کپتانوں کے کپتان عمران خان کا بیٹوں کا ٹیسٹ میچ کے دوران مائکل ایتھرٹن سے انٹرویو،
والد کا پورٹریٹ دیکھ کر بیٹے جزباتی ہوگیے۔
چار سال سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
خان پر مظالم پر انٹرنینشل کرکٹ ،دنیائے کرکٹ کے بڑے نام کھل کر اب آواز بلند کر رہیں ہیں۔
جو بچے شہید ہوئے ابھی ان کو پیدا ہوئے چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے۔ اس سانحے میں جو کوتاہیاں سامنے آئیں وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
1- انتظامیہ کو بارہا بتایا گیا کہ ائرکنڈیشن سسٹم بار بار ٹرپ کررہا ہے لیکن کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔
2- ایمیرجینسی راستے مستقل بنیادوں پر بند تھے۔
3- ایمرجینسی فائر الارم سسٹم بند تھا۔
4- ڈیوٹی پر مکمل عملہ موجود نہیں تھا انچارج بھی چھٹی پر تھا۔
5- جب فائر برگیڈ اور ریسکیو کا عملہ پہنچا تو ہسپتال کے گیٹ بند تھے کسی نے فوری گیٹ نہیں کھولا جس سے ریسکیو جلدی پہنچ کر امدادی کاروائیاں کرتی۔
6- ہسپتال کی منیجمنٹ کوئی ریکارڈ پیش نہیں کر رہی، نہ اس کو سسپنڈ کیا گیا ہے،سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کرنا کافی نہیں سب سے پہلے تو اس ذمہ دار مینیجمنٹ کو ہٹانا چاہئے۔
شعیب شاہین
ناپاک فوج کی طرف سے یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ اس فوجی کی بیوی کو ہراساں کیا گیا تھا اس لیے اس نے غیرت میں ایسا کیا اس لیے یہ سب جائز ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر جب جب تم نے سویلینز کو ہراساں کیا تھا تو سویلنز کو بھی حق حاصل ہونا چاہئیے ان فوجیوں کو ٹھکانے لگانے کا۔
سرحد یونیورسٹی واقعے پر انصاف کے تمام تقاضوں کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ جہاں کرنل اسفندیار کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی، وہاں الٹا کرنل کی اہلیہ کی مدعیت میں نامور پروفیسر جدون اور 25 سے زائد معصوم طلباء و طالبات پر ہی جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کو لائحہ عمل بتاتے ہوئے یہ لالی پاپ دیتی رہی کہ "فوج کا قانون سخت ہے اور کرنل کے خلاف کارروائی کی جائے گی"، لیکن آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہی طلباء کے روشن مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔
یہ سراسر ناانصافی، ریاستی جبر اور ظلم کی انتہا ہے۔ کیا اس ملک میں بااثر افراد کا قانون الگ اور عام شہریوں کا الگ ہے؟ ہم اس انتقامی کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور پرچے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں...
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے نجی ہسپتال سے علاج کے معاملے کے بعد اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے بھی نجی ہسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔ جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے پیراوائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔
درخواست گزار محمد اسماعیل کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں اور انٹرنل بلیڈنگ کا سامنا ہے۔ دو ماہ میں انہیں دس مرتبہ ہسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ وکیل کے مطابق اس مرض کا مکمل علاج فی الحال پاکستان میں صرف شفاء ہسپتال میں ممکن ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بیماری کا علاج سرکاری ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے اور علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کرسکتے ہیں۔ وکیل نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی۔
درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اویس الطاف بخار اور دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور مناسب علاج معالجہ قیدی کا بنیادی حق ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہ ہونے کے باعث انہیں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔
محمد اسماعیل کے وکیل نے مزید بتایا کہ ان کے مؤکل نو سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کا ایک بھائی دبئی میں مقیم ہے اور سالوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ جیل حکام کو واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کرانے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے تینوں کیسز میں پیراوائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے جیل حکام کو نوٹس جاری کردیا اور کیسز کی سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔
Please support my petition to the UK government, if you are a British citizen or a UK Resident:
“Demand active UK diplomatic action to protect Imran Khan's human rights”.
https://t.co/wv8mKwIvRG
What is happening to @imrankhanPTI is an abuse on every conceivable level.
Passively monitoring the situation is plainly not enough. It is time for active diplomacy.
-An urgent letter to Foreign Secretary Ed Miliband
🚨🚨 بریکینگ نیوز : سید ذیشان عزیز کا پی ٹی آئی کو زبردست اور اہم مشورہ ۔!!!!🔥👏👏
پی ٹی آئی اب توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریگی, جو شائد پیر تک لگے گی پیر کو شائد سماعت ہو۔ اس پر ۔ لیکن پی ٹی آئی صرف ایک چیز کرے ۔ عدالت کے سامنے PTI صرف ایک سوال کرے ۔ اگر یہ حکومت اپنی مرضی منواتی ہے ۔کہ ہم پمز میں ہی خان کا علاج کروائیں گے ۔ کوئی عدالتی آرڈر نہیں مانیں گے۔ تو ہمیں یہ حکومت لکھ کر دیدے کہ اگر خدانخواستہ عمران خان کی صحت کو کچھ ہو گیا ۔ تو اسکا ذمہ دار شہباز شریف ہوگا, اسٹیبلشمنٹ ہوگی ۔ ن لیگ کا ہر وہ شخص ذمہ دار ہوگا, جو اس وقت یہ کہہ رہا ہے کہ ۔عمران خان کو شفاء ہسپتال شفٹ نہیں کیا جائیگا ۔ صرف یہ ایک سوال کریں ۔ حکومت کے پرخچے اڑ جائینگے ۔ یہ اپنے پاؤں چھوڑ کر بھاگ جائینگے ۔ انکا لیڈر جتنا دلیر ہے, جتنے خود یہ دلیر ہیں ۔ پی ٹی آئی صرف سپریم کورٹ میں حکومت سے یہ حلف نامہ لے لے کہ آپ اپنی کسٹڈی میں عمران خان کا کرالیں علاج ۔ لیکن حلف نامہ دیں کہ اگر طبیعت تھوڑی سی بھی خراب ہوگئی, تو شہباز شریف ذمہ دار ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ ذمہ دار ہوگی ۔ یہ تمام لوگ ذمہ دار ہونگے ۔ ہمیں لکھ کر دیں کہ اگر خان کی طبیعت کو ہلکا سا بھی کچھ ہوا تو, ۔ ہم ذمہ دار ہیں ۔ ہمیں 302 پر چڑھا دیں پھر آپ ۔!!!🔥🔥🔥🚨🚨
عمران خان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے سے انکار سے متعلق رپورٹس جھوٹی ہیں۔ عمران خان شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کروانے کے لیے تیار تھے۔ — ڈاکٹر عظمٰی خان
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔
سائفر لیک معاملے کو دبانے کے لیے ایک بار پھر سے عمران خان کے ساتھ مذاکرات اور ڈیل کی خبریں نشر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ دھوکہ نہ کھائیں، نشانہ سیدھا رکھیں۔
لونڈے لپاڑے، فیک ارسطو اور ناکام بھانڈ کو اطلاع دیں کہ سائفر بالکل exist کرتا ہے۔ سائفر سے واضح ہو گیا کہ ان حکمرانوں کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں، کیونکہ یہ عوامی مینڈیٹ سے نہیں آئے۔