دوست نے پوچھا کہ گھٹیا کتاب کونسی ہوتی ہے کہا وہ کتاب جو تاریخ کے موضوع پر کسی اردوی مصنف نے اردو میں لکھی ہو، ثابت کرتا ہوں، برصغیر پاک و ہند بالخصوص دھرتیِ پنجاب کی تاریخ نگاری میں ایک طویل عرصے سے یہ مغالطہ عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ "پنجاب" کا نام مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں وضع ہوا¹۔ اس استعماری فکر کی بنیاد اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے انگریزی عہد کے مؤرخ سید محمد لطیف کی کتاب تاریخِ پنجاب پر رکھی گئی، جس کے بعد ایک مخصوص گروہ نے اسے حتمی سچ مان لیا۔ تاہم، جب ابنِ بطوطہ کے سفرنامے (تحفة النظار) کے صریح حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا کہ مغلوں سے صدیوں پہلے اس خطے اور آبی نظام کو "پنجاب" (بنج آب) ہی کہا جاتا تھا، تو مخالفین نے اپنا موقف بدل کر یہ نیا عذر پیش کیا کہ "ابنِ بطوطہ نے پنجاب سے مراد کوئی خطہ یا صوبہ نہیں لیا بلکہ صرف دریائے سندھ یا پنجند کے مقام کو پنجاب کہا ہے"۔
یہ مؤقف نہ صرف متن کے صریح حقائق کے منافی ہے بلکہ تاریخی و جغرافیائی حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش بھی ہے۔ ذیل میں اصل عربی و فارسی متون، ان کے اردو تراجم، اور جغرافیائی شواہد کے ذریعے اس دعوے کا مکمل رد پیش کیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے اردوی مصنفین نے ابن بطوطہ کی کتاب کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے پنجاب سے کیا بغض نکالا وہ ملاحظہ کریں
ابنِ بطوطہ کے سفرنامے کے عام اردو تراجم کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مترجمین نے اصل متن کی اصطلاح "بنْج آب" (پنجاب) کو نقل کرنے میں شدید نااہلی یا دانستہ چشم پوشی کا مظاہرہ کیا²۔ جہاں جہاں ابنِ بطوطہ نے "وادیِ سندھ المعروف ببنج آب" یا "نهر السند المعروف ببنج آب" لکھا، وہاں مترجمین نے یا تو اسے محض "وادیِ سندھ" لکھ کر آگے گزرنے کی راہ لی، یا پھر لفظ "پنجاب" کے صریح ذکر کو سرے سے ناظرین کی نظروں سے اوجھل کر دیا²۔ جیسے بالخصوص اس کرکدن (گینڈے) والے واقعے میں مترجم نے "نهر السند المعروف ببنج آب" کا ترجمہ کرتے ہوئے "بنج آب" (پنجاب) کو بالکل غائب کر دیا اور صرف "دریائے سندھ" کا لفظ لکھ کر تاریخ کے ایک اہم سند کو مسخ کر دیا²۔
لیکن ہم انکے سینے پر مونگ دلیں گے
ابنِ بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں ایک یا دو بار نہیں، بلکہ پانچ مختلف مقامات پر "پنجاب" (بنج آب) کا ذکر کیا ہے۔ پہلا حوالہ کتاب کی پہلی جلد سے ہے (جب وہ ابھی ہندوستان پہنچا بھی نہیں تھا) اور باقی چار حوالے دوسری جلد سے ہیں:
پہلا حوالہ (جلد اول - بابِ دوم: مصر کے بیان میں):
ابنِ بطوطہ مصر میں دریائے نیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ دنیا کے بڑے دریاؤں کے متوازی ہندوستان میں بھی عظیم دریا بہتے ہیں:
اصل عربی متن:
«وَالنِّيلُ أَحَدُ أَنْهَارِ الدُّنْيَا الْخَمْسَةِ الْكِبَارِ: وَهِيَ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ وَدِجْلَةُ وَسَيْحُونُ وَجَيْحُونُ، وَتُمَاثِلُهَا أَنْهَارٌ خَمْسَةٌ أَيْضًا: نَهْرُ السِّنْدِ وَيُسَمَّى بَنْجُ آبْ، وَنَهْرُ الْهِنْدِ، وَيُسَمَّى الْكَنْكُ...»³
اردو ترجمہ:
"اور نیل دنیا کے پانچ بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے: اور وہ نیل، فرات، دجلہ، سیحون اور جیحون ہیں۔ اور انھی کی مانند (دنیا میں) پانچ اور دریا بھی ہیں: دریائے سندھ جسے 'بنج آب' (پنجاب) کہا جاتا ہے، اور ہندوستان کا دریا جسے گنگا (الکنک) کہا جاتا ہے..."
دوسرا حوالہ (جلد دوم - صفحہ 399):
اصل عربی متن:
«...ووصلت رفقتنا سالمة بحمد الله تعالى إلى بنج آب وهو ماء السند، وبنج (بفتح الباء الموحدة وسكون النون والجيم) ومعناه خمسة وآب (بهمزة مفتوحة ممدودة وباء موحدة) ومعناه الماء، فمعنى ذلك الأودية الخمسة، وهي تصب في النهر الأعظم، وتسقي تلك النواحي، وسنذكرها إن شاء الله تعالى.»⁴
اردو ترجمہ:
"...اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارا قافلہ خیریت کے ساتھ بنج آب (پنجاب) پہنچ گیا، اور یہ سندھ کا پانی (دریائے سندھ کا علاقہ) ہے۔ اور 'بنج' (باء پر زبر، نون اور جیم ساکن) کے معنی 'پانچ' ہیں، اور 'آب' (الف ممدودہ مفتوحہ اور باء ساکن) کے معنی 'پانی' ہیں۔ پس اس کا مجموعی مطلب 'پانچ وادیاں (یا پانچ دریا)' ہے، جو بڑے دریا میں گرتے ہیں اور ان علاقوں کو سیراب کرتے ہیں، اور ہم ان کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ (آگے) کریں گے۔"
تیسرا حوالہ (جلد دوم - صفحہ 191):
اصل عربی متن:
«...وتجاوز هو أرض خراسان إلى السند فلما جاوز وادي السند المعروف ببنج آب ضرب طبوله وأنفاره فراع ذلك أهل القرى وظنوا أن التتر أتو للإغارة عليهم...»⁵
اردو ترجمہ:
"...اور وہ خراسان کی سرزمین کو عبور کر کے سندھ کی طرف بڑھا، پس جب اس نے وادیِ سندھ کو پار کیا جو بنج آب (پنجاب) کے نام سے جانی جاتی ہے، تو اس نے اپنے نقارے اور بگل بجوائے۔ اس سے بستیوں کے لوگ خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے سمجھا کہ تاتاری ان پر حملہ کرنے کے لیے آ گئے ہیں..."
چوتھا حوالہ (جلد دوم - صفحہ 405):
اصل عربی متن:
«ولما كان بتاريخ الغرة من شهر المحرم مفتتح عام أربعة وثلاثين وسبعمائة وصلنا إلى وادي السند المعروف ببنج آب، ومعنى ذلك المياه الخمسة. وهذا الوادي من أعظم أودية الدنيا، وهو يفيض في أوان الحر، فيزرع أهل تلك البلاد على فيضه، كما يفعل أهل الديار المصرية في فيض النيل.»⁶
اردو ترجمہ:
"اور جب سال ۷۳۴ ہجری کے آغاز میں یکم محرم الحرام کی تاریخ تھی، تو ہم وادیِ سندھ پہنچے جو بنج آب (پنجاب) کے نام سے مشہور ہے، اور اس کا مطلب 'پانچ پانی (پانچ دریا)' ہے۔ اور یہ وادی دنیا کی عظیم ترین وادیوں میں سے ہے، اس میں گرمی کے موسم میں طغیانی آتی ہے، چنانچہ اس ملک کے لوگ اس کی سیرابی پر کاشتکاری کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے مصر والے دریائے نیل کے سیلاب پر کرتے ہیں۔"
پانچواں حوالہ (جلد دوم - صفحہ 408 - کرکدن/گینڈے کا واقعہ):
اصل عربی متن:
«ذكر الكركدن: ولما أجزنا نهر السند المعروف ببنج آب دخلنا غيضة قصب لسلوك الطريق لأنه في وسطها، فخرج علينا الكركدن...»⁷
اردو ترجمہ:
"گینڈے کا ذکر: اور جب ہم نے دریائے سندھ کو عبور کیا جو بنج آب (پنجاب) کے نام سے معروف ہے، تو ہم راستہ طے کرنے کے لیے سرکنڈوں (یا بانسوں) کے ایک گھنے جنگل میں داخل ہوئے کیونکہ راستہ اسی کے درمیان سے گزرتا تھا، تو اچانک ہمارے سامنے ایک گینڈا نکل آیا..."
ابنِ بطوطہ ۷۳۴ھ (1333ء) میں ہندوستان آیا، لیکن اس سے بھی ۷۶ برس قبل لکھی جانے والی دہلی سلطنت کی سب سے معتبر اور اولین تاریخ 'طبقاتِ ناصری' میں "پنجاب" کا لفظ صراحت کے ساتھ موجود ہے⁸۔ 'طبقاتِ ناصری' کے مصنف قاضی القضاة منہاج سراج جوزجانی ہیں، جنہوں نے یہ کتاب ۶۵۸ ہجری (1260ء) میں دہلی میں مکمل کی⁸۔ موجودہ سال 2026ء کے حساب سے یہ کتاب ٹھیک ۷۶۶ سال قدیم ہے⁸۔
'طبقاتِ ناصری' کے فارسی متن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عہد میں لفظ "پنجاب" دو مختلف لیکن جڑے ہوئے مفاہیم میں مستعمل تھا:
خطے اور سرحد کے معنوں میں (وادیِ پنجاب):
سلطان قطب الدین ایبک اور تاج الدین یلدز کی جنگ کا احوال بیان کرتے ہوئے منہاج سراج لکھتے ہیں:
اصل فارسی متن:
«...تا بعد از چند گاه با سلطان قطب الدین ایبک اورا بحدود پنجاب سند مصاف افتاد و منهزم شد...»⁹
اردو ترجمہ:
"...حتیٰ کہ کچھ عرصے بعد سلطان قطب الدین ایبک کے ساتھ پنجاب اور سندھ کی حدود میں اس کا معرکہ ہوا اور وہ شکست کھا گیا..."
یہ حوالہ ثابت کرتا ہے کہ "پنجاب" ایک الگ جغرافیائی خطے کا نام تھا جس کی حدود سندھ سے ملتی تھیں۔
دریائی اور آبی نظام کے معنوں میں (دریائے پنجاب):
ناصر الدین قباچہ کا زوال اور اس کی موت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے درج ہے:
اصل فارسی متن:
«...وزیر (دولت) خود نظام الملک محمد جنیدی و دیگر ملوک را در عقب ملک ناصرالدین به طرف قلعه بهکر فرستاد... و در همین مالک [حالات] ملک ناصرالدین قباچه از حصار بهکر خود را در پنجاب غرق کرد...»¹⁰
اردو ترجمہ:
"...وزیرِ سلطنت نظام الملک محمد جنیدی اور دیگر امراء کو ملک ناصر الدین (قباچہ) کے تعاقب میں قلعہ بھکر کی طرف روانہ کیا... اور اسی اثنا میں ملک ناصر الدین قباچہ نے قلعہ بھکر سے خود کو پنجاب (کے دریا) میں غرق کر دیا..."
مخالفین کا یہ عذر کہ "پنجاب سے مراد صرف پنجند کا مقام ہے" اس واقعے سے مکمل باطل ہو جاتا ہے:
قلعہ بھکر کا موقع محل: یہاں جس "حصارِ بھکر" کا ذکر ہے، وہ پنجاب کا موجودہ شہر بھکر نہیں، بلکہ سندھ میں سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ کے بیچ میں واقع ایک تاریخی جزیرہ نما قلعہ (بکر آئی لینڈ) ہے۔
پنجند سے فاصلہ: پنجند اور مٹھن کوٹ سے لے کر سکھر/بھکر تک کا فاصلہ دریائی راستے سے تقریباً ۲۳۰ سے ۲۵۰ کلومیٹر نیچے (جنوب کی طرف) ہے۔
دریائے پنجاب کا لغوی اطلاق: مٹھن کوٹ کے مقام پر پنجاب کے پانچوں دریا اپنا تمام تر پانی دریائے سندھ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس مقام سے نیچے سکھر اور بھکر کی طرف بہنے والا عظیم دریا صرف سندھ کا دھارا نہیں رہتا تھا، بلکہ وہ پنجاب کے تمام دریاؤں کا مجموعہ بن جاتا تھا۔ اسی لیے ۷۶۶ سال قبل منہاج سراج نے قلعہ بھکر کے گرد لہریں مارتے ہوئے اس سمندر نما دریا کو اس کے لغوی و حقیقی مفہوم میں "پنجاب" لکھا، جس میں قباچہ غرق ہوا¹⁰۔
سندھو دریا اور وادیِ سندھ کو "پنجاب" پکارنا بالکل اسی طرح کی اصطلاحی یکسانیت ہے جیسے دریائے جہلم اور جہلم شہر، یا دریائے سندھ اور صوبہ سندھ۔ تاریخی شواہد سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ کشمیر کے پہاڑوں سے لے کر بحیرہ عرب تک پھیلے اس آبی و جغرافیائی نظام کو قرونِ وسطیٰ میں "پنجاب" کے معروف نام سے جانا جاتا تھا۔
﹏﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی
¹ سید محمد لطیف، تاریخِ پنجاب (انگریزی ایڈیشن ۱۸۹۱ء)، صفحہ ۱-۵ (جس میں اکبر کے عہد کو نام کا منبع قرار دینے کا مفروضہ قائم کیا گیا)۔
² ابنِ بطوطہ، رحلة ابن بطوطة (تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار)، مترجم: مختلف اردو تراجم کا تنقیدی محاکمہ (حذفِ لفظ 'بنج آب' در واقعہ کرکدن)۔
³ ابنِ بطوطہ، رحلة ابن بطوطة، المجلد الأول، باب ۲ (ذكر نهر النيل)، المكتبة التوفيقية، القاهرة، ص ۱۹۴۔
⁴ ابنِ بطوطہ، رحلة ابن بطوطة، المجلد الثاني، دار صادر، بيروت، ص ۳۹۹۔
⁵ ایضاً، المجلد الثاني، ص ۱۹۱۔
⁶ ایضاً، المجلد الثاني، ص ۴۰۵۔
⁷ ایضاً، المجلد الثاني، ص ۴۰۸ (ذكر الكركدن)۔
⁸ قاضی القضاة منہاج سراج جوزجانی، طبقاتِ ناصری، تصحیح: کیپٹن ولیم ناسؤ لیس، مولوی خادم حسین و مولوی عبد الحئی، ہسٹری پریس/کالج پریس، کلکتہ، ۱۸۶۴ء (تصنیف شدہ بمقام دہلی، ۶۵۸ ہجری / 1260ء)۔
⁹ ایضاً، صفحہ ۱۳۴، سطر ۷-۸ (معرکہ قطب الدین ایبک و تاج الدین یلدز بحدودِ پنجاب و سندھ)۔
¹⁰ ایضاً، طبقہ ۲۱ (شمسیانِ ہند)، صفحہ ۴۳۹، سطر ۹-۱۰ (واقعہ غرقابیِ ناصر الدین قباچہ در پنجاب از حصارِ بھکر)۔
Israeli has set fire to Taybeh — a 10,000-year-old village in Ramallah, Palestine.
A place where Jesus once walked.
Home to the world’s oldest living Christian community.
And not a peep from Western mainstream media.
🔴 پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پاک فوج افسر کا مسجد میں اعلان:
اس وقت ہم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، دشمن ہمارے بیچ میں موجود ہے اور ہماری لوکیشن دشمن کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے- دو تین ایسے واقعات ہوئے ہیں- ملٹری موومنٹ کی کوئی ویڈیو یا تصویر کہیں مت بھیجیں-
🔴 ترک صحافی ابراہیم کاراگل لکھتے ہیں:
▪️ پاکستان کی جانب سے ایک ہی رات میں تین رافیل طیارے گرانے سے فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
▪️ بہت سے ممالک آرڈر منسوخ کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
▪️یہ نئی نسل کے طیارے جو ایٹمی بم بھی لے جا سکتے ہیں، چینی ساختہ جنگی طیاروں کے سامنے بے بس نظر آئے ہیں۔
▪️ یہ عالمی فوجی صنعت میں سنگین تبدیلیوں کا سبب بنے گا۔
▪️ فرانسیسی بڑی مشکل میں ہیں۔ نااہل بھارتی پائلٹوں نے ایک دیو کو ختم کر دیا۔
دنیا بھر میں 5.3 ملین افراد روزانہ ChatGPT استعمال کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اس کا استعمال پیسہ کمانے کے لیے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ آپ روزانہ $276 تک کما سکتے ہیں۔
اگر آپ ChatGPT کا استعمال کرتے ہوئے پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو تین بنیادی مراحل پر عمل کرنا ہوگا، اور یہ ایک نسبتاً سادہ عمل ہے جس میں آپ کو تھوڑی سی محنت اور سلیقے سے کام کرنا پڑے گا۔ آپ کس طرح ChatGPT کے ذریعے پیسہ کما سکتے ہیں، اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:↓