وہ شہید بیٹی اپنا پلو سنبھالے اور چادر درست کرتے ہوئے پورے وقار کے ساتھ اپنی مقتل گاہ میں خود چل کر گئی اور اپنے حصے کی گولیوں کا انتظار کرنے لگے وہ ذرا سا بھی نہیں گڑگڑائی کسی کے پاؤں نہیں پکڑے کیونکہ ...
وہ جانتی تھی کہ ان بیغیرت ہجڑوں کی جھوٹی مردانگی کی تسکین اس کے بےگناہ خون سے کم کسی چیز سے ممکن نہیں ...
وقار کے ساتھ موت کے گھاٹ تک گئی، گڑگڑائی نہ زندگی کی بھیک مانگی ، جلادوں سے گھبرائی نہیں ، متانت سے بولی “ ہاتھ مت لگاؤ صرف گولی کی اجازت ہے” ۔۔۔ شیتل بھی بہادر تھی اور اس کا انتخاب “ زرک “ بھی ۔۔
اسرائیل نے تہران میں تباہی مچائی ہوئی ہے
ایران اکیلا سپر پاور امریکہ، اسرائیل اور 40 ممالک کے خلاف جنگ کررہا ہے
مسلمان حکمرانوں جاگ جاو ، اب نہیں تو کب ؟
🔴 ایرانی صدر مسعود پزیشکیان:
▪️اسرائیل اپنی اس بے وقوفانہ جارحیت کی قیمت پچھتاوے کے ساتھ چکائے گا۔
▪️ہر کمانڈر کے ہاتھ سے گرنے والا پرچم، ایک باصلاحیت نیا کمانڈر اٹھائے گا اور میدانِ جنگ میں اترے گا۔