مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے پردہ اٹھایا ہے جس سے واضع ہوتا ہے کہ کیسے جب معاملات درست سمت بڑھ رہے تھے تو حکومت نے آخر وقت پر کیسے پینترہ بدلا ۔۔۔۔جس کو مولانا کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے وعدہ خلافی کی
@ajmaljami@Bashirchaudhry دلال کو یہ المیہ نذر آتا ہے لیکن پچھلے چار سال سے جو ظلم جبر بربریت بے انصافی ہو رہی ہے وہ نظر نہیں آتی شاوا ۔
ایک ملاقات کے سوال پر حکومت ختم یہ ہے المیہ دلال صحافی نما نوکر
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔۔
طاقت کے زور پر عدم اعتماد کے ذریعے وفاقی حکومت ختم کرنے، نو مئی کے ذریعے پارٹی توڑنے، عمران خان کو جیل میں ڈالنے، عام انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے اور خیبرپختونخوا حکومت ختم کرنے کے بعد بھی موجودہ رجیم نے achieve کیا کیا؟
غربت 48 فیصد تک پہنچ گئی، پیٹرول 400 تک چلا گیا، گروتھ 2.8 فیصد رہ گئی۔ دہشتگردی بڑھ گئی۔ پاور لومز بند ہوگئیں، انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئیں، سرمایہ کاری اور ایکسپورٹس تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئیں۔
اور عوام آج بھی ایک طرف کھڑے ہیں۔
@khurram143 تمہاری صحافت کا یہ میعار ہے کے تم ٹوٹل تین بندوں کی مٹھائی کے ڈبہ پکڑے ویڈیو دکھاؤ وہ ویڈیو بھی تیار کی ہوئی جس میں ساری مٹھائی تقسیم کرنے والا خود ہی کھائی جا رہا ہے بندہ کھانے والا ہی نہیں مل رہا ڈیلی رپورٹ کے لوکل صحافی ہو کیا
کامران مرتضیٰ کہہ رہے حکومت نے سب کچھ درست جانے کے باوجود یہ سب کر دیا
" رات پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ ایک کانفرنس کال بھی ہوئی تھی مولانا ساری رات کے جاگے ہوئے تھے رات کو حکومت سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا صبح خود جا کر حکومت کو بھی انہوں نے بتایا اب تو ڈیڈ لاک بھی ختم ہو چکا تھا پھر بغیر اعتماد میں لیے یہ عمل کیا گیا جس سے نیت کاعمل کچھ اوپر نیچے نظر آتا ہے چیزوں کے طے ہونے کے قریب ہوتے ہوئے (حکومت کا) اچانک رخ بدل لینا تکلیف دہ عمل ہے ، سینیٹر کامران مرتضیٰ
@Aasma_Official واہ رینٹل صحافی صاحبہ ، قانونی ملاقات بھی حرام ، مائیں بہنیں بھی اٹھا لیں ، کیس بھی نہیں لگانے ، سیاسی قیدی بھی نہیں چھوڑنے ،مینڈیٹ بھی چوری کر لیا لیکن احتجاج بھی نا کرو ظلم پر بولو بھی نہیں واہ ، ڈاکو زبردستی قوم پر مسلط کر دیے گئے لیکن بولو مت لعنت ایسی صحافت پر
کنڈی صاحب لگا تار چار الیکشن ہار چکے ہیں۔2013 ،2018 قومی اسمبلی کے الیکشن ہارے،2022 میں میئر کا الیکشن لڑے ہار گئے 2024 کا قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
مطیع اللہ جان🔥🔥🔥
گورنر راج یا ایمرجنسی تو بس ایک cover up سٹوری ہے اصل مسئلہ تو KP کی عوام سے ہے جو اپنئ لیڈر سے ملاقات انکے کیسز عدالتوں میں فکس کروانے انکا علاج کروانے کے لیے سراپا احتجاج ہے۔
یہ جو سہیل آفریدی کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ اختیار نہی ہے شوباز شریف کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں ہے نہ ہی عزت ہے یہ چاچا بھتیجی اور نوازشریف عوام میں جا کر دکھائیں کوئی صحافی کو انٹرویو کرکے دکھائیں سہیل آفریدی تو اپنی عوام میں ہے۔ شریفوں نے منہ دکھائی کے بدلے اقتدار لے لیا یے۔
گھٹیا چند سینئر صحافی TV پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ حالات خراب ہیں ایمرجنسی لگنی چاہئے لیکن اتنی ہمت نہیں کہ یہ بتا سکیں کہ حالات خراب کی ذمہ داری کس کی ہے؟ دہشتگردی کون ختم نہیں کروا سکا؟ اس سے زیادہ تذلیل عوام کی نہیں ہوسکتی 90 فیصد عوام کو دہشتگرد کہہ رہے ہیں وفاقی وزیر۔
پیپلزپارٹی کو پھر اقتدار کی ہڈی نظر آ رہی ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ۔ یہ پیپلزپارٹی کی گھٹی میں ہے کہ اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں۔ 70 کا مینڈیٹ بھی ذوالفقار بھٹو نے نہیں مانا تھا پھر ملک ٹوٹ گیا تھا۔