چھوٹے صوبے بنانا بڑے فائدے کی بات ہے۔ جیسے جیسے شریف اور زرداری خاندان کے چشم و چراغ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے حقِ حکمرانی کی ونڈ صحیح طریقے سے نہیں ہو پا رہی۔ حمزہ شہباز، جنید صفدر، چھوٹی مریم، اپنا بلاول، آصفہ زرداری، بختاور زرداری، بختاور کے تین عدد چھوٹے چھوٹے، گل گوتھنے، تھن متھنے 😍 چوہدری بھٹو زرداری ۔۔۔۔ ان سب کے لئے علیحدہ علیحدہ صوبے کی ضرورت ہے جسے وہ وہاں کا چیف منسٹر بن کر چلا سکیں۔ بزرگ فرما گئے ہیں کہ مل بانٹ کر کھانے میں برکت ہوتی ہے، قبض بھی نہیں ہوتی!
نواز شریف کے پاس ووٹ بچا کون سا ہے جس کی عزت کے لیے اب پانی پت کی جنگ لڑی جائے گی؟ نواز شریف کا سارا انقلاب لاہور کا ایک حلقہ کھولنے کی دیر ہے دودھ کی جاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ لڑتے وہ ہیں جن کے اصول ہوتے ہیں جنہوں نے وصولی کرنی ہو ان کے کیا اصول ؟
اب آتے ہیں ایک سنجیدہ تجزیے کی طرف۔
میری رائے میں، ’’کمپنی‘‘ کئی برسوں سے 1973ء کے آئین کو ختم یا بے اثر کرکے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم ناکام ہوچکی ہیں اور اب سسٹم کے بیٹھ جانے کا اعتراف کیا جارہا ہے، تو میرے نزدیک یہ درست تجزیہ نہیں۔ ایک فلم کا مشہور ڈائیلاگ ہے: ’’ایوری تھنگ از پلانڈ۔‘‘ یعنی سب کچھ منصوبے کے مطابق ہورہا ہے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اصل ہدف کی طرف بڑھنے میں محض مددگار مراحل تھیں؛ یہ کبھی بھی ان کا حتمی حل نہیں تھیں۔ نیا آئینی نظام لانے سے پہلے عدلیہ کے دانت نکالنا ضروری سمجھا گیا، کیونکہ ایک آزاد اور طاقت ور عدلیہ کسی بھی متنازع آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی تھی۔ جب عدلیہ کو بڑی حد تک بے اثر کردیا گیا تو اس کے بعد چھوٹے صوبے بنانے کا منصوبہ سامنے لایا گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر 28ویں آئینی ترمیم میں نئے اور چھوٹے صوبوں کا معاملہ شامل ہوگا۔ جب صوبوں کی تعداد اور حدود تبدیل ہوں گی تو صوبوں کے درمیان وسائل اور مالی حصے کی تقسیم بھی نئے سرے سے طے کرنا پڑے گی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ اپنا حصہ بھرپور طریقے سے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، 28ویں ترمیم بھی ان کا آخری ہدف نہیں ہوگی۔
اصل منصوبہ صدارتی نظام یا کسی قسم کے سنگل پارٹی رول کے قیام کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ تصور ان کے ذہنوں میں کئی برسوں سے موجود ہے اور اب معاملات آہستہ آہستہ اسی سمت لے جائے جارہے ہیں۔ سیاست دانوں کو نااہل، بدعنوان اور ناکام ثابت کرنے کا منظم عمل 2008ء میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ اسی دوران مستقبل کے مراحل کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی گئی تھی۔
قاضی کو بھی اسی مقصد کے تحت اچانک اٹھا کر ہائی کورٹ کا سربراہ بنایا گیا۔ میرے تجزیے کے مطابق، انہیں پہلے دن سے اس پورے منصوبے میں ایک مخصوص کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حصے کا کام پوری طرح انجام دیا۔ اگر ’’کمپنی‘‘ کے اختیار میں ہوتا تو شاید قاضی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ حیدر بھی دے دیتی۔
ان کے لیے اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب عمران خان کو راندۂ درگاہ قرار دیا گیا، لیکن عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ توقع یہ تھی کہ عوام عمران خان کو بھی باقی سیاست دانوں جیسا سمجھ کر مسترد کردیں گے، مگر اس کے برعکس لوگوں نے انہیں تبدیلی، مزاحمت اور آزادی کا استعارہ بنادیا۔
اسی لمحے سے عمران خان کے خلاف ایسے جبر کا آغاز ہوا جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان اور عوام نے اس بیانیے کو تہس نہس کردیا تھا کہ تمام سیاست دان ایک جیسے ہیں اور صرف طاقت ور ادارے ہی ملک کے وفادار اور اہل محافظ ہیں۔
جب یہ بیانیہ ناکام ہوگیا تو اس کا جواب بے مثال جبر، خوف، گرفتاریوں اور قتل و غارت کی صورت میں دیا گیا۔ اب کوشش یہ ہے کہ اگلی تمام منازل بھی اسی جبر اور خوف کے سائے میں طے کرلی جائیں۔ جو شخص اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا تھا، اسے اٹھا کر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔
اسی لیے ان کی ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری کوشش کی بھرپور مزاحمت ضروری ہے۔ یہ جو کچھ بھی کررہے ہیں، اس کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس پورے منصوبے کا نتیجہ، بالآخر، پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اگر گولی کے مقابل آپ کے پاس صرف سینے ہیں تو انہیں چھلنی کرنے میں کوئی ضمیر کوئی اصول انہیں نہیں روک سکتا۔
دو ہی حل ہیں
یا تو ان سے گولی چلانے کا حوصلہ چھین لیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ گھر میں کوئی نہ رہے۔ سب باہر ہوں
یا
انہیں یہ خوف دلا دیں کہ طاقت کا جواب وحشیانہ اور طاقت کے ٹارگٹڈ استعمال سے آئے گا
اس کے علاؤہ ایک ہی حل بچتا ہے ۔ رینگتے ہوئے مر جائیں یہی آپ کا نصیب ہے
عمران خان کا کوئی سیاسی جانشین نہیں ہے۔ عمران خان کے بیٹے جانشین نہیں ہیں، عمران خان کی بیوی جانشین نہیں ہے، عمران خان کی بہنیں جانشین نہیں اور نہ ہی چار سال سے منظر عام سے غائب مراد سعید جانشین ہے۔
اس بات میں کسی کو ایک فیصد بھی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ جانشینی بادشاہت میں ہوتی ہے اور عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد موروثی سیاست کے خلاف رکھی تھی۔
اللہ عمران خان کو زندگی اور صحت و تندرستی دے۔ عمران خان کے مزار کا مجاور بن کر سیاست چمکانے کا کسی کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ عمران خان کے ورکرز اور سپورٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ کس نے مشکل وقت میں عمران خان کا سب سے زیادہ ساتھ نبھایا اور کون اس زمہ داری کا بوجھ اٹھانے نے قابل ہے۔ لاشیں نوچنے والے گِدھوں کی طرح
جانشینی کی بےہودہ بحث بجائے عمران خان کی رہائی پر فوکس کیا جائے جو تین سال سے قید ناحق میں ہے۔