#شہید_وطن_سراج_رئیسانی
رئیسانی شہید کا پیغام تھا کہ ہم سب پاکستانی ہیں , نہ کوئی پنجابی، نہ بلوچ، نہ سندھی، نہ پختون۔ ہم سب ایک پرچم تلے متحد ہیں۔ یہی یکجہتی اور بھائی چارہ پاکستان کی اصل طاقت ہے، اور یہی وہ نظریہ ہے جس کے لیے وہ آخری دم تک کھڑے رہے۔
سراج رئیسانی پر خودکش حملہ ہوا، مگر دراصل وہ حملہ پاکستان سے محبت پر کیا گیا۔ سراج نے نہ صرف خود جان دی بلکہ اپنے بیٹوں کو بھی اس راہ پر قربان کر دیا۔
#شہید_وطن_سراج_رئیسانی
ہندوستان کے جھنڈے کو پاوں میں باندھ
کر بلوچستان کے سرزمین پر گھومنے والے ببر شیر سراج رئیسانی کی آج آٹھویں برسی ہے آج ہم ہندوتوا اور انکے پراکسی
کو پیغام دیتے ہیں سراج رئیسانی کے شاگر اور بچے اسکا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں انشاءاللہ شکست آپکا مقدر ہے
#شہید_وطن_سراج_رئیسانی
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
آج شہید نوابزدہ سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی ہے، وہ شخص جو عشق پاکستان میں جیا اور عشق پاکستان میں شہادت کا جام پیا۔ جسے سولجر آف پاکستان جیسا معتبر لقب دیا۔ جس نے تب پاکستان کا جھنڈا اٹھایا جب سبز ہلالی لہرانا جرم سمجھا جاتا تھا۔ جو ہمیشہ کہتے تھے کہ “ میں سراج رئیسانی ہوں، اور میں پاکستانی مروں گا”۔ جس نے ایک بیٹا اس ملک کے حرمت پر قربان کردیا اور دوسرا @JamalRaisani بھی اس وطن کے تحفظ کے لیے پیش کیا۔ آج جمال خان رئیسانی،اپنے شہید والد کے نقش قدم پر چل کر اس قوم ، اس صوبہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کررہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ شہید نوابزادہ سراج خان رئیسانی کے درجات بلند کرے آمین۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد🇵🇰
@AlifyaSohail Peaceful Baloch women? Yeah right Shari was peacefull,Mahal was ao peaceful that she threw flowers Hy na! Mahrang is so peaceful that she doesn't instigate hatred against the state in public gathering. Gulzadi is so peaceful that she openly used her murdar brother wadood as bait
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پر
https://t.co/GB5kSKBy0R
#Balochistan#Quetta
🚨 بڑی کارروائی 🚨
ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) دالبندین رائفلز کی نیلی پت میں غیر قانونی اشیاء کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن 💥
غیر ملکی سگریٹ، سپاری اور گٹکا سمیت 49.3 ملین روپے مالیت کی ممنوعہ اشیاء ضبط کر کے نذرِ آتش کر دی گئیں 🔥
یہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کے لیے واضح پیغام ہے
❗ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں
❗ زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا
#Balochistan #FCBalochistan #ZeroTolerance
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر رزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور گزشتہ روز گوادر سے کوئٹہ سفر کے دوران مستونگ کے قریب لاپتہ ہوگئے۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان @BabarYousafzai_ کے مطابق دونوں افسران کے موبائل فونز بند ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے ٹریسنگ اور بازیابی کیلئے متحرک ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ حکومت بلوچستان معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
#Balochistan
اور دوسری بات،اپکی تنظیم کسی بھی متعلقہ فارم پر رجسٹرڈ نہیں ہے، نا انکی فنڈنگ کا کوئ لیگل فریم ورک ہے۔ برمش کمیٹی سے بالاچ کمیٹی اور پھر یکجہتی کا سفر تو طے کیا ہے لیکن کیا برمش کے قاتل پکڑے گئے ؟ کیا بالاچ کو انصاف مل گیا؟ ڈرامہ بازیاں بند کریں،دونا دھونا اب نہیں چلے گا
وہ شرائط جن کے تحت @AuratMarchKHI کو احتجاج کی اجازت دی گئی، صرف چند انتظامی ہدایات نہیں بلکہ اس ریاستی خوف کا کھلا اظہار ہیں جو ہر اُس آواز سے ہے جو بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف بولتی ہے۔ خاص طور پر پوائنٹ نمبر 7، جس میں BYC اور JQSM جیسے تنظیموں کی شرکت یا حمایت پر پابندی لگائی گئی، نہ صرف غیر جمہوری بلکہ قانونی و آئینی طور پر بھی انتہائی متنازع ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کس قانون کے تحت بلوچ یکجہتی کمیٹی BYC کو “پروسکرائب” کیا گیا ہے؟ کب اسے کالعدم قرار دیا گیا؟ کونسی عدالت نے اس پر پابندی لگائی؟ اگر ایسی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو پھر ایک عوامی احتجاج میں کسی سیاسی یا سماجی گروہ کی شرکت پر پابندی لگانے کا اختیار حکومت کو کس نے دیا؟
احتجاج عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے، کوئی رعایت نہیں جو ریاست اپنی مرضی سے دے یا واپس لے لے۔ جب حکومتیں یہ طے کرنے لگیں کہ کون احتجاج میں شریک ہوسکتا ہے اور کون نہیں، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ اور مارشل لاء کی نئی شکل ہوتی ہے۔ ایسے اعلانات سوالات نہیں بلکہ حقیقت واضح کرتے ہیں: اس ملک میں جمہوریت صرف ایک نمائشی پردہ ہے جبکہ اصل طاقت جبر، سنسرشپ اور خوف کے نظام کے ہاتھ میں ہے۔
ریاستی اداروں کو جواب دینا ہوگا کہ آخر انہیں BYC سے اتنا خوف کیوں ہے؟ ایک ایسی تنظیم جس کی مرکزی قیادت ایک سال سے جیلوں میں جھوٹے مقدمات میں بند ہے، جس کے کارکنوں کو فورتھ شیڈیول، نیکٹا، جھوٹے ایف آئی آرز اور مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے، جن سے زبردستی بیانات لیے جارہے ہیں، جن کے خاندانوں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جارہاہیں ۔ اس سب کے باوجود ریاست کا خوف ختم نہیں ہوا۔ اب حالت یہ ہے کہ عورت مارچ جیسے پلیٹ فارم کو بھی صرف اسی شرط پر اجازت دی جارہی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کوئی فرد یا حامی وہاں موجود نہ ہو۔
یہ پابندی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ BYC نے بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کے خلاف ایک ایسی موثر مزاحمت کھڑی کی ہے جس سے ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی خوف، یہی جبر، یہی پابندیاں ہماری جدوجہد کی طاقت کا ثبوت ہیں۔ کیونکہ اگر ہماری آواز بے اثر ہوتی تو ریاست کو عورت مارچ تک میں BYC کے نام سے خوف محسوس نہ ہوتا۔
ریاست ایک طرف بلوچوں کو خاموشی سے مٹانے کے منصوبے پر قائم ہے، اور دوسری طرف BYC اس خاموش قتل عام کے راستے میں ایک رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فورم، ہر سڑک، ہر احتجاج اور ہر آواز سے BYC کو الگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر ہمیشہ مزاحمت کو مزید مضبوط کرتا ہے، خاموش نہیں
یکجہتی پوری قیادت فورتھ شیڈول میں ہے، کیونکہ آپ لوگوں کے تعلقات و ہمدردیاں مسلح تنظیموں کے ساتھ ہیں۔ آپ لوگ بشیر زیب کے بھائی کے لیے احتجاج کرتے ہیں، آپ لوگ ٹرین حملہ آوروں کی لاشیں لینے آتے ہیں اور کہتے ہیں کونسا قانون؟
بی بی وہ دور گئے جب خلیل صاحب فاختہ اڑایا کرتے تھے
وہ شرائط جن کے تحت @AuratMarchKHI کو احتجاج کی اجازت دی گئی، صرف چند انتظامی ہدایات نہیں بلکہ اس ریاستی خوف کا کھلا اظہار ہیں جو ہر اُس آواز سے ہے جو بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف بولتی ہے۔ خاص طور پر پوائنٹ نمبر 7، جس میں BYC اور JQSM جیسے تنظیموں کی شرکت یا حمایت پر پابندی لگائی گئی، نہ صرف غیر جمہوری بلکہ قانونی و آئینی طور پر بھی انتہائی متنازع ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کس قانون کے تحت بلوچ یکجہتی کمیٹی BYC کو “پروسکرائب” کیا گیا ہے؟ کب اسے کالعدم قرار دیا گیا؟ کونسی عدالت نے اس پر پابندی لگائی؟ اگر ایسی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو پھر ایک عوامی احتجاج میں کسی سیاسی یا سماجی گروہ کی شرکت پر پابندی لگانے کا اختیار حکومت کو کس نے دیا؟
احتجاج عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے، کوئی رعایت نہیں جو ریاست اپنی مرضی سے دے یا واپس لے لے۔ جب حکومتیں یہ طے کرنے لگیں کہ کون احتجاج میں شریک ہوسکتا ہے اور کون نہیں، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ اور مارشل لاء کی نئی شکل ہوتی ہے۔ ایسے اعلانات سوالات نہیں بلکہ حقیقت واضح کرتے ہیں: اس ملک میں جمہوریت صرف ایک نمائشی پردہ ہے جبکہ اصل طاقت جبر، سنسرشپ اور خوف کے نظام کے ہاتھ میں ہے۔
ریاستی اداروں کو جواب دینا ہوگا کہ آخر انہیں BYC سے اتنا خوف کیوں ہے؟ ایک ایسی تنظیم جس کی مرکزی قیادت ایک سال سے جیلوں میں جھوٹے مقدمات میں بند ہے، جس کے کارکنوں کو فورتھ شیڈیول، نیکٹا، جھوٹے ایف آئی آرز اور مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے، جن سے زبردستی بیانات لیے جارہے ہیں، جن کے خاندانوں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جارہاہیں ۔ اس سب کے باوجود ریاست کا خوف ختم نہیں ہوا۔ اب حالت یہ ہے کہ عورت مارچ جیسے پلیٹ فارم کو بھی صرف اسی شرط پر اجازت دی جارہی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کوئی فرد یا حامی وہاں موجود نہ ہو۔
یہ پابندی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ BYC نے بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کے خلاف ایک ایسی موثر مزاحمت کھڑی کی ہے جس سے ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی خوف، یہی جبر، یہی پابندیاں ہماری جدوجہد کی طاقت کا ثبوت ہیں۔ کیونکہ اگر ہماری آواز بے اثر ہوتی تو ریاست کو عورت مارچ تک میں BYC کے نام سے خوف محسوس نہ ہوتا۔
ریاست ایک طرف بلوچوں کو خاموشی سے مٹانے کے منصوبے پر قائم ہے، اور دوسری طرف BYC اس خاموش قتل عام کے راستے میں ایک رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فورم، ہر سڑک، ہر احتجاج اور ہر آواز سے BYC کو الگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر ہمیشہ مزاحمت کو مزید مضبوط کرتا ہے، خاموش نہیں
ایک بلوچشہید کے ںاپ، جن کے بیٹے کو بی ایل اے نے بے دردی سے قتل کیا، جب اپنی فریاد لے کر وزیر اعلیٰ @PakSarfrazbugti کے پاس آئے تو وزیر اعلیٰ نے نہ صرف فوری طور پر ان کی بات سنی بلکہ انہیں گلے سے بھی لگایا۔
شہید کے والد اپنے آنسو نہ روک رہے تھے 💔
#balochistan#Pakistán
معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اُن تمام بہادر جوانوں، شہداء اور پوری قوم کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے وطنِ عزیز کے امن، استحکام اور سربلندی کے لیۓ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنتے ہوۓ بےمثال قربانیاں دیں۔ یہ عظیم قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
یہ تاریخی فتح کمانڈر اِن چیف صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ، جراتمندانہ اور دوراندیش قیادت کا ثمر ہے، جنہوں نے قومی سلامتی، استحکام اور وطنِ عزیز کے وقار کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا۔
پاکستان اسی قومی سوچ اور مضبوط قیادت کے تحت ہمیشہ امن، اتحاد، استقامت اور حق کی علامت بن کر اُبھرتا رہے گا۔ ان شا اللہ !
پاکستان ہمیشہ زندہ باد🇵🇰
Had a productive meeting with Ms. Xiaoqin (Emma) Fan, Country Director of the Asian Development Bank in Pakistan. We discussed long-term partnerships in water resources, agriculture, minerals, education, IT, skills development and employment generation in Balochistan. Our government has prepared a comprehensive 10-year development plan and remains committed to creating a secure and investment-friendly environment in the province. We welcome international development partners to work with us for sustainable growth, quality education, economic opportunities and prosperity for the people of Balochistan.
It's you hypocrisy if you hide actual facts of the issue you mentioned. Balochistan’s electricity consumption stays around 4–5% of Pakistan’s total. Balochistan’s low share is not just about “low demand”, it reflects a combination of: low pop + weak infrastructure + limited
کیا آپکو معلوم ہے کہ #پاکستان میں #بجلی کی پیداوار 46500 M میگاواٹ ہے اور #بلوچستان کو صرف 300 MW میگاواٹ بجلی ملتی ہے جو آدھے فیصد یعنی ایک فیصد سے بھی کم ہے - آپ بتا سکتے ہیں کہ اسکے پیچھے کونسی #بیرونی سازش ہے ؟
@Mahzeb_Shafiq سب کچھ قانون کے مطابق ہورہا ہے، ڈیٹینشن لا کے تحت اسکو گرفتار کیا ہء گھر والوں کو ملا دیا ہے تم لوگ زیادہ دکانداری نے چمکاؤ ، تمہاری حالت تو یہ ہے کہ امتحان میں نقل کرتے پکڑے جانے پر بھی تم نے ریاست کو گالی دی کہ بلوچ نسل کشی ہے۔