بالخصوص اس تمام معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرانے میں سندھ کے صدر جناب حلیم عادل شیخ نے جس ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں
انہوں نے اور جناب سلمان اکرم راجہ نے بھرے مجمع میں پوری صحافی برادری سے معذرت کی جس پر ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے اس مثبت طرز عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
اسلام اباد ہائی کورٹ کی عدالتی کاروائی حیرت انگیز ہے پورے ملک کے آئی جی صاحبان کو طلب کر لیا گیا ہے آئین پاکستان کو کھلواڑ بنا دیا گیا ہے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے آئین کا ارٹیکل 19 آواز بلند کرنے کی اجازت دیتا ہے، ہم ہر صورت اسلام آباد آئیں گے آئین ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ اپنے حق کیلئے پُرامن احتجاج کرے
جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ
ڈوگر کورٹ کا چیف جسٹس وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا حلف تو غور سے پڑھتا ہے، مگر اپنے حلف کو اس نے شائد سمجھا نہیں
ایسے ہی ججوں، ایسی ہی عدالتوں کے خلاف تو اب #فیصلہ_عوامی_طاقت_سے_ہوگا
As the CJ IHC brought up the oath of CM KP, here is a reminder for him and his masters……… oath of a Judge and Armed forces, which is being violated every single day!
Today the CJIHC was doing someone’s bidding and yesterday DG ISPR called all newspapers owners and announced creation of provinces…..
آو بچوں اوتھ اوتھ کھیلتے ہیں 🤔
اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے دائرہ اختیار سے آگے بڑھ کر پی ٹی آئی 27 ستمبر لانگ مارچ کیس سن رہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کیس سن سکتی ہے نا ہی خیبر پختونخوا حکومت کو کوئی حکم جاری کرسکتی ہے، ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل خان
ایوب خان کو سات آٹھ سال مقبولیت کے ملے پھر برا وقت آیا۔ ضیاءالحق مرنے تک اس طرح غیر مقبول تھا ہی نہیں۔ ایک بڑے مذہبی طبقے کی حمایت اسے میسر رہی۔ مشرف کو چھ سال کھل کر حکومت کرنے کا موقع ملا۔ عاصم منیر لگاتار چار سال سے ذلت و رسوائی میں گھرا ہوا ہے۔ اسکا اقتدار اپنی طبعی عمر پوری کرچکا۔ اب اسے جانا ہے۔
علی امین گانڈاپور کو جب عمران نے بطور وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا تو اس وقت بھی وہ نااہل تھے بھڑوت کو جب پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا تو عمران اس وقت بھی نااہل اور سزا یافتہ تھے یہ دونوں نامزدگیاں درست اور سہیل آفریدی کی نامزدگی غلط۔ کیسے بھڑوت صاحب
بہت ہی عبرت ناک انجام ہوگا ان جیسوں کا۔
رانہ ثنا نے تو کوئی ثبوت دیا نہیں PTI پر الزام کا مگر ان کے خلاف ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے ثبوت حاضر ہیں اس وڈیو میں! جسٹس نجفی کی رپورٹ میں بھی تفصیلات ہیں!
27 ستمبر سے اتنا ڈر کیوں؟
#فیصلہ_عوامی_طاقت_سے_ہوگا#LongMarchOnSeptember27th
مبشر مقصود اعوان کی والدہ کو پولیس اہلکار دھکے مارتا ہوا بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا کمرے سے نکال رہا ہے کہ ہمیں یہاں چوری کرنے دو
پنجاب میں ظلم کی بدترین مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، پنجاب والو اپنی عزت کی خاطر نکلو !!
78 فیصد بارڈر (بھارت اور افغانستان) غیر محفوظ ہے۔ اور 47 فیصد علاقہ (بلوچستان اور فاٹا) حالت جنگ میں ہے۔ معیشت برباد ہے۔ انڈسٹری چھٹی ہے۔ کسان فاقوں پر مجبور ہے۔ سرکاری ملازمین کو دینے کےلیے تنخوائیں نہیں ہیں۔
لیکن ہم تحریک انصاف والوں کی پکڑ دھکڑ میں لگے ہوئے ہیں 👌
ایک بار پھر مریم گنڈا بردار فورسز نے ظلم و جبر کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔۔
کس نے حق دیا ہے اس میل پولیس اہلکار کو کہ وہ ایک گھر کی ماں پر ہاتھ اٹھائے ۔۔۔ کدھر ہے مریم نواز کی ریڈ لائن ۔۔۔ کس نے حق دیا ہے پنجاب پولیس کو کہ وہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرے قانون کے محافظوں کی جانب سے خواتین کی تذلیل اور گھروں کی حرمت کی پامالی ناقابل قبول ہے۔۔
بے شرمی کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے
آزادی لینی ہے؟ تو پہلے تسلیم کرو کہ آزاد نہیں غلام ہو۔ پھر اس غلامی سے نفرت کرو۔ پھر غلام بنانے والوں سے نفرت کرو۔ زنجیروں سے محبت ہوجائے تو آزادی نہیں ملتی۔
تصویر کو زوم کرکے مت دیکھیے۔ آنکھیں نکال دی گئی ہیں۔ اب اندازہ لگانے میں کوئی مشکل نہیں ہوسکتی کہ اس قدر وحشی ، اس قدر پاگل کون ہوسکتے ہیں۔ یہ نامعلوموں کا نہیں معلوموں کا کام ہے۔
"آج منگل کا دن ہے ہم اپریل 2025 سے یہاں آرہے ہماری ملاقاتیں بند ہیں کبھی وقتاً فوقتاً کوئی ملاقات کروا دیتے ہیں، جیل ٹرائل جب چل رہا تھا تو ملاقات ہوجاتی تھی لیکن اکتوبر سے عمران خان کو مکمل قید تنہائی میں ڈالا گیا ،عمران خان اس وقت مکمل فٹ تھے کوئی بیماری نہیں تھی،جب قید تنہائی میں ڈالا گیا تو پھر ان کی آنکھ میں کلاٹ آیا ۔ جیل میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ایجینسیاں مانیٹر کررہی ہوتیں وہ جانتے تھے عمران خان کو نظر نہیں آرہا لیکن جان بوجھ کر علاج میں تاخیر کی گئی۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ عمران خان نہیں ٹوٹ رہا ملک چھوڑ کے نہیں جارہا تو اس کو قید تنہائی میں ڈالا گیا"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
The Pakistan Medical and Dental Council's decision requiring Afghan medical students in Pakistan to return to Afghanistan is patently discriminatory and arbitrary in nature. The consequences of this decision are especially severe for female students, many of whom have already been denied access to higher education in Afghanistan amid Taliban’s ongoing gender persecution and now face the prospect of losing one of the few remaining pathways to pursue their education and profession. Many of these students will have devoted years studying medicine, only to see their education brought to an abrupt and unjustifiable end, with little prospect of being able to resume their studies elsewhere.
Pakistan has obligations under international human rights law to uphold the right to education without discrimination on the basis of national origin. Amnesty International urges the authorities to adopt a humane and practical solution that allows Afghan students, including women and girls, to complete their education.