مولانا فضل الرحمن صاحب کی آج پشاور ورکرز کنونشن کی تقریر کے بعد “انہوں نے” اپنی منسلک میڈیا ٹیم، چینلز اور اپنے “بےنامی یوٹیوب چینلز” کو مولانا صاحب کی کردارکشی کی ھدایات جاری کردی ھیں، پھر گھسی پٹی کہانیاں دھرائی جائینگی پھر گھسے پٹے الزامات لگائے جائینگے پھر گالیاں دی جائینگی پھر مخصوص چہرے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ مولانا صاحب کی کردارکشی کے لیے میدان میں اترینگے لیکن اللہ کے فضل سے جمعیت علماءاسلام کے تمام کارکنوں نے پہلے بھی آپ کا وار ناکام بنایا تھا ان شاءاللہ اب بھی اپنی جماعت اور قائد کے دفاع کے لیے تیار ھیں، اگر آغاز آپ کرینگے تو اختتام ھم کرینگے ان شاءاللہ۔
صوبے بنانے اور نظام کے collapse ھونے کی بات اتنی چھوٹی نہیں کہ اگر واقعی یہ کرنا ھوتا تو وہ ایسے انداز اور ایسی شخصیت سےکروائی جاتی جس سے اسکا impact ڈاؤن سائز ھو۔
یہ خواھش مشرف کے زمانے سے موجود ھے لیکن اس وقت نہ اسکے لیے سیاسی حالات سازگار ھیں نہ معاشی حالات، نہ امن وامان اس قابل ھے نہ عوام میں اسکی قبولیت ھے اور نہ ھی صوبے اسکو قبول کررھے ھیں، اس لیے اس کو اصل حالات سے توجہ ھٹانے کے علاوہ کچھ زیادہ کہنا شاید تجزیاتی طور پر درست نہ ھو۔
#MaulanaInQuetta
#صوبےنہیں_امن_دو
#عوامی_قوت_جمعیت
#آئین_کےمحافظ_مولانا
#نااہل_حکمران_مفلوج_نظام
کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی اپنی ہی نہتی عوام پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
آج کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے۔حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ مولانا فضل الرحمان
کیا عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ؟ مولانا فضل الرحمان
ہم نے کوشش کی کہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچے لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ مولانا فضل الرحمان
آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا ۔مولانا فضل الرحمان
ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے ،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے ۔مولانا فضل الرحمان
اس ظلم وبربریت کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگوہیں اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
کسی نامعلوم شاعر کے اشعار میں اپنی مرضی کی ترامیم کرتے ھوئے۔😊
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریہ دیکھ کر سوئی کو بھی تلوار کہتے ھیں
ھم ھی مقتول کو قاتل سربازار کہتے ھیں
وطن کی آن کی خاطر لٹادی دی جاں اھل جمعیت نے
مگر افسوس ھے ظالم ھمیں غدار کہتے ھیں
#فخر_ملت_مولانا#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
راحت اندوری مرحوم سے معذرت کے ساتھ ان کے شعر میں ترمیم کررھا ھوں۔
اٹھا شمشیر،دکھا اپنا ھنر کیا لے گا
یہ رھی جان، یہ گردن ھے یہ سر، کیا لے گا؟
صرف ایک تقریر اڑادے گی پرخچے تیرے
تو سمجھتا ھے کہ لیڈر ھے، یہ کر کیا لے گا۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
جمعیت کے ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل راحت اندوری کی زبان میں “مشتاق نظروں” کی طرف دیکھتے ھوئے یوں مخاطب ھیں۔
جاکے یہ کہہ دےکوئ شعلوں سے، چنگاری سے
پھول اس بار کھلے ھیں بڑی تیاری سے
مدتوں بعد یوں تبدیل ھوا ھے موسم
جیسے چھٹکارا ملا ھو کسی بیماری سے
#مولانا_کا_کڑوا_سچ
#کردارکےبادشاہ_مولانا
#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع