@GQAbbasi@MaryamNSharif سوشل میڈیا اور میڈیا میں شور کے بعد کے پی کے حکومت میں اب اس ایکٹ کو ریویو کرنے کی اطلاعات ہیں۔سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھی فی الفور اپنی سفارشات واپس لے لینی چاہئیں ۔
@GQAbbasi@MaryamNSharif@NawazSharifMNS@PakPMO
We,the residents of Murree are thankful for the recently announced mega projects in Murree i/c Glass train.
The deprived youth now looking forward to the announcement of a Danish School, KUM own Campus & a Sub-Campus of UET LHR.
Dear DC sb
Sir, attention towards a stone throwing incident near Margalla Enclave office last night targeting BE residents' vehicles. Request stern action for residents' safety.
Regards,
Shahid Ali,
President SOBER,
BE Society
@dcislamabad@ICT_Police@ChiefCommISB@PakPMO
https://t.co/TQ9Xz7u0DT
عابد وزیر کو بازیاب کرائیں!
آج لاہور کے دل میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
سی ای او KIPs عابد وزیر کل دن دہاڑے لاہور میں نامعلوم اغواکاروں کے ہاتھوں اغوا ہو گیا۔
یہ سی ایم پنجاب ،سی سی ڈی کے لیے ایک ٹیسٹ
کیس ہے
#BIG#BREAKING#NEWS
Powerful kidnapping gangs have started raising their ugly heads in Lahore, the home town of CM Punjab Maryam Nawaz
KIPS Education System CEO Abid Wazir Khan has been kidnapped from Johar Town by unknown kidnappers
Johar Town police have registered case against unknown kidnappers and began investigation
@KlasraRauf@suhailswarraich وڑائچ صاحب سے درخواست بنتی ہے کیوں کہ وہ استادوں کے استاد ہیں۔لیکن یہاں ڈنڈے والے استاد کی ضرورت ہے،جو وڑائچ صاحب کے پاس نہیں ہے۔اور 'ڈنڈے والا استاد' اس وقت پورے ملک میں ایک ہی ہے،جو نقوی صاحب کا گاڈ فادر بھی ہے۔آئیں ہم سب مل کر اسی استاد سے درخواست کرتے ہیں۔شائید بات بن جائے ۔
سہیل وڑائچ کے نام ایک خط
@suhailswarraich
وڑائچ صاحب آپ سے پرانی یاد اللہ ہے۔آپ کو ہمیشہ انکساری اور عاجزی سے بھرپور پایا۔ہر چھوٹے بڑے کو عزت سے ملتے ہیں۔صحافت میں نام/اسٹائل کمایا۔ آپ کے سیاسی تجزیوں کا انتظار کیا جاتا ہے۔ میں نے آپ کو سن سن کر سیکھنے کی کوشش کی سخت سے سخت سوال بھی دھیمے لہجے اور مسکرا کر کیا جاسکتا ہے۔
آپ انگلش ادب کے طالبعلم ہیں لہذا آپ کی گفتگو اور تحریر میں وہ جھلک نمایاں ہے۔آپ کا ہزاروں سال کی انسانی تاریخ کا مطالعہ ہے۔ آپ لکھنے کا فن جانتے ہیں۔
آج میں آپ سے ذاتی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وزیرداخلہ محسن نقوی پر اپنا اثر و رسوخ استمعال کریں۔نقوی صاحب سے آپ کا پرانا تعلق ہے۔تعلق تو میرا بھی ان سے رہا ہے لیکن میری بدقسمتی کہ میں جو دوست اقتدار میں چلا جائے اس سے تعلق خراب کر بیٹھتا ہوں۔
سنتے ہیں محسن نقوی آپ کی سنتے ہیں ورنہ تو آج کل سنا ہے وہ وزیراعظم تک کی نہیں سنتے۔
آپ اکثر اسلام آباد آتے ہیں۔کیا آپ کو نہیں لگتا محسن نقوی کے دور میں ہمارا خوبصورت شہر گنجا کر دیا گیا ہے۔ سبزے جنگل درخت گرین بیلٹس سبزہ سب کچھ کاٹ دیا گیا ہے۔ملیا میٹ۔شہر گنجا ہوگیا ہے۔ ناقص اوورفلائی اور ناقص سڑکیں۔ اسلام آباد شہر گند اور گندگی اور آلودگی سے بھر گیا ہے۔
آپ ادب کے بندے ہیں کیا آپ کی نظر سے اسلام آباد کی تباہی نہیں گزری؟ گزری ہے تو آپ خاموش کیوں ہیں۔کیا ہمارے ذاتی تعلقات کسی شہر کی بربادی سے زیادہ اہم ہیں ؟
آپ محسن نقوی کو زرا اپنے ادبی اور دھیمے رنگ میں سمجھائیں کہ شہروں کو ترقی ان کا قدرتی حسن برقرار رکھ کر بھی کی جاسکتی ہے۔ کھدائی اور مزید کھدائی شہروں کو برباد کرتی ہے۔ نیو دہلی اس وقت زہریلی سموگ کی زد میں ہے، اگلی باری ہماری ہے۔
اسلام آباد سے بارشیں روٹھ گئی ہیں۔ دسمبر پچھلے سالوں کی نسبت گرم گزرا ہے۔ آلودگی کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اسلام آباد کے جنگلوں/درختوں میں رہنے والے چرند پرند اور مخلوق سےان کے گھر گھونسلے/بچے تک چھین لیے گئے ہیں۔ اس بے زبان اور بے بس وائلڈ لائف مخلوق کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں۔
وہ سب ماتم کدہ ہیں۔ ان کے دھاڑیں مار مار کر رونے اور ماتم تک کی آوازیں محسن نقوی کے کانوں تک پہنچائیں کہ شاید ان پر کچھ اثر ہو۔
ویسے کیا وجہ ہے پنجاب سے جو بھی وزیراعظم یا وزیرداخلہ یا سی ڈی اے چیرمین لگا اس نے زیادہ تر شہر کو بہتر کرنے کی بجائے خراب ہی کیا ہے۔ اس وقت اسلام آباد پر لاہور سے آئے ہوئےوزیراعظم اور وزیرداخلہ کی حکومت ہے اور شہر اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔
سی ڈی اے ہو یا ضلعی انتظامیہ ہر جگہ لاہور سے آئے افسران ڈیپوٹیشن پر لگے ہوے ہیں۔ چن چن کر افسران پنجاب سے لائے گئے ہیں جن کو اس شہر کی خوبصورتی اور قدرتی حسن سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر دلچسپی ہے تو ڈیپوٹیشن کی وجہ سے ملنے والے پلاٹ میں ہے۔ ان سب افسران کو دلچسپی ہے تو اس شہر کی کھدائی میں ہے کیونکہ بقول خواجہ آصف اس کھدائی (سوری میرا مطلب ہے کمائی) سے ہی پرتگال میں جائیدادی خریدی جاتی ہیں۔
آپ اپنے اور ہمارے دوست محسن نقوی پر اپنے لفظوں کا جادو آزمائیں۔ مان لیا وہ اس وقت بہت اونچے اڑ رہے ہیں لیکن جو جتنا اونچا جاتا ہے وہ اتنا ہی زور سے نیچے گرتا ہے۔
سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کے تکبر غرور سے ہی وہ سبق سیکھ لیں جو کسی دور میں دن میں چار چار ٹی وی چینل پر بھڑکیں مارتے تھے، ٹی وی اینکرز نے ریٹینگز لینی ہوتی تو شیخ رشید کے ترلے ہوتے کہ انٹرویو دے دیں۔ پچھلے دنوں وہ پنڈی میں روتے ہوئے دیکھے گئے کہ اب انہیں ملنے کوئی نہیں آتا۔
گارشیا کا ناولٹ یاد آتا ہے
No One Writes To Colonel
اب وہ کبھی کبھار دیگ پکا کر لنگر بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
آپ سے بہتر کون جانتا ہے جمالیاتی حسن کی بھی انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے مسلسل سریا سمینٹ اور کھدائی کی نہیں۔ہمارا اسلام آباد اس وقت محسن نقوی کے کلہاڑے اور لاڈلے ٹھیکداروں کی زد میں ہے،اسے بچانے کے لیے آپ کے جادو بھرے میٹھے لیکن firm الفاظ کی ہمیں مدد درکار ہے۔ شاید آپ کی بات اثر کر جائے۔ہمارا شہر محسن نقوی اور رندھاوا سے بچانے میں مدد دیں۔
شہر اور انسانی تہذیب ایک دفعہ اجڑ جائیں تو پھر وہاں گلہڑیاں راج کرتی ہیں۔
موجودہ دور کے “ونڈر بوائے” محسن نقوی کو رومن بادشاہ نیرو کی کہانی سنائیں۔ وہ اسلام آباد کے لیے نیرو کا کردار ادا نہ کریں۔ جس رات روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ تاریخ نے آج تک روم اجاڑنے پر معاف نہیں کیا۔ روم بننے میں سینکڑوں برس لگے تھے لیکن اجڑ ایک رات میں گیا تھا۔
آداب
رئوف کلاسرا /مقیم اسلام آباد
@CMShehbaz@PakPMO@AbsarAlamHaider@CDAthecapital@RandhawaAli@MohsinnaqviC42@BilalAKayani@BilalAKayani@PalwashaKhan18@sherryrehman@DrTariqFazal@betterpakistan@MIshaqDar50@OfficialDGISPR
ستم زدہ مری کی داستان !
تحریر/ادریس عباسی
کل سوشل میڈیا پہ اشتہار نما خبر دیکھی،جس میں مری کے مضافات میں دو سو کنال رقبہ پہ ایک اور فائیو سٹار ہوٹل اور اپارٹمنٹس پروجیکٹ کی تعمیر کی 'خوشخبری' سنی۔دل سے پھر ایک آہ نکلی!
پاکستان میں چند ہی مقامات ہیں جو قدرتی طور پر ضلع مری کی طرح دلفریب ہیں ۔ یہ حسن اپنی جگہ لیکن کبھی خوبصورتی کی علامت یہ کہسار اب زخم خوردہ ہیں اور عرصہ دراز سے موقع پرستوں اور سرمایہ کاروں کی ستم ظریفیوں کا شکار ہیں۔کبھی اس خطے کی چوٹیاں اور وادیاں دیار،چیڑھ اور کیل کے جنگلات سے ڈھکی ہوتی تھیں اور سبز سمندر کی مانند لہراتی تھیں، بادل جو ان چوٹیوں کے دامن میں بسیرا کر کے جب چھٹتے تھے تو ہر سو پھیلا شاداب سبزہ آنکھوں کو تر کرتا تھا۔ جو مسافر پہلی بار اسے دور سے دیکھتے ، وہ عموماً انگشت بدنداں ہوتے۔
مری کی اصل پہچان اس کی وہ تاریخ تھی جو آج بھی کہیں کہیں سسک رہی ہے۔ ٹرینٹی چرچ ، مال روڈ مری پر شام ڈھلے ٹہلتے خاندان، جی پی او مری کے سامنے لگے خطوط اور پوسٹ کارڈز، اور سیسل ہوٹل مری کی بالکونیوں سے نظر آتا دھند میں لپٹا پہاڑی منظر،یہ سب مری کی اجتماعی یادداشت کا حصہ تھے۔ یہ محض عمارتیں نہیں تھیں بلکہ ایک تہذیبی تسلسل، ایک سلیقہ، اور انسان و فطرت کے درمیان قائم ایک خاموش معاہدہ تھیں۔ یہاں سیاح آتے تو شور مچانے نہیں، خود کو دھند، خاموشی اور سبزہ کے سپرد کرنے آتے تھے۔ آج انہی مقامات کے اردگرد بے ہنگم شور، بدنما تعمیرات اور تجارتی ہوس نے اس تاریخی رومان کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے، اور مری کی روح آہستہ آہستہ کنکریٹ تلے دفن ہوتی جا رہی ہے۔
انگریز دور میں جبر تھا مگر قانون تھا ۔ پھر آزادی ملی،تقریبا" تین دہائیوں تک تو عمارات کی تعمیر کے لئے انگریز کا ہی ماسٹر پلان رائج رہا مگر پھر کبھی آمریت اور کبھی نام نہاد پارلیمانی اور بلدیاتی نظام کے نابغہ کرداروں نے مری اور اس کی ملحقہ تحصیلوں کو تقدیر کے ہاتھوں رلنے دیا۔ مگر یہ تقدیر تھی، نہ جغرافیائی حالات ، اور نہ ہی کوئی حادثہ ،بلکہ رہنماؤں کی نا اہلیت تھی کہ پہاڑ ان کے سامنے کنکریٹ کے جنگل بنتے چلے گئے۔ ظلم یہ ہوا کہ یہاں کے قدیم روایتوں کے امین باسی جو قدرتی طور پر باصلاحیت، امن پسند، اور اپنے مٹی سے جڑے ہوئے تھے، ان کو آبائی زمین غیروں کو بیچنے کی راہ پہ لگا دیا گیا اور وراثت بکتی چلی گئی۔
مری کے بچوں کو علم،سائنس&ہنر کی طرف راغب کرنے کے بجائے پراپرٹی ڈیلری ہوٹل مافیا اور ٹھیکیداری کے نظام میں دھکیل دیاگیا،اور مری کی انتظامیہ نے ٹاؤن پلاننگ ،قدرتی پانی کی عدم دستیابی اور گرین ٹورزم کے اصولوں کو نظر انداز کر کےہنگم شہری پھیلاؤ کی مجرمانہ معاونت کی۔
برائیڈل پاتھ جس پہ کبھی گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دیتی تھی ،اب بے ہنگم کنکریٹ کی سڑکیں بن گئےاور ان کے اطراف کثیر المنزلہ پلازے کھڑے کر دیے گئے۔ اور یہ کسی ایک طرف نہ ہوا بلکہ مری شہر سے بھوربن,گلیات اور پنڈی جانے والی تمام شاہراہوں کے اردگرد ہوا۔ آج وفاقی دارالحکومت سے باہر نکلیں تو پرانی مری روڈ اور نئی ایکسپریس وے پہ واقع دائیں بائیں تمام پہاڑیاں کٹی پھٹی نظر آتی ہیں۔حتی کہ کوٹلی ستیاں کے جنگلات بھی محفوظ نہ رہے۔
مری کو پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہونا چاہیے تھا، انسان اور قدرت کے درمیان ہم آہنگی کی بہترین نمائش کے ساتھ۔مگر اس کی بجائے، اسے ترقی کے نام پہ ایک بدصورت حسینہ میں تبدیل کر دیا گیا ۔یہ سب سلم ڈاگ ملینیئر Slumdog Millionaire فلم کے ایک کے منظرنامے سے زیادہ کچھ نہیں لگتا، جو انڈیا کی کچی آبادیوں Slums پہ بنائ گئی تھی۔ وہ فلم جو دنیا بھارت کی جھگیوں والی آبادی دکھاتی ہے، مری کے زیادہ تر بنائے گئے بازار، ان کی بھیڑ بھاڑ ، اور بے ترتیب رہائشی راستوں سے گذرنے کے دوران ذہن میں آتی ہے۔
میرے ذہن سے وہ یادیں محو نہیں ہو رہیں جب جی ٹی ایس کے بس اڈے سے کشمیری ہاتو ایک پتلی چڑھائ چڑھتی سڑک پہ سامان اٹھا کے مال روڈ تک پہنچاتے تھے۔اب اس سڑک کے اطراف گھبرو پٹھانوں کی دوکانوں کا راجہ بازار ہے۔
1992 میں سوئس کمپنی نے مری کا ارضیاتی سروے کیا اور قرار دیا کہ ہر سال مری کے پہاڑ قدرتی شکست و ریخت،موسمیاتی اثرات اور عمارتی بوجھ تلے دب کر اوسطاً دو انچ بیٹھ رہے ہیں۔مری کے پہاڑ خاموشی سے اپنے اوپر ستم ہوتے ہوئے دیکھتے رہ گئے۔اندازہ کر لیں گزشتہ 33 سالوں میں یہ پہاڑ کتنے پستہ قد ہو چکے ہوں گے۔
مری نے جو کچھ برداشت کیا وہ صرف ناقص انتظامیہ اور لیڈرشپ کی ناہلیت کی اعلی مثال ہی نہیں یہ ریاستی جرم بھی ہے۔
پانی کے چشمے محدود اور خشک ہو رہے ہیں،اگر مری میں مشروم گروتھ روکی نہ گئی تو بالآخر کراچی ٹینکر اور واٹر مافیا وجود میں آ جائے گا۔مگر کوتاہ نظر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے اتنی بالغ نظری کی امید نہیں۔مری ویسے بھی بڑی کمائی کا سٹیشن سمجھا جاتا ہے۔
ن لیگ کے حامی صحافیوں کو نگران وزیر اعظم کے حق میں بھی ان کی خوشامد اور چاپلوسی والے ٹویٹس اور ری ٹویٹس کرنے پڑ رہے ہیں،
درباریوں بیچاروں کا بہت ہی مشکل کام ہے
@SKhaqanAbbasi محترم عباسی صاحب ،آپ نے تو پینیس برس بعد ناقص نظام کا بہانہ لگا کے اپنے آپ کو پوتر کرنے کی کوشش کی ہے،اور ہم مظلوم عوام کو آپ اتنے سال ٹرک کی بتی پیچھے لگا کے اب نیا بھاشن دے رہے ہیں،آپ تو تر جائیں لیکن یہ بتائیے ہماری بربادشدہ تین دہائیاں ہمیں کون لوٹائے گا؟؟ ا
@CDAthecapital@dcislamabad@ICT_Police
Park Road construction work is very slow. We, residents of Bahria Enclave,specially students, patients, office workers, facing traffic hazards all the time but in morning & evening due to mis-mgmt of all stakeholders. Pl expedite work.
Sirs,
On Behalf of residents of Bahria Enclave, Bani Gala & others are facing acute problems during morning /evening due to traffic blockage/ dust. Road construction work is very slow. It must be in three shifts to complete the timeline. @CDAthecapital@ChiefCommISB@PakPMO
حکومت چاہتی تو کل رات کو قیمتیں بڑھا سکتی تھی لیکن بڑے میاں صاحب کو عوام کی بہت فکر تھی، انہوں نے کہا کہ اگر رات کو اعلان کیا تولوگ سوئیں گےکیسے؟💔😢
پھر فیصلہ کیا گیا جب صبح 4 بجے سونے والے بھی نیند پوری کرکے جاگ جائیں تو اعلان کیا جائے،
اس احساس کا شکریہ میاں صاحب 🙏
@munawar_satti1@MashwaniAzhar مرتضیٰ ستی صاحب کو پہلے علم نہیں تھا کہ ان کو ٹکٹ نہیں ملنے والا؟ وہ کیوں پی ٹی آئ کے ٹرک پہ چڑھے رہے ہیں ؟اب اچھا لگے گا وہ اپنے دیرینہ رفیق کرنل شبیر کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔ جب سے پیپلز پارٹی چھوڑی ہے،ستی صاحب راندہ درگا ہو گئے ہیں ۔افسوس ہوتا ہے ان کی سیاسی حکمت عملی دیکھ کر۔
آپ عمران خان کی سیاست میں سے ایک سو ایک یوٹرن تلاش کرکے انہیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ابن الوقت قرار دے سکتے ہیں لیکن عمران خان کے مخالف سیاسی اتحاد کا صرف ایک یوٹرن ان کی سیاست کے لئے ڈیتھ وارنٹ بن چکا ہے۔ وہ آئین اور جمہوریت دونوں سے بھاگ چکے ہیں https://t.co/85aEgcIBCE