا سر کاٹ کر لایا گیا. اس نے فرمان جاری کیا کہ جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا
دربار میں بیٹھا ایک بوڑھا مسکرا دیا. مصعب نے دریافت کیا:کیوں ہنستا ہے بڈھے؟
بوڑھے نے کہا :
👇
عجیب لوگ تھے وہ تتلیاں بناتے تھے
سمندروں کے لیے سیپیاں بناتے تھے
وہی بناتے تھے لوہے کو توڑ کر تالا
پھر اس کے بعد وہی چابیاں بناتے تھے
میرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا
مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے
فضول وقت میں وہ سارے شیشہ گر مل کر
سہاگنوں کے لیے چوڑیاں بناتے تھے
ہمارے گاؤں میں دو چار ہندو درزی تھے
نمازیوں کے لیے ٹوپیاں بناتے تھے
لیاقت جعفری