اپنے 73ویں یومِ پیدائش پر، ہمارے والد عمران خان اب بھی ایک ڈیتھ سیل میں قید ہیں - 790 دن اپنے خاندان، اپنے ڈاکٹروں اور اپنے وکلاء کے بغیر۔ مگر ان کا حوصلہ آج بھی قائم ہے۔
ہمیں ہار نہیں ماننی چاہیے، کیونکہ وہ کبھی ہار نہیں مانیں گے
Strongly condemn the shameful treatment of my aunts outside Adiala Jail last night. The Pakistani government and its handlers have crossed every moral and legal line.
Attacking unarmed women, dragging them on the road and unleashing police force in darkness is the behaviour of a regime terrified of accountability. This fascist approach will not break our family and it will not silence the nation standing for justice.
پنجاب پولیس کے غنڈوں کی عمران خان صاحب کی بہنوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ خود کو فرعون سمجھنے والے مرد سے مقابلہ نہیں کر پا رہے تو گھر کی عورتوں پر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان صاحب کی اہلیہ پر بھی گھٹیا ترین الزامات لگا کر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ یہ سب بزدلی اور بغیرتی کی اعلیٰ مثال ہے۔
آج ایک صوبائی وزیر مینا خان پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔ قومی اسمبلی کے رُکن شاہد خٹک اور باقی صوبائی و قومی اسمبلی ممبران کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ مُلک میں جمہوریت اور آئین و قانون کا جنازہ نکل چُکا ہے۔
یاد رکھنا کہ یہ سب لکھا جا رہا ہے۔ پھر نا کوئی عورت کارڈ کام آئےگا، نا جمہوری اقدار اور نا ہی اخلاقیات۔ اب یہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے اور حالات کو زبردستی اُس طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔
پہلی بیوی آپکی ہم عمر ہو
تاکہ بے تکلفی و بے ساختگی کی محفل جمے
دوسری بیوی
آپ سے عمر میں کافی چھوٹی ہو تاکہ
آپ اس کے ناز اٹھائیں
اور تیسری آپ سے عمر میں بڑی ہونی چاہئے
تاکہ کوئی آپکے نخرے برداشت کرنے والی بھی ہو۔ 💕
اس کے بعد زندگی میں سکون ہی سکون ہو گا۔
#سرائے_سخن