Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
ایک دفعہ کا زکر ہے، تب کا جب بادشاہ بھلے ظالم ہوں کم از کم خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتے تھے، ایک بادشاہ نے اپنے عہد کے ایک ذی عقل سے سوال کیا کہ مجھے طویل مدت تک اقتدار کا گُر بتائیں۔
عقل والے نے کہا لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت جگاؤ۔ بادشاہ نے کہا لوگ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
کہا پھر اپنا خوف پھیلاؤ۔ کہا اتنے عرصے سے اسی کی بنیاد پر تو حکومت کررہا ہوں، اب مگر لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
کہا گر لوگ ڈر نہیں رہے، تو اقتدار کو بھول جاؤ، اپنا سر بچاؤ۔
۲۰۰۹ کے سوات آپریشن کے وقت کراچی سے چند متاثرین آپریشن کو رینجرز نے ناکے پر سے اٹھایا اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ان کی برآمدگی کی اپیل ہوئی وہاں سے آرڈر بھی جاری ہوا۔ درگئی فورٹ میں ان کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد سوات اور دیر کی سرحد پر فوج اور طالبان کی جھڑپ ہوئ، ہلاک ہونے والے افراد لی فہرست میں وہ افراد بھی تھے جو پہلے ہی فوجی تحویل میں تھے، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ بلوچستان کی سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو اس واقعہ کی یاد آگئی، عمران خان صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف کو ان لوگوں کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا۔
سالوں کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں حالات کو اس نہج پر لے آیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور جوابی سٹریٹجی اور مورال بلند رکھنے کے لیے ان قبیح حرکات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ اب نیا پلان یہ ہے کہ پرائیوٹ ملیشیا بنایا جائے گا۔ فوج سڑکوں سے لے کر مائننگ تک کے ٹھیکے لے گی، اور سیکیوریٹی کا کام پرائیوٹ ملیشیا کو سونپ دیا جائیگا۔
خیبر پختونخواہ میں بُھجی ہوئ آگ کو ایندھن برآمد کر کر کے بھڑکایا گیا۔ ہم چیختے رہے، دہائیاں دیتے رہے ہمیں غدار، ملک دشمن، پراپگنڈسٹ قرار دیے دیا۔ اب امن کمیٹیز کے بعد عوام پر مسلح لشکر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کل کو پالیسی بدل جائے گی تو اس لشکر کو فتنتہ ال فلاں نام دے کر ایک اور لشکر کشی کا جواز تراشا جائیگا۔ جیسے کل تک کشمیری مجاہد مُحبِ وطن تھے آج آئین و قانون کے دائرے میں اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں تو ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔ ان پر ایمپورٹڈ حکومت مسلط کرو انہیں گولیوں سے بھون دو۔
نہروں سے لیکر صوبوں تک کے منصوبوں پر سندھ کی نبض بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔ “مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں” کا نعرہ لگانے والا خود مرے گا تو اکیلے تو نہیں مرے گا ناں۔۔
پہلے بھی نہیں مرا تھا۔۔
باقی بچا پنجاب تو گذشتہ چار سال کا جبر ایک جانب اور اس ایک ہفتے کا پاور پلے دوسری جانب۔ کون کون سی بے شرمی کی حدیں نہیں پاٹی گئیں۔ انتظامیہ سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کے (بلاتفریق مرد و زن) افسران کی جانب سے جس درجے کی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھولتے تیل میں گر کر جھلس کر مرنے والے شہید کارکن، بے عزتی کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہونے والے شہید عہدیدار، زمیں پر پڑی بزرگ پردہ دار ماں، اپنا ٹوٹا لُٹا پھٹا گھر دکھاتی ہوئی معصوم بچی۔ چہرے پہ کالا کپڑا ڈلا، ہتکھڑیوں میں بندھے ہاتھوں میں اپنی شناختی تختی لیے صحافی، کانپتے حرفوں میں اپنی لُٹی جمع پونجھی کی دہائی دیتا محنت کش مزدور حسنین جس کا جرم دوسرے صوبے سے آئے مہمان وزیراعلی کی مہمان داری کرنا تھا۔ لاہور سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر پٹتے نوجوان۔۔ بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں آپ کی نفرت نے تھمائیں۔ پختونخواہ کے لوگوں کو آپ اپنی غلط پالیسی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بندوق اٹھانے پر اکسا رہے ہو۔ کشمیر میں نفرت کی کھیتی بو دی ہے، تو کاٹنی بھی پڑیگی۔ سندھ بھرا بیٹھا ہے۔ کل اسی پنجاب کی ایک ماں کہ جن کے خون کا ایندھن بھر کر جہاز اڑا رہے ہو تاکہ اپنے بچوں کی خوشیاں ہیروں میں لدھ سکو، اسی پنجاب کی ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کی گردنوں پر چھری پھیر دی۔ وہ ہاتھ جو پہلے ہی اپنی اولاد کی گردن پا چھری رکھ چکا ہو وہ آپ کی اولاد کی گردن پر ڈلتے کتنا ہی کوئی جھجھکے گا؟ اور آپ کے گریباں سے کتنا ہی عرصہ دور ہوگا؟ سیانے کہہ گئے ہیں جبر کی معیاد پوری ہوجائے تو اپنا سر بچانے کا سوچنا چاہئے کیونکہ اقتدار تو اب بچنا نہیں۔
Super Alert 🚨🚨🚨
میرے خیال میں جنرلز نے اس آرٹیکل کو ایکسپریس ٹربیون سے ڈیلیٹ کروا دیا ہے - تابڑ توڑ قسم کا آرٹیکل ہے۔ اس کو پڑھیں اور آگے پھیلائیں۔ اتنا پھیلائیں کہ یہ آئندہ ڈیلیٹ کروانے سے پہلے سوچیں کے نقصان زیادہ ہو گا۔
“میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔
2021 میں اسی پاکستانی ٹیم نے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دی تھی لیکن اب ٹیم مسلسل ہار رہی ہے کیونکہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر پاکستان کرکٹ کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
1/3
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)
I have been offered deals time and again, told either to leave the country or remain silent, and in return my cases would be withdrawn. Yet from the very first day, my position has been that I will only emerge from these cases through the courts, never as the result of any deal. This is why 300 fabricated cases have been filed against me. Any other person could not have withstood such persecution, but I know that I am innocent and that I stand on the side of truth.
Even the false Toshakhana case has now completely collapsed. Witnesses presented by the prosecution, Brigadier Ahmad and Colonel Rehan, themselves admitted that the Toshakhana gifts were not taken to my residence but deposited in the Toshakhana, and all documentation is complete.
Therefore, acquittal in this case should be granted in a single day, and in particular, bail for Bushra Begum should be approved, as she is a woman and is facing nothing but baseless allegations of aiding and abetment.
I am fully aware that the so-called courts under the 26th Amendment deliver dictated verdicts, not according to the law but according to Asim Law. The sequence has already been planned: first, conviction will be announced in the second Toshakhana case, and only then will bail in the Al-Qadir Trust case be approved. This is the script, and the judiciary is currently functioning not on the basis of law, but according to this script.
Former Prime Minister Imran Khan, speaking with family and lawyers at Adiala Jail – 24 September 2025
2/2
The key witness, whose testimony formed the very basis of this case, has been conclusively discredited in court. There is no justification for dragging this case any further, especially since the prosecution’s own witnesses, Brigadier Ahmed and Colonel Rehan, has testified that the documents of the gifts taken from Toshakhana were complete. Yet, despite all evidence and government witnesses being discredited, the hearings continue. If this were not a matter of political vendetta, both Bushra Begum and I should be acquitted of this baseless case within the week. On Thursday, a date was finally set for the Al-Qadir case as well. I still hope that the court, guided by merit and law, will deliver justice in these cases and grant me release from this fabricated charge.
Mohsin Naqvi has done to cricket what Asim Munir has done to Pakistan, left it in ruins. Every institution in Pakistan is currently in a state of collapse. Cricket, the sport that unites and inspires the nation, has suffered steadily since it was placed under the stewardship of Mohsin Naqvi. In 2021, the Pakistan team had defeated India by 10 wickets and was a confident side at that time.
The only way they can win a match is if Asim Munir and Mohsin Naqvi are sent in as opening batsmen, Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa are made the on-field umpires, and Dogar is appointed as the third umpire, because under the current setup, this seems to be their only way of winning.
Asim Munir should reflect on everything he has done just to prolong his illegitimate rule.
First, democracy was dismantled, a false flag operation on May 9 was staged to crush the country’s largest political party. Then, on February 8 (2024), the two-thirds majority vote that the people had given to me in the elections was stolen and power was handed over to the same thieves who have done nothing except loot the nation’s wealth. Despite being a dictator, Musharraf still had some degree of public support for two reasons: first, he had freed the media; second, he was holding the country’s two most corrupt families, the Sharifs and the Zardaris accountable. Now, by once again imposing this convicted corrupt mafia on the nation, the country has been pushed back by decades.
Secondly, through the 26th Amendment, the independence of the judiciary has been stripped away, turning it into just another state-controlled institution. Yet, those judges who still stand firm today for the rule of law and the supremacy of the Constitution are truly commendable. They are the heroes of the entire nation, and the whole country stands behind them for raising the banner of truth even in these most difficult times. On the other hand, those judges who have bowed before Asim Munir will never be forgiven, neither by history, nor by this nation.
Thirdly, the moral order has been dismantled, and human rights are being grievously violated. Innocent citizens have been imprisoned, subjected to military trials, and handed unlawful sentences, all without fear of accountability.
I want to send a message to my party, especially Ali Amin, Barrister Saif, and Barrister Gohar to completely cut off all contact with the establishment. If the establishment has anything to say, let them come to Adiala Jail and speak with me. The more you try to negotiate with them, the more they escalate their cruelty and try to crush our party.
What an inhumane act it is that innocent prisoner Qasim Khokhar, who had been jailed in Gujranwala for two years, was denied timely medical treatment, leading to his death in prison. Previously, several other workers have also died after being released from jail. I extend my heartfelt condolences to their families.
Former Prime Minister Imran Khan’s Message – 22 September 2025
1/2
The entire nation should participate in the Peshawar rally on September 27. This rally is for the rule of law, a free media, an independent judiciary, and the restoration of democracy, so the whole nation must come out united. Ali Amin Gandapur will oversee the arrangements, supported by Junaid Akbar. The entire party and its workers must strive to make this rally historic.
Former Prime Minister Imran Khan’s Message – 22 September 2025
2/2
“خیبر پختونخوا میں آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے ہی ایک زمانے میں اے این پی کو غیر مقبول کیا گیا تھا۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں۔ ان آپریشنز میں ایک طرف ہمارے سیکیورٹی فورسز والے اور دوسری طرف بھی ہمارے اپنے شہری مارے جاتے ہیں۔ اپنوں کو مارنے سے ہمیشہ دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری جانب سے افغانستان اور پاکستان میں جاری ڈرون حملے فوری بند ہونے چاہئیں۔
خیبر پختونخوا کے تمام صوبائی و قومی اسمبلی ممبران اور سینیٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے میں امن کے لیے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے مل کر بیٹھیں اور مزاحمت کریں تاکہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو۔ ایک طرف لوگ سیلاب اور مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کو آپریشن کا بھی سامنا ہو گا، جو بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی مستقل حل نہیں ہوتا۔
افغانستان ہمارا برادر مسلمان ملک ہے۔ افغان مہاجرین تین تین نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو سب نے ان کے لیے دروازے کھولے اور اسی لیے انصار مدینہ آج تک محترم ہیں لیکن ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں پر زمین تنگ کر دی۔ مہاجرین کو دھکے دے کر بے دخل کرنا بہت افسوسناک ہے ۔عاصم منیر اینٹی طالبان لابی کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور جہاں جنگ نہیں ہے وہاں جان بوجھ کر جنگ نافذ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات فوری طور پر رکنے چاہییں ورنہ حالات مزید بگڑیں گے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہمشیران سے گفتگو۔ ۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵
2/3
“میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
مجھے توڑنے کی کوشش میں مجھے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ایک سال سے میرے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی، کئی کئی ہفتے تک اخبارات اور ٹی وی بند کر دئیے جاتے ہیں، فیملی ممبران اور وکلا تک کو ملنے سے روکا جاتا ہے- ڈیڑھ سال سے سیاسی رفقأ سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر افغانستان کی موجودہ حکومت کی مخالف لابی کو خوش کرنے کی کوشش میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے دور میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ جہاں ہمارے بہترین تعلقات ہونے چاہییں وہاں جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں- میرا دل اس پر بھی بہت رنجیدہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں کی مہمان نوازی کے باوجود موجودہ دور میں اپنے افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر نکالا ہے۔ حالانکہ وہاں زلزلہ بھی آیا ہے اور ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیئے-
علی امین گنڈاپور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ افغانستان جائیں اور ان کے ساتھ جا کر بیٹھیں اور باہمی مسائل اورامن و امان کے حوالے سے بات کریں تاکہ حالات کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے۔ جعلی وفاقی حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہیے، مریم نواز جاپان اور تھائی لینڈ جا سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں امن کے لیے افغانستان کیوں نہیں جا سکتا؟
خیبر پختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشن، ڈرون حملوں اور علاقوں سے بے دخلی کروانے کا عمل دراصل تحریک انصاف کی عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کو اس آپریشن کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب سے تباہ حال ہے۔ اگر وہاں ڈرون حملے اور آپریشن نہ رکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ ہمارے کتنے پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن جب تک بند نہیں ہو گا، لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور دہشتگردی مزید بڑھے گی۔
اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پوری قوم کو یکجا ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ میں اگر جیل سے باہر ہوتا تو ضرور فنڈ ریزنگ اور ٹیلی تھون کرتا مگر اب اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ وہ بڑھ چڑھ کر اور دل کھول کر ریلیف کے کاموں اور سیلاب متاثرین کی امداد میں حصہ لیں۔
بلوچستان میں سیاسی جلسے پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج میں پوری تحریک انصاف کو شرکت کرنی چاہیے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)