*معاشرے کو تیزاب سے غسل کی ضرورت ھے۔*😢
ایک شادی پر جانا ھوا، ھال کے ایک کونے پر اک جان پہچان والے شخص پر نظر پڑی جو اکیلا بیٹھا تھا. اس کے ساتھ جاکر میں بھی بیٹھ گیا. بڑی گرمجوشی سے ملا وہ شخص-
اس کا گاڑیوں کے پرزے اور انجن آئل وغیرہ کا کام ہے-
حال احوال پوچھنے کے بعد وہی عام طور پر کی جانے والی باتیں شروع ھوگئیں یعنی مہنگائی اور کاروباری مندے کا رونا.
کہنے لگا آج کل کام کوئی نہیں چل رھا- ابھی پرسوں کی بات ھے، اک بندے نے گاڑی کا آئل تبدیل کروایا- پچیس (2500) سو بل بنا- اس نے پیسے دیئے اور چلا گیا... بعد میں پتا چلا کہ اک ہزار کا نوٹ جعلی دے
گیا...
اوہ... میرے منہ سے نکلا، پھر--؟
پھر کیا.... بڑی گالیاں نکالی اسے- پتا نھیں کون تھا- پہلی بار آیا تھا- وہ تو شکر ھے میں نے *آئل"جعلی" ڈالا اس کی گاڑی میں* ورنہ میں تو مارا جاتا.
اس دوران “کھانا کھل گیا” کا نعرہ لگا اور پورے ھال میں گویا بھونچال آگیا. وہ مرغ قورمے کا ڈھیر پلیٹ میں لئے فاتحانہ انداز لیے واپس آیا- میں سمجھا شاید میرے لئے بھی لے آیا کھانا-
کہنے لگا، *پاجی, لے آو آپ بھی- بعد میں شادی ھال والے خراب کھانا دینا شروع کر دیتے ھیں.
میں اٹھا اور بریانی لے کر واپس آگیا- اس سے پوچھا، اس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کیا تم نے-
کرنا کیا ھے لڑکے والوں نے شادی پر بلایا ھے. دلہے کے والد کو سلامی میں دے دیا وہ.
اور میز کے نیچے چھپائی چار بوتلوں سے ایک نکال کر دو گھونٹ میں خالی کی. چھ سیکنڈ دورانیے کا لمبا ڈکار لینے کے بعد دونوں ھات جوڑے. عقیدت سے آنکھیں بند کی اور بولا....
*شکر الحمد للہ* تحریر @AxeWeapon
منتخب نمائندوں کے اغوا، ووٹوں کی خریداری، دھونس دھاندلی سے میئر کراچی کا الیکشن آئین و جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر جمہوریت کو اس طر�� مسلسل مذاق بنایا جائے گا تو اس پر لوگوں کا رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔
الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کی ملی بھگت بھی واضح ہے، بلدیاتی اور میئر الیکشن میں اس نے سندھ حکومت کے طفیلی ادارے کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ شفاف قومی انتخابات کےلیے الیکشن کمیشن نے اپنی وقعت کھو دی ہے۔
یوتھیے ریاست پاکستان کے خلاف عملا حالت جنگ میں ہیں۔ اس جنگ کا میدان انتہائی وسیع ہے یہ کور کمانڈر ہائوس کو نذر آتش کرنے سے لیکر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ واق��ہ عمران نیازی کے دور میں کوئٹہ کے ایک تھانے میں پیش آیا تشدد کرنے والے سب انسپکٹر کو آئی جی پنجاب بنا دیا۔
جب تک ریاست پاکستان کے اس باغی گروہ کے سرغنہ کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
چلیں فرض کیا
فارمولہ کامیاب ہو گیا
۔۔
جہانگیر ترین کنگز پارٹی بن گئی ، باقی سیٹیں پیپلزپارٹی میں ایڈجسٹ ہو گئیں ، ن لیگ کو کہہ دیا 5 سال سائیڈ ہو جاؤ اور اپنے کیسز ختم ہونے پر صبر شکر کرو،
بھان متی کا کنبہ جڑ گیا اور نیا ڈمی وزیراعظم آ گیا
۔۔
مگر اس نئے سیٹ اپ اور موجودہ سیٹ اپ میں ایسی کونسی گدڑ سنگھی ایڈجسٹ ہوگی
جس سے
پاکستان کی دن بدن ڈوبتی اکانومی ، دلدل میں پھنسی بزنس کمیونٹی ، انٹرنیشنل لیول پر پھیلی بدگمانی اور بدترین ساکھ ، بےروزگاری ، تاریخ کی بلند ترین مہنگائی ، ڈالر کی تاریخی اڑان ، عوام کی اپنی ہی ریاست پر غیراعتمادی ، بیرون ملک پاکستانیوں کی ��کمل مایوسی ، پاکستان سے بھاگتی ہوئی ملٹی نیشنل کمپنیز اور سرمایہ کاری کی بندش
واپس بحال ہو جائے گی ؟؟
۔۔
“کسی کو سمجھ آ جائے تو مجھے بھی سمجھا دے”