تین قوانین بنائیں،حکومت سے تنخواہ لینے والا شخص،اسکے بچے اور والدین سرکاری ہسپتال میں علاج کروائیں گے،پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریگا اور سرکاری سکولز میں اسکے بچے پڑھیں گے،پھر آپ دیکھیں سرکاری ہسپتال،سرکاری سکولز اور پبلک ٹرانسپورٹ سب ٹھیک ہوجائیں گے:پرویز رشید کی تجویز
معروف یوٹیوبر خضر عمر لیہ شہر مین جاری ترقیاتی کاموں اور شہر میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بلا شبہ اس حقیقت کی عکاسی کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی حکومت میں لیہ بدل رہا
🚨🚨 باوثوق ذرائع کے مطابق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اکتوبر یا نومبر میں بھارت کا دورہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد بھارتی قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت دووال سے ملاقات کرنا ہے۔ 🇮🇳
ذرائع کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن متوقع طور پر دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے بہانے یہ دورہ کریں گے۔
تاہم، موصولہ اطلاعات کے مطابق، مذکورہ مذہبی سرگرمی مبینہ طور پر محض ایک بہانہ ہے، جبکہ اس دورے کا اصل مقصد اجیت ڈووال سے ملاقات کرنا ہے۔
پٹواری بھی بہت سیلیکٹڈ تنقید کرتے ہیں
پنجاب میں چار دہائیوں سے ساتھ دینے والے ، ماریں کھانے والے، نظام کو سمجھنے والے ساتھیوں کو سائیڈ پر کرکے (یا کروا کے) میاں صاحب نے اپنی ٹوٹل ناتجربہ کار اور بےصلاحیت بیٹی کو پورے صوبے کی ملکہ بنا دیا ۔
کوئی نہیں بولا۔
کشمیر میں میاں صاحب نے اپنی مرضی کا بندہ انسٹال کر دیا تو سیاپا ڈال رکھا ہے۔
او بھائی مان لو جنکو آپ پارٹی لیڈر کہتے ہو وہ پارٹی مالکان ہیں ۔
جمہوریت ، ورکر وغیرہ وغیرہ خیالی باتیں ہیں
باتیں ساری ٹھیک کی ہیں آپ نے ۔ متفق ہوں ۔ اس میں دو تین نقات اور شامل کر لیں ۔ بندے اکھٹے نہ ہونے پر طاہر القادری کا سہارا نہ لینا، اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے دہشتگردوں کی حمایت نہ کرنا ۔ مذہب کارڈ نہ کھیلنا ۔ بیرونی دشمن کیخلاف ریاست اور فوج کیساتھ کھڑے ہونا۔ خارجہ پالیسی پر عوامی نمائندوں کا مکمل کنٹرول ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اگر یہی پمز والا سانحہ عمران خان دور حکومت میں ہوتا، میاں نواز شریف اڈیالہ میں ہوتے تو عمران ریاض اور تحریک انصاف کے یوٹیوبرز کیا بیانیہ بناتے؟
"پمز ہسپتال میں نواز شریف کے سپورٹر نے آگ لگوائی ہے تاکہ میاں نواز شریف کو اڈیالہ سے پمز کی بجائے شفا ہسپتال شفٹ کیا جائے۔"
ٹی وی چینلز کے مالکان کے علاوہ صحافیوں کے بھی ذاتی نجی ہسپتال ہیں، ایک ہسپتال کی ملکیت میں تو جناب صابر شاکر اور جناب سامی ابراہام بھی شراکت دار ہیں، اس لئے سرکاری ہسپتال کی بری حالت تو ہے ہی لیکن شدید بری دکھانے میں ہمارے نجی میڈیا کو بھی دخل ہے۔
ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے
پمز یا دیگر سرکاری ہسپتالوں میں حادثاتی طور پر بھڑکنے والی آگ کو بر وقت بُجھانے کے لئے سہُولتیں فراہم کرنے کے لئے کبھی کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوا ہوگا لیکن آعلی افسران اور ججوں کی تنخواؤں میں ہر سال اضاضہ ہوتا ہے، ہر سال نئی مہنگی گاڑیاں ، ہیلی کاپٹرز اور جہاز لئے جاتے ہیں ۔ کیا عوام کبھی بھی اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف نہیں نکلے گی؟؟؟؟
جب خود ملک میں موجود تھے تو ویل چئیر پر آکسیجن لگوائے بولنے سے عاری تھے اور جب ملک سے باہر گئے تو دوسروں کو آزادی کیلئے موت کا لیکچر دے رہے ہیں
اطہر من اللہ صاحب آپکی منڈی کا انمول ہیرا
سٹوڈنٹ لائف میں ہمیشہ آپ کو سب سے برے وہ اساتذہ لگتے ہیں جو ایمان داری سے اپنی نوکری کرتے ہیں اور آپ کو پڑھانے میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔
سب سے اچھے وہ اساتذہ لگتے ہیں جو پڑھائی نہیں کرواتے اور کلاس میں کہانیاں سناتے ہیں۔
جب پروفیشنل زندگی میں آئے ہیں تب سمجھ لگتی ہے کہ مخلص کون تھا