شمالی وزیرستان/ تحصیل شیواہ ٹنڈی گاؤں واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز ہمارے گھر میں گھس آئیں اور ہمارے دو کزنز ارشاد اور ذاکر جو کہ سٹوڈنٹس ہیں، کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ابھی تک ہمارے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ دہشتگردوں کو ڈھونڈ نکالیں 🤔
فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔
اعلیٰ حکام نوٹس لیں
قادیانی، اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کو ماننے کے باوجود مسلمان کیوں نہیں کہلوا سکتے؟
ایک یہودی کا مولانا زاہد الراشدی صاحب سے سوال
آپ یہ وڈیو دیکھ لیں۔ آپ کو کئی کتابیں پڑھ کر بھی وہ علم نہیں ملے گا جو اس بیان میں موجود ہے۔
خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔
اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟
میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔
اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔
تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔
آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔
اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔
جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔
تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔
#عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور
1988 کا Ptv خبر نامہ دیکھیے! جب قائدجمعیۃ مولانا فضل الرحمان صاحب بحیثیتِ مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیۃ علماء اسلام اس وقت کے وزیراعظم پاکستان محمد خان جونیجو کی دعوت پر منعقدہ ”قومی کانفرنس برائے پاک افغان تعلقات“ میں شریک ہوئے۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا#قابض_چوکیدار
آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔
آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔
سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
8 فروری 2024 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بیٹے، اسد محمود، تقریباً 5 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت رہے تھے، مگر فارم 47 کے ذریعے انہیں ہرا کر یہ نشست تحریک انصاف کے امیدوار کو دے دی گئی۔
وہ شخص کون تھا جس نے مولانا کے بیٹے کی جیتی ہوئی نشست تحریکِ انصاف کے ہارے ہوئے امیدوار کو دی؟ اس شخص کو قوم کے سامنے لاناچاہئے
خیبر پختونخوا میں کئی ایسی نشستیں تھیں جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار جیت رہے تھے، مگر مبینہ بدترین دھاندلی کے ذریعے وہ نشستیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دے دی گئیں
نوٹ 2018 اور 2024 کے الیکشن نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کے بھی بدترین الیکشن تھے اس طرح کے الیکشن ہوتے رہے تو اگلے 78 سال بھی پاکستان IMF اور عرب ممالک کے قرضوں کے سہارے چلے گا
جب تک عوام کے فیصلوں کا احترام نہیں کیا جاتا یہ ملک کبھی آگے نہیں جا سکتا
آنکھیں کھولنے کیلئے ایک واقعہ سناتا ہو۔!!!
آج جمعیت علماء اسلام کے پانچ گروپ بن چکے ہیں اگرچہ باقی گروپ اسمبلی کی کوئی سیٹ جیت سکتے ہیں اور نہ ہی سینٹ کی، یہاں پہنچ کر ایک واقعہ قارئین کی آنکھیں کھولنے کیلئے پیش کرتا ہوں تاکہ وہ بھی حالات سے باخبر رہیں۔
یہ واقعہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رولپنڈی کے ذمہ دار کارکن قاری عبدالمالک صاحب سناتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ایم آر ڈی کی تین سالہ قید و بند کی سزائیں بھگتنے کے بعد جب ہم راولپنڈی پہنچے تو ہمارا جیل کا ساتھی جو انٹیلی جنس کا تھا وہ ہمارے ساتھ ماریں کھاتا تھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا آج میں آپ سے دوٹوک فیصلہ کرانے آیا ہوں۔ میرا ایک معمولی سا مطالبہ ہے اگر آپ پورا کریں تو آپ کو مندرجہ ذیل سہولیات ملیں گی:-
1- جتنی بڑی سے بڑی مسجد چاہے بنالو خرچہ ہم دیں گے۔
2۔جتنا بڑے سے بڑا مدرسہ چاہو بنالو خرچہ ہم دیں گے۔
3- رہائش کے لیے سٹیلائٹ ٹاؤن کی جس کوٹھی پر ہاتھ رکھو آپ کو مل جائے گی۔
4۔ جیب خرچ کے لیے 25 لاکھ روپے ملیں گے۔
5-شوفر ڈرِون کار آپ کو ملے گی۔ کار آپ کی ملکیت ہوگی تیل اور ڈرائیور کا خرچہ بھی ہم دیں گے۔
میں نے کہا ارے بے ایمان! تو میرا ایمان لینا چاہتا ہے جو اتنی بڑی پیشکش کر رہا ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں! میرا معمولی سے مطالبہ ہے جب تم سنو گے تو ہنس پڑو گے۔ میں کہا اچھا بتاؤ کیا مطالبہ ہے؟ اس نے کہا ایک انٹرنیشنل پریس کانفرنس کا انتظام ہم کرتے ہیں آپ اپنے چند مولویوں کو بٹھا کر ایک بیان دو۔ اگر مولوی نہیں ملتے تو چھلیاں بیچنے والے پٹھانوں کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنا کر اپنے ساتھ بٹھاؤ، ان کو بھی سات لاکھ روپے ہم دیں گے۔ آپ یہ بیان دیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب بہت اچھے آدمی ہیں لیکن اسلام کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ میں آج J.U.I قاری عبدالمالک گروپ کا اعلان کرتا ہوں۔ بس اتنی سی بات ہے اگر آپ راضی ہیں تو آؤ قطر کا سفیر یہ انعام و اکرام دینے کے لیے آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ میں نے کہا قطر کا سفیر مجھے کیسے جانتا ہے؟ اس نے کہا اس بات کو چھوڑو تم میرے ساتھ چلو جو وعدہ کیا ہے میں آپ کو پورا کرکے دکھاتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے اسے کہا کہ معذرت خواہ ہوں۔ فضل الرحمن ہمارا لیڈر ہے میں زندہ ہوں تب بھی اسی کے ساتھ رہوں گا اور مرجاؤں تو بھی اسی کی جماعت میں میری موت آئے گی۔ اس طرح وہ مایوس ہوکر چلا گیا
#مولانا_شان_پاکستان
#مولانا_سے_معافی_مانگو
اپنی سمجھدانی کا علاج کرو ہم نے ٹھیک بات کہی ہے، کامران مرتضیٰ ان ایکشن
مولانا کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے
ہمت کریں مولانا کی پوری تقریر میڈیا پر چلائیں قوم فیصلہ کرے گی
ہم اپنے کہنے کے ذمہ دار ہیں تمہارے سمجھنے کے نہیں
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی گفتگو
بہت سے ارسطو کہہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان اسی اسمبلی سے تنخواہ لے رہے ہیں اور اسی پر تنقید کر رہے ہیں، رؤف کلاسرا صاحب نے بھی کالم لکھا اس عنوان پر، اب بندہ پوچھے کہ وکلاء یہاں تک کے ججز بھی جب سیمینارز میں تقریر کرتے ہیں تو جوڈیشل سسٹم پر تنقید کرتے ہیں تو کیا وہ وہاں سے تنخواہ نہیں لے رہے؟ صحافی حضرات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں کیا وہ تنخواہ نہیں لے رہے؟ اسی طرح کی میں درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں، آپ کیا چاہتے ہیں یہاں زبان پر تالے پڑ جائیں، کیا یہ جمہوری روایات اور اظہار رائے کی آزادی کیخلاف نہیں کہ بندہ پارلیمنٹ میں گردن جھکا کے بیٹھا رہے چاہے ملک میں جو تماشہ بھی لگا ہو، باقی جو تنقید نہیں کر رہے وہ مکمل حلال کھا رہے ہیں؟ مولانا فضل الرحمان صرف پارلیمنٹ پر تنقید نہیں کرتے وہ ہر ادارے پر کرتے ہیں، بلوچستان، کشمیر، خیبرپختونخوا کے معاملات سمیت ہر معاملے پر بات کرتے ہیں، کیا ایک اچھے پارلیمنٹیرین کی یہ کوالٹی نہیں ہے؟ تنخواہ تو مولانا پہلے بھی پارلمنٹ سے لے رہے تھے لیکن کسی ارسطو کو پہلے خیال نہیں آیا، میں ہمیشہ کہتا ہوں بغض عقل کو کھا جاتا ہے