What terrifies the Field Marshal about Imran Khan is ‘legitimacy’.
Imran is the only truly legitimate representative of the people of Pakistan. The Field Marshal does not even represent his own institution: he retired a few days before his appointment as army chief and has been acting out of that insecurity ever since.
It is as simple as that.
سب حیران کیوں ہیں؟
بھئی وزیراعظم نے جس خاندان کے نمائندوں کے ساتھ فخریہ انداز میں تصویر لگائی ہے، ظاہر ہے ان کے لیے یہ فخر کی بات ہوگی۔ لیکن ہم نے تو ساری عمر یہاں یہی سنا کہ یہودی ایجنٹ عمران خان ہے۔
جب سے رجیم چینج ہوا، ہم نے کیا کیا نہیں دیکھا؟ اسرائیلی پارلیمنٹ کی لائیو کوریج، نیتن یاہو کی تصاویر کو پاکستانی میڈیا میں نارمل کرنا، غزہ کے نام نہاد ’’پیس بورڈ‘‘ میں شامل ہونا، پاکستان سے وفود کا اسرائیل جانا، اسلام آباد میں سیمینارز اور مختلف پلیٹ فارمز پر اسرائیل سے متعلق پروگرام یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے
غزہ کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مقدمے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ سینیٹر مشتاق احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، فلسطین کا جھنڈا اٹھانے پر نوجوانوں کو سٹیڈیم سے نکال کر گرفتار کرنے کے واقعات یہ سب بھی اسی دور میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے
اور اب ایک ایسے خاندان کے نمائندوں سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے
کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی بھئی پہلے تو یہ بتائے کہ ابتک پاکستان کتنی سرمایہ کاری آپ لائے ہیں۔۔ ٹھیک ہے چلو یہ ملاقات سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی ۔لیکن تھوڑی سی تاریخ بھی کھنگال لیں۔ Rothschild خاندان صہیونی منصوبے اور یہودی آبادکاری میں فلسطینیوں کو اپنی سر زمین سے در بدر کرنے میں کتنا گھناؤنا کردار رہا ہے ۔اقر اب بھی اسرائیل اس خاندان کیلئے سب سے پہلے ہیں
ساری عمر یہودی ایجنٹ کا نعرہ عمران خان کے خلاف لگایا گیا۔ آج ذرا یہ بھی پوچھ لیجیے کہ اسرائیل اور صہیونی طاقتوں کے ساتھ عملی رابطے اور تعلقات کس کے دور میں اور کس سطح پر نظر ا رہے ہیں؟
پھر فیصلہ کیجیے کہ یہودی ایجنٹ کا لیبل بانٹنے والے خود اپنے لیے کون سا معیار رکھتے ہیں۔
فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والا مجرم، اور اسرائیل سے متعلق شخصیات و اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والا قابلِ فخر کیوں۔۔؟
Pakistan PM (a country that doesn't recognise Israel) meeting the Rothschilds (a family which founded Israel).
Many thanks to Field Marshal Asim Munir and the Pakistan Army.
قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شریک تمام سیاست دانوں نے کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت کرنے پر اتفاق کیا۔ تمام کارروائی کی نگرانی پارلیمنٹ کرے گی۔ رانا ثناء اللہ (7 جولائی 2022)
پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو واپس کون لایا؟ 'ہم نے موجودہ افغان حکومت (افغان طالبان) کی درخواست پر نان اسٹیٹ ایکٹرز (ٹی ٹی پی) سے بات چیت شروع کی'۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی 5 جنوری 2022 کو کی گئی پریس کانفرنس میں گفتگو
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026.
پاکستان پہلے نمبر پر ہے
شام لیبیا عراق افغانستان اسرائیل انڈیا سے بھی بدترین حالات ہیں
جب تمام فورسز انٹیلیجنس اداروں کو ذاتی سیاسی انتقامی ایجنڈے اور جعلی نظام کےتحفظ پر لگائیں گےتو نتیجہ یہی ہے پاکستان کے چاروں اطراف دہشتگردی ختم لیکن یہاں نہیں
”ہر شہری کو عاصم منیر سے سوال پوچھنا چاہیئے کہ کیا اس نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں پوری کی ہیں ؟ ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا یا اضافہ ہوا ؟ اپنے اختیارات سے باہر جا کر ملک کے جن شعبوں اور محکموں میں ہاتھ ڈالا، ان کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔ پاکستانی معیشت کی اتنی زیادہ بری حالت تو سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی نہیں ہوئی۔ سرمایہ کاری لانے کا دعوی کیا، کوئی سرمایہ نہ آ سکی۔ 4 سال سے ملک میں سیاسی استحکام ایک خواب بن چکا ہے۔ عدالتوں کی حالت زار آج پوری قوم کے سامنے ہے۔“ عمران ریاض خان
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
ہم نے آپریشن کر کے ان کو اپنے علاقوں سے نکالا تو ہماری MIاور ISI انہیں واپس لے آئی اور کہا یہ گُڈ طالبان ہیں آپ ان کا استعمال کرو
میں نے تب بھی کمیٹی میں کہا تھا اگر یہ طالبان اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ انہیں اپنی فوج میں بھرتی کر کے کشمیر میں لڑا لو
ماضی میں علی امین کا دیا گیا بیان