تو پھر بلیو پاسپورٹ لینے کی اتنی خواہش کیوں؟ یہ سارے سمجھتے ہیں عوام چغد ہے۔۔۔ بلکہ ساروں کے لیے ہی بلیو پاسپورٹ ختم کر دیں یا پھر ساروں کو بلیو ہی دے دیں۔۔ اک پاسے لگو!
کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے 😢
لوگوں نے پاکستان کے لیے اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے وہ قربانیاں دی ہیں جو ان پر واجب نہیں تھیں ۔۔۔۔سلام ہے ان سب لوگوں پر کیوں حق کے ساتھ کھڑے رہے
عاصم منیر اور اس کے پیشاب نے برطانیہ میں منہ کی کھانے کے بعد ایک دفعہ پھر اپنی پٹاری سے لال ٹوپی والا بندر نکال کر تتے توے پر ناچنے کے لئے لانچ کیا ہے۔ مرچیں تو بہت زور کی لگی ہوئی ہیں!
بجلی کے بل اور ٹیکسوں میں اضافے اس لیے ہورہے کہ آپ قرضے واپس کریں خود یہ جہاز خرید رہے ، افسران کو نئی گاڑیاں دے رہے اور ججز کو چالیس چالیس لاکھ تنخواہیں اس لیے دی جارہی ہیں کہ وہ ان کے حکم پر جھوٹے پرچوں میں آپ لوگوں کو سزائیں سنائیں ۔
عمران خان کو انہوں نے جیل میں بند کر رکھا ہے ان کا اگلا ارادہ ان کو ختم کرنے کا ہے ،ان سے برداشت نہیں ہورہا کہ عمران خان کا نام کیوں ختم نہیں ہورہا ، اگر آج بھی ہم نہ نکلے اور عمران خان کو باہر نہ نکالا تو یہ اسے ختم کر دیں گے ۔
ہم کس چیز کا انتظار کررہے ہیں؟ عمران خان پر اس سے برا وقت نہیں آئے گا۔ ہمیں فوج کے سپاہی روک کے کہتے ہیں ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں آپ کچھ کریں ، اڈیالہ کے باہر کھڑے پولیس کے سپاہی کہتے ہیں آپا آپ کچھ کریں۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#آزادی_یا_شہادت
رانا صاحب کی یہ پرانی عادت ہے
ماضی میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج میں مریض مر گئے تو ڈاکٹرز پر مقدمات ہوئے۔
حکومت سے صلح ہوئی تو ایک صحافی نے سوال پوچھا جو موتیں ہوئیں انکا ذمہ دار کون ہے؟
اس دن رانا صاحب نے تاریخی جواب دیا کہ تمام اموات کا ذمہ دار میڈیا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان گزشتہ 33 ماہ سے تقریباً مکمل تنہائی میں ایک چھوٹی، بغیر کھڑکی والے سیل میں قید ہیں، جہاں 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی کی جاتی ہے۔ اکثر اوقات مسلسل 2 ہفتوں سے بھی زائد عرصے تک نہ انہیں ورزش کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی انسانی رابطے کی۔ یہ صورتحال 'منڈیلا رولز' کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میں پاکستان سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ان کے لیے انسانی اور شائستہ حالاتِ زندگی فوری بحال کیے جائیں۔ یو این اسپیشل رپورٹر ٹارچر،ایلس جے ایڈورڈز
@DrAliceJEdwards
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
یہ الیکشن آزاد کشمیر کا نہیں پنجاب کا الیکشن تھا، 14 ہزار پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے، 10 بسیں دی گئیں، مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ آگ کے ساتھ کیوں کھیلا جا رہا ہے کون ہے جو یہ کر رہا ہے، ایثار رانا
صورتحال کی سنگینی سمجھئیے۔ محترم کو اصل بات پتہ ہے۔ پھر بھی جانے کیا مجبوری رہی کہ پاکستانی نوجوان اور جنرلز کے درمیان جب چننا پڑا تو یہ ہمیشہ جنرلز کی طرف جا کھڑے ہوئے۔ نوجوانوں پر ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے۔
اب تک کی جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں اُن سے آزاد کشمیر کے غیور، بہادر اور غیرتمند عوام میں غم و غصے کی لہر واضح ہے۔ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ نہ ہونے کے برابر۔ الیکشن کا بڑی سطح پر عوامی بائیکاٹ اور مسلسل احتجاج۔ حقوق سلبی پر عوامی ردِ عمل مزید بڑھے گا۔
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ پر جان لیوا حملہ ہوا
عالیہ حمزہ معمول کے مطابق غسل خانے سے واپس آ رہی تھیں کہ نازیہ خواجہ نامی کوٹ لکھپت جیل کی ایک قیدی نے آٹھ سے دس ساتھی خواتین کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور ان کا گلا پکڑ لیا اس دوران صنم جاوید اور فلک جاوید بھی وہاں موجود تھیں جنہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا
حملہ آور خاتون نون لیگ کے نعرے لگاتی رہی اور مبینہ طور پر یہ کہتی رہی کہ میرے آئی جی کے ساتھ تعلقات ہیں
نازیہ خواجہ نامی یہ خاتون منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں جیل کی سزا کاٹ رہی ہے
آٹھ سے دس ساتھی خواتین کے ہمراہ حملے کے دوران نون لیگ زندہ باد کے نعرے لگانے اور جیل انتظامیہ پر اثر و رسوخ کا دعویٰ کرنے والی اس خاتون کے خلاف جیل انتظامیہ کو اپنی مجرمانہ غفلت پر جواب دینا چاہیے
یہ تمام صورتحال ایک سنگین سوال کو جنم دیتی ہے کہ عالیہ حمزہ صنم جاوید فلک جاوید اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ان خواتین کو مسلسل مبینہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کے پیچھے آخر کون ہے
وہی طاقتور عناصر جو ماضی میں خواتین کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے رہے ہیں اور جنہیں یہ گوارا نہیں کہ پنجاب میں یہ باہمت خواتین سر اٹھا کر اپنے سیاسی مؤقف کے لیے آواز بلند کریں