🚨 REMINDER: Don’t Miss the ATOK Airdrop! 🚨
🎮 Win your share of $40,000 $ATOK (~$400) in our exciting Mini-Game Airdrop!
📆 Campaign Period: Apr 1st - 15th
🤖 How to Join:
🔹 Open Atok App → Missions → Visit Website
📢 Engage with us on X (Twitter):
1️⃣ Follow https://t.co/6q0AQGc9Ll
2️⃣ Retweet this post with your wallet address
3️⃣ Tag 3 friends to join the fun
💬 And on Telegram:
1️⃣ Follow us on https://t.co/nFws3c6AMp
2️⃣ Comment with your wallet address
3️⃣ Tag 3 friends to join the game
🏆 10 Lucky Winners per Channel will receive 2,000 $ATOK each!
Let’s go, ATOK fam! 💪 Don’t miss this easy chance to win free tokens!
#Airdrop #CryptoGiveaway #ATOK #MiniGame #Web3
Win Your Share of $40.000 $ATOK (~$400) in Our Mini-Game Airdrop 🎉
🤔 But…How to join?
📲 Simply turn-on [Atok App > Missions -> Visit Website] 📲
💵 Interact with Atok X (Twitter):
1️⃣ Follow Atok Channel on X.
2️⃣ Retweet this post with [your wallet address]
3️⃣ Tag 3 friends to invite them to join!
💵 Interact with with Atok Telegram Channel:
1️⃣ Follow Atok telegram Channel
2️⃣ Comment on the post with [your wallet address]
3️⃣ Tag 3 friends to invite them to join!
Note that: *10 lucky winners* - selected from each [channel] will be rewarded with 2,000 $ATOK!
The more you engage, the higher your chances of winning! Don't miss out on this exciting opportunity to get your hands on some $ATOK!
📅 From Apr 1st - 15th
#Airdrop #Giveaway #Crypto #ATOK #JoinNow
For in-ap Ads:
1. X: https://t.co/6q0AQGc9Ll
2. Telegram: https://t.co/nFws3c6AMp
مجھے ایک سینیر پٹواری نے چیلنج کیا ہے کہ ان تین شہزادوں کی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اب پہلے جیسے نہیں رہیں _
اس سروے کے نتیجے سے پتا چل جائے گا کہ مقبولیت بڑھی یا کم ہوئی۔
#حقیقی_آزادی_کا_سال2025 | @TeamPakPower
"جماعتِ اسلامی سمیت جو جماعتیں اپنے ملک میں جاری ظلم پر نہیں بولتیں، وہ غزہ مارچ صرف اپنے سیاسی فائدے کے لیے کرتی ہیں۔"صدیق جان
@SdqJaan#JamaatIslami
Link : https://t.co/ItK9fr0l7Q
حافظ نعیم الرحمان کو جیل میں قید لیڈر سے اسرائیل مخالف گارنٹی چاہیئے مگر حکومت میں بٹھائے جوبائیڈن کے چمچوں اور اسٹیبلشمنٹ سے وہ مطمئن ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی لگاتار خدمت میں جماعت اسلامی کا بھی اپنا الگ ہی مقام ہے۔
26 نومبر کو جدید امریکی اور برطانوی اسلحہ سے لیس محافظوں کے سنائپرز نے تاک تاک کر نہتے، معصوم، بیگناہ، بھوکے پیاسے مظاہرین کے نشانے لے کر اپنی برتری ثابت کی۔
#گولی_کیوں_چلائی
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام:
“مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 اس قوم کے لیے حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
رجیم چینج کے بعد ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نیا سرمایہ آنے کی بجائے صنعت کار اپنی انویسٹمنٹ نکال رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت کی اس بدحالی کی 4 بنیادی وجوہات ہیں:
نمبر 1: ملک میں قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کا خاتمہ
ملٹری کورٹس سے سویلینز / سیاسی قیدیوں کو سزائیں دلوا کر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا منہ کالا کیا ہے- ملٹری کورٹس اور “آئینی بنچ” بنا کر ملک سے رول آف لأ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس سے ہمارا “جی ایس پی پلس” سٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے- ملٹری کورٹس کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب بیرونی سرمایہ کاری ایک خواب ہے کیونکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھایا جا چکا ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ دباؤ کے ذریعے وقتی طور پر دکھاوے کا استحکام تو لا سکتے ہیں مگر جب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ایک ہی بنیادی ستون ہے جو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہے۔
نمبر 2: انٹرنیٹ کی بندش
تحریک انصاف کو کرش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا ہے۔ مستقبل IT کا ہے لیکن آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ حکومت نے انٹرنیٹ میں خلل پیدا کر کے نوجوانوں کے روزگار کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر کر دیا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے- وہ سارے کاروبار جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے-
نمبر 3 : سیاسی عدم استحکام
ایجینسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فراڈ الیکشن اور جھوٹ ، فریب پر کھڑے جعلی نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔
نمبر 4: دہشت گردی
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشتگردی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میں بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ آپ کو دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے دیرپا سیاسی حل نکالنا ہو گا، ورنہ دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناممکن ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دھڑلے سے جھوٹ بولا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی تجویز خود جنرل باجوہ نے تحریک انصاف دور میں کابینہ کے سامنے پیش کی تھی جس پر مراد سعید ، نور الحق قادری اور قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم دیرپا حل کی طرف نہیں لے جائے گا۔ کابینہ کے بعد اس وقت کی اپوزیشن کو بھی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کیطرف سے بریفنگ دی گئی تھی ۔ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد PDM حکومت کو بریف کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2021 میں جنرل فیض کا تبادلہ ہو گیا اور اسکے بعد کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا نہ اس پر ہمارے دور میں عمل ہوا۔
اگر آبادکاری سے ہی دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو مغربی بارڈر کے پار بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقل حل کے لیے اپنی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا ناصرف اعتراف کرنا ہو گا بلکہ تصحیح بھی کرنا ہو گی۔
آئی ایس پی آر کو جواب تو ملٹری کورٹس پر بھی دینا چاہیے، کون سا قانون آپ کو جج ، جیوری اور خود ہی جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے؟ ملٹری کورٹس کے ٹرائل شفافیت پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے دو مطالبات بالکل جائز اور فوری عمل درآمد کے لئے ہیں- 26ویں آئینی ترمیم کو ہم نے اس لیے فوری مطالبات کا حصہ نہیں بنایا کیونکہ وہ طویل کام ہے۔
حکومت اگر مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیتی تو ہماری ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم پورے زور سے جاری رہے گی-
نواز شریف اب صرف سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے-
1/2