Hardcore Imranist | The last Hope of new Pak | Staunch Insafian since 2013
Retweets Are Not necessarily endorsements. Info Secretary Insaf Youth Wing dst Skardu
This particular period of authoritarianism will be remembered for the bravery and sacrifices of Pakistani women… Mahrang Baloch, Imaan Haazir, Dr Yasmin Rashid… and many others
این متن، بازتاب صدای ملتی است که عزت و استقلال خود را با هیچ تهدید و فشاری معامله نکرد.
آنچه امروز به ثبت رسید، نتیجه استقامت ملی، عقلانیت سیاسی و دیپلماسی مسئولانه بود.
دنیا کے اسٹیج پر اس وقت دو ہی فاشسٹ موجود ہیں: ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرا عاصم منیر۔ دونوں ایک دوسرے کی دن رات تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔
آج سکردو کی فلائٹ پر جاتے ہوئے اسد قیصر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں تک صرف اس لیے بند رکھی گئی کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما انتخابی مہم کے لیے نہ جا سکے۔ جنید اکبر کو بھی انتخابی مہم کے علاقے سے نکال دیا گیا۔
عاصم منیر، تم ایک فاشسٹ ہو۔ اور فاشسٹ، چاہے وہ مسولینی ہو، رومانیہ کا چاؤشیسکو ہو یا ہٹلر، ان سب کا انجام تاریخ میں درج ہے۔
جب اپنی ہی عوام اور اپنی ہی فوج کسی کے خلاف ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں پاکستان کے مقتدر سابق بیوروکریٹ طارق کھوسہ نے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آزادی اظہار پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا نہایت درد مندی سے نقشہ کھینچا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت ایک ایسا نمونہ ابھر رہا ہے جہاں شہریوں کی زبانوں پر تالے ڈالنے اور ان کے پرامن احتجاج، تنظیم سازی اور آزادی اظہار رائے کے حقوق کو مسلسل سلب کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں وہ اسلام آباد کے وکیل جوڑے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مثال دیتے ہیں جنہیں محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر پیکا (PECA) جیسے سخت قانون کے تحت 17 سال کی کڑی سزا سنائی گئی۔
طارق کھوسہ اس سزا کے پیچھے چھپے اصل محرکات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس جوڑے کا اصل "جرم" سوشل میڈیا کا استعمال نہیں بلکہ لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کرنا اور جبری گمشدگیوں جیسے غیر انسانی عمل کے خلاف مہم چلانا تھا۔
ان کے نزدیک اس سزا کے ذریعے ریاست کی جانب سے عوام کو یہ واضح اور خوفناک پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست کی انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں، جبری گمشدگیوں یا انسانی حقوق اور قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی پر کوئی بھی فرد سوال اٹھانے کی جرات نہ کرے۔ ان کی یہ تحریر دراصل ایک آئینہ ہے جو دکھاتا ہے کہ کس طرح اختلاف رائے کو جرم بنا کر بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔
جہاں آج پاکستان کےباکمال کردار کو دیکھکر فخر اور خوشی ہو رہی وہاں امریکہ کےسامنے مذاکرات میز پر بیٹھےایران کو دیکھ کر بھی فخر اور خوشی ہو رہی،کیا قوم،کیا ملک،جینا علی کی طرح اور مرنا حسین کی طرح،سوچئیے جو رجیم چینج کرنےآئےتھےوہ اسی رجیم کو مان کر اسی رجیم سےمذاکرات کر رہے ہیں۔۔
آواز اٹھائیں 🚨
رپورٹس کے مطابق اعجاز چوہدری کے گردے صرف تقریباً 20٪ کام کر رہے ہیں، وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے اور صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
اعجاز چوہدری کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے جتنا بھی ممکن ہو رہائی کے لئے آواز اٹھائیں
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں۔۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے۔۔
نظر چرا کے چلے۔۔ جسم و جاں بچا کے چلے !!
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں؟ کس سے منصفی چاہیں؟
Images that should haunt the world. Funeral graves of 165 young school girls killed in Israeli/US bombing that hit a school in Mina in Iran. Far away from Trumpian comfort in Mar-a-Lago. SAY NO TO WAR!. #StopTheWar