کم ازکم افغانستان سے جو ڈرون آیا تھا اس کی مذمت کر دیتے ! عطا تارڑ ۔۔
جلال افغانی کو ساتھ بٹھا کر سہیل آفریدی سے یہ شکوہ کرنا کہ افغانستان کی مذمت نہیں کی یہ نونی ہی کر سکتے ہیں اس جلال افغانی کو کہو نا کہ مذمت کرے ، وہ ڈرون بھی ان کا اپنا تھا افغانستان کا نہیں تھا ۔۔۔
تحریک انصاف نے ایک موقع دیا ہے کہ معاملات بہتر ہوں،
تحریک انصاف پر الزام لگتا تھا کہ یہ بات چیت نہیں کرتے ہر وقت احتجاج کی بات کرتے ہیں، تو اب آئیں آپ کے پاس وقت ہے کر لیں مزاکرات، ایڈووکیٹ اظہر صدیق
انہوں نے 27 ستمبر کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ انگیجمنٹ نہیں کی تھی کوئی بکنگ نہیں کی گئی کوئی رہائش کا انتظام نہیں کیا تھا کھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا ! بے اختیار ولی ۔۔۔
تو پھر ہزاروں کنٹنیر ، سڑکوں کی کھدائی ، سڑکوں پہ کیلیں کس لیے لگائی گئیں تھیں ؟
کیا یہاں بھی یہی سوال ہو گا ۔۔ کیا قومی اسمبلی کی جو ترمیم پی ڈی ایم حکومت نے کی تھی اس کے مطابق کوئی ایم این اے قتل کر دے تو ۔۔۔۔ اسپیکر سے پولیس اجازت لیتی پھرے گی ؟؟؟؟
ایم این اے زبیر خان وزیر اغواء کرتے وقت!
جیسے کہ آپ سب کے علم میں ہے چند روز قبل ایم این اے زبیر خان وزیر کو ان کے گھر سے اغوا کیا گیا، اور آج تک نہ وہ بازیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس رات ہمیں گھر سے باہر جانے اور ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں تھی۔
ایک پیکا وہ ہے جو قانون بنایا گیا ہے اور دوسرا پیکا وہ ہے جو بغیر قانون کے ہے جو روز TV چینلز پر اپلائی ہوتا ہے کہ عمران خان کا نام نہیں لینا بانی پی ٹی آئی کہنا ہے ۔
صحافی شہزاد اقبال
وفاقی حکومت، بالخصوص ن لیگ کا پی ٹی آئی کے ساتھ دلچسپ رویہ
پولیس سے متعلق صوبائی حکومت کے اختیارات۔۔۔ ن لیگ کے لیے حلال، مگر پی ٹی آئی کے لیے حرام۔
اپنے اراکین کی گرفتاری ہو تو ن لیگ کو پارلیمانی استحقاق یاد آ جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اراکین کی گرفتاری کا معاملہ ہو تو کہتے ہیں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
اراکینِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت۔۔۔ ن لیگ کے لیے حلال، مگر پی ٹی آئی کے لیے حرام۔
اپنی حکومت میں صوبائی اختیار ہو تو وزیراعلی، کابینہ کا آئینی حق ہے مگر پی ٹی آئی کی حکومت وہی کرے تو اختیارات سے تجاوز ہے اور وفاق کیخلاف سازش ہے۔۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہنوں نے کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں جبکہ عالیہ حمزہ ، فلک جاوید ، صنم جاوید نے بھی اظہار یکجہتی کےلیے بھوک ہڑ تال پر چلی گیں
فوج کا ایک جوان تھا جس کی " پیٹھ پہ گولی " لگی تھی اس نے کہا میں نے ملک و قوم کی خاطر گولی کھائی ہے میں ٹھیک ہو کر پھر ان کا مقابلہ کروں گا ! عطا تارڑ ۔۔۔
ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ یہ سینے پہ گولی کھاتے ہیں جبکہ آج تو وفاقی وزیر نے کہہ دیا کہ یہ بزدل پیٹھ پہ گولی کھاتے ہیں 🤣
تاحیات استنثیٰ کا قانون کے مطابق اگر فیلڈ مارشل کسی کو قتل بھی کردیں تو کیا انہیں عدالت بلوا سکتی ہے پولیس گرفتار کر سکتی ہے؟ یہ قانون بنوانے والا کہہ رہا ہے کہ ایم پی اے کو ایم این اے کو اغوا کرنا جائز ہے۔
یہ ہے ریاست طیبہ؟
ہمیشہ پاکیستان زندہ باد۔
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
تارڑ ساب، قومی اسمبلی نے اکتوبر 2022 (شہباز شریف حکومت) میں قانون منظور کیا کہ MNA کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت لینا لازم ہو گی۔ یہ قانون قومی اسمبلی میں درست ہے تو پختون خوا اسمبلی کیلئے غلط کیسے؟ مزید، بالکل ایسا ہی قانون پنجاب اسمبلی میں بھی ہے
https://t.co/6HBsXcAdOl
"عہدہ عارضی ہے، لیکن ذمہ داری مستقل ہے۔"
خواہ وہ کسی کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کا حکم ہو، کسی خلافِ قانون کارروائی کی منظوری ہو، یا پھر جھوٹی ایف آئی آر کا اندراج—یہ تمام فیصلے صرف وقتی احکامات نہیں ہوتے۔
اگر جانتے بوجھتے ظلم یا ناانصافی کے حکم پر دستخط کر رہے ہو، تو یاد رکھو کہ تم صرف ایک کاغذ پر نہیں، بلکہ اپنے ہی خلاف ثبوت پر دستخط کر رہے ہو۔ ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔
کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے آپ کے اپنے، آپ کی آنے والی نسلیں، اور اللہ کے حضور آپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔
#نکلو_ڈٹ_جاؤ_خان_کیطرح
#ہمارا_مارچ_ہماری_مرضی
میرے ذرائع کے مطابق عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں نے کوٹ لکھپت جیل میں پچھلے 36 گھنٹوں سے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے، پچھلے 36 گھنٹوں سے پانی کے سوائے کچھ نہیں پیا جبکہ انکے ساتھ فلک جاوید ، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ بھی آج صبح سے بھوک ہڑتال شروع کر چکی ہیں اور انہیں دھمکایا جا رہا ہے.