Supreme Court Judge Justice Ayesha A. Malik has been conferred the International Leader / Lifetime Award at the Justitia Awards 2026 Gala held in Vienna, Austria.
Neverrrrrrrrrrrr Everrrrrrrrrrr harm your mother, not with words, anger, or silence. She's the only woman who loves you unconditionally. Take care of her while she's still alive.
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (اور اُن سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ اور جو کوئی اللہ کا شکر اَدا کرتا ہے، وہ خود اپنے فائدے کے لئے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بے نیاز ہے، بذاتِ خود قابلِ تعریف۔
﴿سورۃ لقمان ، ۱۲﴾
There are few sane elements in PMLN. Time for them to step in and realise the gravity of the situation this country is facing. Look at Balochistan, Kp and AJK. The economy is in a mess. Elections in AJK has no credibility. The judiciary is no longer a place to seek justice. Pakistan is not moving forward - instead it is going backwards
We need a constitutional state - not a hard state
موجودہ عدلیہ نے ایک اور نئی عدالت کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز دے دی۔ نئی عدالت بنے گی اور پھر ججوں کی نئی بھرتیاں بھی ہوں گی ۔قومی خزانے سے ان کے لیے مزید اربوں روپے مختص ہوں گے ۔ ججز پر ایگزیکٹو کے اثر کا تاثر اتنا بڑھ گیا ھے کہ اب پاکستان میں بین الاقوامی و لوکل کمرشل کمپنیاں معاہدوں میں تنازعات کے حل کے لیے انٹرنیشنل ثالث کی شرط عائد کررہی ہیں۔ اصل معاملہ نئی نئی عدالتوں کے قیام کا نہیں ھے بلکہ آزاد اور خودمختار ججوں کی تقرری کا ھے جس پر ہر ایک کو اعتماد ہو۔
After decades, Judicial Commission of Pakistan (JCP) has approved the nomination of candidate (Suresh Kumar) belonging to a minority community for appointment to Sindh High Court. Since 18th Constitutional Amendment in 2010, no member of a minority community has served as judge of superior judiciary.
When female political prisoners are complaining the superior judiciary over the delay in fixation of their cases, NJPMC (all CJs) led by CJP Yahya Afridi is set to establish Women Facilitation Centres (WFCs) in judicial complexes at divisional headquarters across Pakistan.
A ceremony to recognize the winning design for the Women Facilitation Centre will be held on Monday, 20 July 2026, at 10:30 a.m. in the Auditorium of the Supreme Court of Pakistan, Islamabad.
محبت خود غرضی کا نام نہیں ہے ، اگر تم کو لگتا ہے کہ تم سے جڑا شخص تمہارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا تو تم اس کو چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی ساری زندگی خوشی کے ساتھ گزار سکے…
اشتہارات میں ان ایئر کنڈیشنرز کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہیں ’ناسا کے سابق انجینئرز نے ڈیزائن کیا ہے‘ اور یہ ’90 سیکنڈ میں ایک کمرہ ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔‘
https://t.co/dGYrvtLtQS
I’m amazed at Pakistani media channels. The economy is in its worst state with so much unemployment, poverty, inflation, lack of investment, falling exports. In addition Balochistan & Kp are facing the most serious terrorist activities while Azad Kashmir is in turmoil.
But check our tv channels - almost exclusively talking about foreign policy as if our citizens are having the best time of their lives & there is nothing to discuss or debate.
Precisely for this reason social media is so much watched and read.
A blue passport is an insult to the very idea of citizenship. Abolish it.
If you believe you and your children are entitled to a passport that places you above the people you claim to serve, then perhaps you’ve already decided where your loyalty lies. Safe travels.
یہ بات سمجھنے اور یاد رکھنے کی ہے کہ حکومت کی اصل ذمہ داری معیشت کے بنیادی انجنوں کو مضبوط کرنا ہوتی ہے۔ ایسے معاشی اصلاحات لانا جن سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) آئے، مقامی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہو، لاگتِ پیداوار کم ہو، گروتھ لیڈ اکانومی کی بنیاد رکھی جائے اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کو فروغ ملے تاکہ روزگار پیدا ہو، آمدنی بڑھے، صارفین کی قوتِ خرید میں اضافہ ہو اور معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے۔
بدقسمتی سے اس کے برعکس حکومت نے سب سے آسان راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ تمام شعبے جو ہر شہری کی بنیادی ضرورت سے وابستہ ہیں، انہیں ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ پٹرولیم لیوی ہو، جس کی شرح آج تقریباً اسی روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، یا بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز، یا گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہر طرف ایک ہی سوچ نظر آتی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے عوام کی جیب سے مزید پیسہ نکالا جائے۔
صرف یہی نہیں، ٹول ٹیکس، ٹریفک جرمانے اور دیگر فیسوں میں مسلسل اضافہ بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔ بالخصوص پنجاب میں تو تقریباً ہر شعبے میں جرمانوں اور فیسوں کے ذریعے ریونیو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گورننس کا تصور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے صرف وصولیاں کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس حکمتِ عملی کی بھی کوئی حد ہوگی۔ وہ حد کہاں آ کر ٹوٹے گی؟ کیا یہ ماڈل مزید تین، چار یا پانچ سال چل سکے گا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ معاشی دباؤ کے سماجی اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں۔ خودکشیوں کی خبریں روزمرہ کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو آگ لگا لیتا ہے، کوئی نہر میں چھلانگ لگا دیتا ہے، کوئی زندگی سے ہی مایوس ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، کچھ لوگ معاشی مجبوری میں جرائم کی طرف چلے جاتے ہیں؛ ڈکیتی، چوری اور چھینا جھپٹی جیسے جرائم بڑھتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو جرم بھی نہیں کر سکتے، خاموشی سے اپنی جان دے دیتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں حکومت کی سمت واضح دکھائی نہیں دیتی۔ اگر ریاست کا تصور صرف ایک coercive mechanism بن کر رہ جائے، جو ہر ممکن ذریعے سے عوام اور کاروباروں سے زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرے، جبکہ معیشت کے حقیقی انجن صنعت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگارمسلسل کمزور ہوتے جائیں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ماڈل کب تک چل سکتا ہے؟
جو چند کاروبار ابھی تک بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر انہی کو مزید ٹیکسوں، ڈیوٹیوں، سرچارجز اور جرمانوں کے ذریعے نچوڑ دیا جائے، تو ان کے بند ہونے کے بعد ریاست کے پاس ریونیو آئے گا کہاں سے؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آج تک نظر نہیں آتا، اور شاید یہی اس وقت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
The government can No more be supported for its move to keep petroleum levy high at Rs80 per litre on petrol.
1- Levy had been introduced as an alternate to 18% GST to keep money out of divisible pool so it’s not shared with provinces.
2-At 18% GST, the levy rate today should have been around Rs41 per litre.
3-The Govt is charging extra Rs40 per litre, including today’s increase.
4- At GST equal rate, today petrol price could have been Rs270 per litre and diesel Rs293 per litre.
5-The government should Stop punishing people for its decision to keep spending in areas that are in provincial domain after 18 amendment by raising more and more indirect taxes without Parliament’s explicit nod!
6- Constitutional experts should also see whether the National Assembly can delegate power to increase tax rate without setting any upper limit.